یوسف پٹھان کی سیاسی خاموشی اور ان کے مبینہ سیاسی موقف پر قیاس آرائیاں اس وقت موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔دوسری جانب وڈودرہ میں ان کے متصل متنازعہ پلاٹ سے متعلق عدالتی کارروائی نے بھی اس معاملے کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
EPAPER
Updated: June 09, 2026, 9:15 PM IST | Kolkata
یوسف پٹھان کی سیاسی خاموشی اور ان کے مبینہ سیاسی موقف پر قیاس آرائیاں اس وقت موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔دوسری جانب وڈودرہ میں ان کے متصل متنازعہ پلاٹ سے متعلق عدالتی کارروائی نے بھی اس معاملے کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
ٹی ایم سی جس بحران سے دوچار ہے اُس میں فی الحال اُن ۲۰؍ اراکین پارلیمان پر سب کی نگاہیں مرکوز ہیں جو اپنی پارٹی کو چھوڑ کر، جس کے ٹکٹ پر وہ منتخب ہوئے تھے، این ڈی اے سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں۔ اب تک واضح نہیں ہے کہ یہ ۲۰؍ اراکین کون ہیں۔ بہرکیف، خیال کیا جارہا ہے کہ ان میں مشہور کرکٹ کھلاڑی یوسف پٹھان بھی ہیں۔ پیر کو پارٹی کی رکن پارلیمان اور شعلہ بیان لیڈر مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں یوسف پٹھان کو کافی سخت سست کہا۔ اس کے باوجود یوسف پٹھان نے تادم تحریر خاموشی اختیار کررکھی ہے اس لئے کہا نہیں جاسکتا کہ وہ باغیوں کی صف میں ہیں یا ممتا کے حامیوں کی صف میں۔
یہ بھی پڑھئے: آسام: ۵؍طلبہ پر لنچ میں بیف لانے اور ہندو طلبہ کو کھانے پر مجبور کرنے کا الزام
بعض لوگ یوسف پٹھان کی خاموشی کو وڈودرہ میں اُن کی رہائش گاہ سے متصل زمین کے ایک حصے کے تنازع سے جوڑ رہے ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ اس کیس میں ’’پھنسے‘‘ ہونے کی وجہ سے یوسف پٹھان نے کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔ جس قطعہ ٔ اراضی کا معاملہ کورٹ میں ہے وہ ایک رہائشی ٹکڑا ہے جو تنڈلجہ علاقے میں پٹھان کے بنگلے سے متصل ہے۔ ۲۰۱۲ء میں پٹھان نے وڈودرہ میونسپل کارپوریشن (وی ایم سی) سے قطعہ ٔ اراضی اُنہیں الاٹ کرنے کی درخواست کی تھی۔ وی ایم سی نے اس کا ویلویشن کیا اور درخواست کمشنر کے دفتر کو روانہ کردی۔ کمشنر نے اسے ریاستی حکومت کو بھیج دیا جس نے ۲۰۱۴ء میں پٹھان کی درخواست کو مسترد کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، پٹھان درخواست مسترد ہونے کے باوجود اُس قطعہ ٔ اراضی پر قابض رہے کیونکہ اُن کے بقول اُنہیں درخواست مسترد ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: پٹنہ کوچنگ سینٹر فائرنگ: عدالت نے ’’خان سر‘‘ کے خلاف کارروائی روک دی
واضح رہے کہ یہ معاملہ چند کونسلروں نے تب اُٹھایا جب یوسف پٹھان برہم پور (بنگال) سے الیکشن جیت گئے۔ پٹھان کا کہنا ہے کہ انہیں ۲۰۲۴ء میں درخواست مسترد ہونے کا علم ہواجس کے پیش نظر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ بہرکیف، دو روز قبل گجرات ہائی کورٹ نے پٹھان پر برہمی ظاہر کی اور کہا کہ یہ غیر قانونی قبضہ ہے۔ اس کی سماعت اگلے ہفتے پر ملتوی کرتے ہوئے چیف جسٹس سنیتا اگرول اور جسٹس ڈی این رے کی ڈویژن بنچ نے یہ ضرور کہا کہ پٹھان کرایہ ادا کرنے کیلئے تیار رہیں۔ اس سے قبل عدالت کی یک رُکنی بنچ نے فیصلہ پٹھان کے خلاف سنایا تھا۔ گزشتہ سال انہوں نے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ پلاٹ ۹۷۸؍ مربع میٹر کا ہے جسے پٹھان ۹۹؍ سال کی لیز پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگلے ہفتے کی سماعت میں ممکنہ طور پر طے ہوجائیگا کہ کرایہ کے عوض یہ پلاٹ یوسف پٹھان کی تحویل میں رہے گا یا اُنہیں خالی کرنا پڑے گا۔ عدالت کی دو رُکنی ڈویژن بنچ نے کرائے کی بات کہی ہے اس لئے گمان غالب ہے کہ اُنہیں یہ پلاٹ مل جائیگا۔ سمجھا جاتا ہے کہ تب تک یوسف پٹھان اپنے پتے نہیں کھولیں گے حالانکہ وہ کس پالے میں رہنا چاہتے ہیں یہ سیاسی فیصلہ ہے جبکہ پلاٹ کا معاملہ عدالتی ہے۔