Updated: February 06, 2026, 7:02 PM IST
| Florida
امریکی وفاقی عدالت نے راین وسلے روتھ کو ستمبر ۲۰۲۴ء میں ڈونالڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش، وفاقی افسر پر حملہ اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت پانچ وفاقی الزامات میں مجرم قرار دے کر عمر قید کے ساتھ سات سال اضافی سزا سنائی ہے۔ یہ حملہ ۱۵؍ ستمبر ۲۰۲۴ء کو فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ گبلف کورس پر ہوا، جہاں روتھ نے ایس کے ایس طرز کی رائفل اٹھائی، مگر امریکی سیکرٹ سروس نے اسے روک دیا۔ جج نے اس کے عمل کو ’’منصوبہ بند اور شیطانی‘‘ قرار دیا۔
ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کرنے والا مجرم راین روتھ۔ تصویر: ایکس
امریکی وفاقی عدالت نے راین وسلے روتھ کو وہ شخص قرار دیا ہے جس نے ستمبر ۲۰۲۴ء میں امریکہ کے سابق صدر، کاروباری لیڈر اور ۲۰۲۴ء کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اور اسے عمر قید کے ساتھ سات سال اضافی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے ۴؍ فروری ۲۰۲۶ء کو فلوریڈا کے فورٹ پریس میں واقع فیڈرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں یہ فیصلہ سنایا۔ جج ایلین کینن نے روتھ کے خلاف پانچ وفاقی الزامات میں سزا عائد کی جس میں صدارتی امیدوار کو قتل کرنے کی کوشش، وفاقی افسر پر حملہ اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے جیسے سنگین جرائم شامل تھے۔ روتھ نے دفاع کے مرحلے میں خود کو وکیل مقرر کر رکھا تھا، تاہم بعد میں عدالتی حکم پر اسے قانونی نمائندہ بھی فراہم کیا گیا۔ سزا سناتے ہوئے جج نے کہا کہ روتھ کا عمل ’’منصوبہ بند، خطرناک، غیر انسانی اور امریکی جمہوری عمل پر برا حملہ‘‘ تھا۔ اس نے روتھ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے نہ صرف کسی قسم کا پچھتاوا ظاہر نہیں کیا بلکہ اپنے عمل کی جواز کے لیے بے ربط اور غیر متعلقہ دلائل پیش کیے۔
یہ بھی پڑھئے: ورلڈ حجاب ڈے پر پوسٹ، نیویارک کے ظہران ممدانی کو شدید تنقید کا سامنا
یہ حملہ ۱۵؍ ستمبر ۲۰۲۴ء کو ویسٹ پام بیچ، فلوریڈا میں ٹرمپ کے گولف کورس پر پیش آیا، جب روتھ نے تقریباً ۱۲؍ گھنٹے تک جھاڑیوں میں چھپ کر ایک ایس کے ایس طرز کی رائفل پکڑے رکھی اور قریب سے ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ امریکی سیکرٹ سروس کے ایک ایجنٹ نے اس کی موجودگی اور اسلحہ کو پہچانتے ہوئے چار گولیاں چلائیں، جس کے بعد روتھ موقع سے فرار ہو گیا لیکن بعد میں مارٹن کاؤنٹی میں گرفتار ہو گیا۔ عدالت نے روتھ کی جرم کی نوعیت اور منصوبہ بندی کی وسعت کو مدنظر رکھتے ہوئے عمر قید کے ساتھ سات سال اضافی سزا بھی شامل کی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے کسی قسم کی مشروط رہائی کا حق نہیں ملے گا۔ استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ روتھ نے اپنے عمل میں جمہوری عمل کو ختم کرنے کی کوشش کی اور اس نے عوام کی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈالا۔
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز اور وبا کی سازش: بل گیٹس سے متعلق وائرل دعویٰ گمراہ کن
یاد رہے کہ یہ حملہ ستمبر ۲۰۲۴ء میں ٹرمپ کے صدارتی انتخابی مہم کے دوران پیش آیا، جو ٹرمپ کی شکست خوردگی یا صدارتی امیدوار کے طور پر دوبارہ انتخاب کی دوڑ میں کچھ ماہ قبل تھا۔ اس واقعے کے ساتھ ہی امریکی سیکرٹ سروس اور وفاقی تحقیقات نے سیاسی تشدد اور سیکوریٹی خطرات پر خصوصی غور شروع کیا اور ٹرمپ کی سیکوریٹی بڑھا دی گئی۔ روتھ کے خلاف مقدمے نے امریکی قانونی اور سیاسی حلقوں میں گہری بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر سیاسی تشدد کے بڑھتے رجحان، انتخابی مہموں میں سیکوریٹی اور جمہوری نظام کی حفاظت کے حوالے سے۔ بعض قانونی ماہرین نے عدالت کے فیصلے کو ’’قانون کی مضبوط مثال‘‘ قرار دیا ہے اور اسے سیاسی تشدد کے خلاف سخت پیغام سمجھا جا رہا ہے۔