ذات پر مبنی مردم شماری کیلئے نیا سوالنامہ تیار کرنے کا مطالبہ ، ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی کا وزیر اعظم کو خط۔
EPAPER
Updated: August 26, 2026, 1:25 PM IST | Ahmadullah Siddiqui | New Delhi
ذات پر مبنی مردم شماری کیلئے نیا سوالنامہ تیار کرنے کا مطالبہ ، ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی کا وزیر اعظم کو خط۔
کانگریس نے حکومت کے ذریعہ مردم شماری کے موجودہ فارمیٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے دھوکہ دہی قرار دیا ۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ بہار اور تلنگانہ حکومتوں کے ذریعہ اختیار کردہ ماڈل کو قومی سطح پر لاگو کیا جائے۔ دونوں لیڈروں میں کے خط میں لکھا گیا کہ ذات سے متعلق یکطرفہ سوال اورکوئی متبادل فہرست نہ دینے سے ذات کی درست گنتی ممکن نہیں۔ اس سے سب سے زیادہ نقصان او بی سی، انتہائی پسماندہ اور پسماندہ برادری کا ہوگا۔اس میں کہاگیا کہ ہندوستان میں ایک ہی ذات کے لوگ مختلف علاقوں میں مختلف ذات اور ذیلی ذات کے نام سے موجود ہیں۔اگر انہوں نے مردم شماری میں خود کو الگ ذاتوں کے نام سے در ج کرائیں گے توایک ہی ذات کے ہزاروں مختلف ذیلی نام سامنے آئیں گے۔ اس سے ملک میں لاکھوں ذاتوں کے نام نکلیں گے اور مردم شماری سے حاصل کیا گیا ڈیٹا بے معنی ہو کر رہ جائےگا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی رکن پارلیمان نے مقبوضہ مغربی کنارہ میں موجود فلسطینی میموریل کو توڑا
کانگریس کے صدر دفترمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر لیڈرجے رام رمیش نے کہا کہ کانگریس صدر کھرگے اور راہل گاندھی نے ۲۰؍ اگست کو وزیر اعظم کو خط لکھا ، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ذات پات کے درست اعداد و شمار کے بغیر سماجی انصاف کی پالیسیوں کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہاکہ کانگریس صدر کے ذریعہ وزیر اعظم مودی کو لکھا جانے والا یہ تیسرا خط ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہیوسٹن کی آبی گزرگاہ سے ۹؍ سالوں میں ۲۰۰؍ لاشیں برآمد، سیریل کلر کا شبہ خارج
کانگریس لیڈر نے کہاکہ مردم شماری کے موجودہ فارمیٹ میں ۴۰؍سوالات ہیں اور سیریل نمبر ۱۰؍ پر ذات سے متعلق سوال پوچھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ مودی حکومت اور خود وزیر اعظم کا ذات پات کی مردم شماری کرانے کا کوئی مخلصانہ ارادہ نہیںرکھتے ،اس سبوتاژ کرنے والے بے معنی مردم شماری کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔