امریکہ کی گرینڈ اولڈ پارٹی کی پہلی قانون ساز مارجوری ٹیلر گرینی نے غزہ میں اسرائیل کے قتل عام کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال قائم کیا کہ ’’کب تک امریکی ٹیکسٹ دہندگان کے پیسوں سے غزہ میں فلسطینیوں کو قتل کیا جاتا رہے گا؟‘‘
EPAPER
Updated: August 01, 2025, 5:51 PM IST | Washington
امریکہ کی گرینڈ اولڈ پارٹی کی پہلی قانون ساز مارجوری ٹیلر گرینی نے غزہ میں اسرائیل کے قتل عام کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال قائم کیا کہ ’’کب تک امریکی ٹیکسٹ دہندگان کے پیسوں سے غزہ میں فلسطینیوں کو قتل کیا جاتا رہے گا؟‘‘
امریکہ کی گرانڈ اولڈ پارٹی کی پہلی قانون ساز مارجوری ٹیلر گرینی نے مقبوضہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دیتے ہوئے امریکہ کے تل ابیب کو تعاون فراہم کرنے پر تنقید کی۔ انہوں نے سوال قائم کیا کہ ’’امریکی ٹیکسٹ دہندگان کی رقم سے کب تک غزہ میں دسیوں ہزاروں فلسطینی شہری، جن میں فلسطینی اور عیسائی دونوں شامل ہیں، قتل کئے جاتے رہیں گے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں :مقامی لیڈران عدالت کے فیصلے سے مایوس
گرینی نے اپنے ایکس پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’کیا بے گناہ اسرائیلیوں کی زندگی معصوم فلسطینیوں اور عیسائیوں کی زندگی سے زیادہ قیمتی ہے؟ غزہ میں نیتن یاہو کی حکومت ’’منظم طریقے سے‘‘ فلسطینیوں کی سرزمین سے انہی کا صفایا کر رہی ہے۔ نیوکلیئر ہتھیاروں سے لیس نیتن یاہو کی حکومت نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے نمٹنے کیلئے پوری طرح سے قابل ہے اور منظم طریقے سے فلسطینیوں کی سرزمین سے ان کا صفایا کر رہی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مالیگائوں بم دھماکہ متاثرین مایوس لیکن فیصلے کو چیلنج کرینگے
گرینی کے مطابق ’’کل میں نے غزہ کے عیسائی پادری سے گفتگو کی تھی۔ غزہ میں بچے بھکمری سے مر رہے ہیں اور عیسائیوں کا بھی قتل کیا جارہا ہے اورانہیں زخمی کیاجارہا ہے ہیں جن میں سے زیادہ تر معصوم شہری شامل ہیں۔ ایک امریکی عیسائی کے طور پر یہ آپ کیلئے کس طرح قابل قبول ہوسکتا ہے؟‘‘ یاد رہے کہ گرینی کا یہ ردعمل تب سامنے آیا ہے جب غزہ کے حالات بدترین ہورتے جارہے ہیں جہاں ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے ۶۰؍ ہزار ۲۰۰؍ سے زائد فلسطینیوں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، کو اسرائیل نے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے ۷۰؍ فیصد فلسطینیوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں اور ۱۸؍ ہزار ۵۰۰؍ سے زائد بچوں نے اب تک اپنی جانیں گنوائی ہیں۔