Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا ایس آئی آر ہندوستانی شہریت کی جانچ ہے؟

Updated: June 03, 2026, 11:26 AM IST | Naeem ur Rehman Shakeel Ahmed Sawira | Malegaon

ایس آئی آر ووٹر لسٹ کی ایک خصوصی اور جامع جانچ ہے جس کا مقصد انتخابی فہرست کو درست اور شفاف بنانا ہوتا ہے۔

SIR Maharashtra.Photo:INN
ایس آئی آر مہاراشٹر۔ تصویر:آئی این این
ہندوستانی شہریت (انڈین سٹیزن شپ) سے مراد ایک قانونی حیثیت ہے جو کسی فرد کو آئین ہند کے تحت ریاست کے مکمل اور مساوی رکن کا درجہ دیتی ہے ۔ اس کے ذریعے شہری کو ملک میں رہنے ، ووٹ دینے اور بنیادی حقوق حاصل کرنے کا قانونی حق ملتا ہے ۔ہندوستانی شہریت کا تعین آئین ہند کے آرٹیکل ۵؍تا۱۱؍ کے تحت کیا جاتا ہے ۔ شہریت ایکٹ  ۱۹۵۵ء  شہریت کے حصول اور خاتمے کے ضوابط اور قواعد طے کرتا ہے ۔
شہریت سے متعلق معاملات، جن میں شہریت سے محرومی شامل ہے، ’’شہریت ایکٹ ۱۹۵۵ء‘‘ کے تحت آتے ہیں۔ اس قانون کے تحت کسی کو غیر ملکی قرار دینے یا اس شخص کی شہریت منسوخ کرنے کا اختیار مرکزی وزارتِ داخلہ کو ہے۔ سپریم کورٹ میں ایس آئی آر سے متعلق سماعتوں کے دوران جب یہ سوال زیر بحث آیا کہ کیا ایس آئی آر شہریت کی جانچ ہے ؟ تو الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ اگرچہ اس کے پاس شہریت طے کرنے کا اختیار نہیں، لیکن آئین کے آرٹیکل ۳۲۶؍ کے تحت اسے شہریت کی ’’تصدیق‘‘ کا حق حاصل ہے کیونکہ اس آرٹیکل کے مطابق ۱۸؍ سال سے زائد عمر کے ہندوستانی شہری بطور ووٹر اپنا اندراج کرا سکتے ہیں۔ گزشتہ سال جولائی میں اپنے جوابی حلف نامے میں الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ایس آئی آر میں اگر کوئی ووٹر لسٹ میں اندراج کے لئے نااہل قرار دیا جاتا ہے تو اس بنیاد پر اس کی شہریت ختم نہیں ہوگی ۔
بھارت میں شہریت سےمتعلق تمام اختیارات شہریت قانون ۱۹۵۵ء کے تحت طے ہوتے ہیں ۔ کسی شخص کو غیر ملکی قرار دینا یا اس کی شہریت منسوخ کرنا مرکزی وزارتِ داخلہ کا اختیار ہے۔
ایس آئی آر ووٹر لسٹ کی ایک خصوصی اور جامع جانچ ہے جس کا مقصد انتخابی فہرست کو درست اور شفاف بنانا ہوتا ہے ۔ اس عمل کے دوران بعض اوقات شہریت سے متعلق دستاویزات بھی دیکھی  جاتی ہیں، مگر اس کا مقصد صرف تصدیق ہوتا ہے، فیصلہ نہیں۔
 ہندوستانی شہریت ایک قانونی حیثیت ہے جس کے تحت فرد کو ملک کے آئینی حقوق اور ذمے داریاں حاصل ہوتی ہیں ۔ متعلقہ قانون یہ واضح کرتا ہے کہ کوئی شخص درج ذیل طریقوں سے بھارتی شہری بن سکتا ہے:
(۱) پیدائش:اگر کوئی شخص بھارت میں پیدا ہوتا ہے تو مخصوص قوانین کے مطابق اسے بھارتی شہریت مل سکتی ہے۔(قانون وقت کے ساتھ بدلا ہے، جیسے ۱۹۸۷ء اور ۲۰۰۴ء کے بعد والدین کی شرط شامل ہوئی ہے۔)
(۲) نسب : اگر کوئی شخص بھارت کے باہر پیدا ہو لیکن اس کے والدین میں سے کوئی بھارتی شہری ہو، تو وہ نسب کی بنیاد پر شہریت حاصل کر سکتا ہے۔
(۳) رجسٹریشن : کچھ مخصوص افراد (جیسے بھارتی نژاد لوگ یا بھارتی شہری سے شادی کرنے والے) حکومت کے پاس درخواست دے کر رجسٹریشن کے ذریعے شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔
(۴) نیچرلائزیشن : کوئی غیر ملکی شخص اگر ایک مقررہ مدت تک بھارت میں قانونی طور پر رہے اور شرائط پوری کرے، تو وہ بھی درخواست دے کر شہریت حاصل کر سکتا ہے۔
(۵) علاقے کا انضمام (انکارپوریشن آف ٹیریٹری):  اگر کوئی نیا علاقہ بھارت میں شامل ہو جائے، تو وہاں کے رہنے والے لوگوں کو خود بخود بھارتی شہریت مل سکتی ہے۔
 ۳۰؍جون ۱۹۸۷ء تک کے شہریت کے قانون کے مطابق بھارت میں پیدا ہونے والا ہر شخص بھارتی شہری ہوگا۔صرف ہندوستان میں پیدائش کافی تھی اور والدین کی شہریت ضروری نہیں تھی۔۱۹۸۷ء میں شہریت قانون میں ترمیم کی گئی جو یکم جولائی ۱۹۸۷ء  سے نافذ ہوئی۔یہ بھارتی شہریت کے قانون میں ایک بڑی تبدیلی تھی۔ اس کے مطابق بچہ بھارت میں پیدا ہو اور ماں یا باپ میں سے کم از کم ایک بھارتی شہری ہونا چاہیے یعنی پیدائش کے ساتھ ساتھ والدین کی شہریت بھی ضروری ہو گئی۔ ملک میں  غیر قانونی دراندازی کو روکنے کے لیے اور  شہریت کے غلط استعمال کو ختم کرنے کے لیے شہریت قانون میں ترمیم کی گئی۔ اسی وجہ سے ۱۹۸۷ء  ایک اہم Cut-off Year بن گیا۔
۲۰۰۴ء  میں شہریت قانون کی ترمیم کے مطابق بچہ بھارت میں پیدا ہو، والدین میں ایک بھارتی شہری ہو اور دوسرا غیر قانونی تارکِ وطن نہ ہو۔غیر قانونی تارکِ وطن اُس شخص کو کہتے ہیں جو کسی ملک میں قانونی اجازت کے بغیر داخل ہو یا قانونی مدت ختم ہونے کے بعد بھی وہاں غیر قانونی طور پر مقیم رہے۔ جو شخص بغیر ویزا یا پاسپورٹ کے ملک میں داخل ہو یا ویزا ختم ہونے کے بعد بھی واپس نہ جائے تو وہ غیر قانونی تارکِ وطن ہے ۔ بھارت کے قانون، خصوصاً ’’شہریت ایکٹ ۱۹۵۵ء‘‘  کے مطابق ایسے افراد کو شہریت کے حقوق حاصل نہیں ہوتے اور ان پر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔
 
 
۲۰۱۹ء میں شہریت قانون میں ترمیم
شہریت ترمیمی قانون ۲۰۱۹ء(سی اے اے) کی ترمیم کافی متنازعہ رہی جس کے خلاف پورے ہندوستان میں احتجاج کیا گیا ۔اس کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آئی ہوئی کچھ مذہبی اقلیتوں یعنی ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی کو ہندوستانی شہریت دینا شامل ہے۔
اس قانون کے تحت شہریت حاصل کرنے کے لئے رہائش کی مدت  ۱۱؍سال سے کم کر کے ۵؍ سال کر دی گئی۔
پڑوسی ممالک میں مذہبی بنیاد پر ظلم و ستم کا شکار اقلیتوں کو بھارت میں پناہ اور شہریت دینا شامل ہے۔
 
 
حرفِ آخر
میپنگ کرنا کیوں ضروری ہے؟
ہندوستان کے مرکزی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے بیان کے مطابق جس ووٹر کی میپنگ ۲۰۰۲ء  کی فہرست (یادی) سے براہِ راست ہو جائے گی اسے کاغذات دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بقیہ ووٹرز کو اپنی جنم تاریخ کے مطابق اور والد ، والدہ ، دادا یا دادی کا نام ۲۰۰۲ء  میں موجود رہنے اور نہ رہنے کی مناسبت سے ایس آئی آر کے مرحلے میں اپنے اور والدین کے کاغذات کو بطور ثبوت پیش کرنا ہوگا ۔ مہاراشٹر کے ریاستی الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر مراحل میں لگنے والے کاغذات کا باقاعدہ آفیشیل نوٹیفکیشن ابھی جاری نہیں کیا ہے تاہم دستاویزات میں جنم داخلہ ، آدھار کارڈ ، پین کارڈ ، پاسپورٹ ، اسکول ایل سی  ، دسویں و بارہویں کا سرٹیفکیٹ ، ڈرائیونگ لائسنس ، میرج سرٹیفکیٹ،  کاسٹ سرٹیفکیٹ ، زمین اور گھر کے کاغذات ، بینک پاس بک وغیرہ محفوظ رکھیں ۔ n
ایس آئی آر میں جنم تاریخ کے تین ادوار 
۱۹۵۰ء تا ۱۹۸۷ء: ہندوستان میں صرف پیدائش کافی ہے ۔
۱۹۸۷ء تا ۲۰۰۴ء : والد یا والدہ کا ہندوستانی شہری ہونا 
ضروری ہے 
۲۰۰۴ء  کے بعد : والد یا والدہ کا ہندوستانی شہری اور 
دوسرا غیر قانونی تارک وطن نہ ہو۔
(مضمون نگار  ایس ایم خلیل ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج ، مالیگاؤں  میں معاون معلم ہیں)

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK