Inquilab Logo Happiest Places to Work

اٹلی کے۱۲۳؍ سال پرانے ساحل کی پالیسی پر تنازع مگرسیاحوں کی تعداد میں اضافہ

Updated: August 22, 2026, 9:35 AM IST | Rome

اٹلی کے تاریخی ساحل ’لا لانترنا‘ (La Lanterna)پر مردوں اور خواتین کیلئے الگ الگ نہانے کی روایت نے رواں سال تنازع کھڑا کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تنقید اور بحث کے باوجود ساحل پر سیاحوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

Tourists bathing on Italy`s historic beach `La Lanterna`. Photo: X
اٹلی کے تاریخی ساحل ’لا لانترنا‘ پر سیاح نہاتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

اٹلی کے ایک تاریخی ساحل پر اس سال مردوں اور خواتین کیلئےالگ الگ نہانے کی پالیسی پر شدید تنقید کی گئی، تاہم اس تنازعے کے نتیجے میں وہاں آنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تنازعے نے لوگوں کو ساحل کی جانب مزید متوجہ کیا ہے۔ شمال مشرقی اٹلی کے شہر ٹریئسٹے میں واقع لا لانترنا (La Lanterna) ساحل۱۹۰۳ء سے قائم ہے اور یہ یورپ کے ان آخری ساحلوں میں شامل ہے جہاں مردوں اور خواتین کیلئےنہانے کے مقامات الگ الگ رکھے گئے ہیں۔

یہ بھی پرھئے: پاکستان: طبی معائنے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل

میونسپل انتظامیہ کے زیرِ انتظام اس ساحل کو۷۴؍ میٹر طویل دیوار دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے، جو سمندر کے اندر تک جاتی ہے۔ دیوار کے ایک جانب مردوں اور دوسری جانب خواتین کیلئےمخصوص حصہ ہے۔ اس انتظام کی وجہ سے خواتین اگر چاہیں تو مردوں کی نظروں سے دور رہتے ہوئے ٹاپ لیس دھوپ بھی سینک سکتی ہیں۔ دونوں جانب موجود افراد اگر ایک دوسرے سے بات کرنا چاہیں تو کم گہرے پانی سے چلتے ہوئے دیوار کے آخری سرے تک جا سکتے ہیں۔ اس منفرد انتظام کو جون میں اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب میلان سے آنے والے ایک مرد اور خاتون نے ایک ساتھ مردوں کے حصے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ جب خاتون سے خواتین کے حصے میں جانے کو کہا گیا تو انہوں نے ابتدا میں انکار کردیا اور اس پالیسی پر تنقید کی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی قرض ۴۰؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وینس نے کہا: بیسنٹ کے پاس خفیہ منصوبہ ہے

اطلاعات کے مطابق خاتون نے کہا: ’’آپ لوگ جنس پرست اور احمق ہیں، یہ امتیازی سلوک ہے۔ آپ کو شرم آنی چاہئے۔ ‘‘ انہوں نے مردوں اور خواتین کی اس علیحدگی کو ’’قرونِ وسطیٰ‘‘ کی روایت قرار دیا۔ بالآخر یہ جوڑا ساحل سے چلا گیا، لیکن یہ واقعہ جلد ہی آن لائن پلیٹ فارمز اور اٹلی کی نیوز ویب سائٹس پر ایک وسیع بحث کا باعث بن گیا کہ آیا اس روایتی انتظام کو برقرار رکھا جانا چاہئے یا نہیں۔ ٹریئسٹے کے بہت سے رہائشیوں نے ساحل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مردوں اور خواتین کی علیحدگی شہر کی تاریخ اور ثقافت کا حصہ ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لا لانترنا کو ’’ٹریئسٹے کی روایات کا حصہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ساحل ’’کینسل کلچر‘‘ کا شکار ہوگیا ہے۔ ایک اور صارف نے لکھا: ’’یہ قرونِ وسطیٰ کی بات نہیں ! یہ ٹریئسٹے کی تاریخ کا حصہ ہے۔ کوئی بھی حقیقی ٹریئسٹے کا باشندہ اس دیوار کو ہٹانا نہیں چاہتا!‘‘

یہ بھی پڑھئے: ترکی: سابق وزیراعظم مرحوم نجم الدین اربکان کی صیہونیت کو مگرمچھ سے تشبیح آج بھی مستعمل

تنازعے نے سیاحوں کو دور کرنے کے بجائے بظاہر ساحل کی مقبولیت میں اضافہ کردیا۔ مقامی اخبار Il Piccolo کے مطابق، لا لانترنا نے جولائی میں ۵۳؍ ہزار ۶۱۰؍ٹکٹ فروخت کئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ تعداد۳۴؍ ہزار ۸۸۵؍ تھی۔ یعنی ایک سال کے مقابلے میں ۱۸؍ ہزار ۷۰۰؍ سے زیادہ ٹکٹوں کا اضافہ ہوا۔ اخبار کے مطابق نئے آنے والے افراد میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK