Updated: October 19, 2026, 10:05 PM IST
| Gaza
فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک اسرائیل دو ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کو گرفتار کر چکا ہے، جن میں کم از کم ۳۵۰؍ بچے بدستور قید ہیں۔ تنظیم نے بچوں کو تشدد، طبی سہولیات سے محرومی اور سخت حراستی حالات کا سامنا ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان کی رہائی اور بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیلی پولیس۔ تصویر: ایکس
فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی نے بدھ کو جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ غزہ کے خلاف جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیل دو ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کو گرفتار کر چکا ہے، جن میں سے کم از کم ۳۵۰؍ بچے اب بھی انتہائی سخت حالات میں قیدی بنے ہوئے ہیں۔ اس غیر سرکاری تنظیم نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے الخلیل گورنری کے قصبوں سعیر اور الشیوخ میں گزشتہ رات چھاپوں کے دوران مزید چھ بچوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ تنظیم کی مانیٹرنگ اور دستاویزات کے مطابق، ’’اکتوبر ۲۰۲۳ء میں نسل کشی کے آغاز سے لے کر اب تک دو ہزار سے زائد بچوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ کم از کم ۳۵۰؍ بچے اب بھی سخت حالات میں قید کاٹ رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ کے تقریباً ایک تہائی دولت مند شہری ملک چھوڑنے پر غور کررہے ہیں: رپورٹ
گروہ نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی بچوں کو ڈرانے دھمکانے، گرفتاری، تشدد، تنہائی میں رکھنے اور طبی سہولیات سے محروم رکھنے جیسے حربوں کے ذریعے نشانہ بنانے کے عمل میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ سے حراست میں لئے گئے بچوں کی تعداد کے بارے میں معلومات اب بھی نامکمل ہیں، گروہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی `انتظامی حراست کی پالیسی جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کو بغیر کسی الزام یا رہائی کے واضح وقت کے حراست میں رکھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے بچے ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ خاندانی زندگی اور تعلیمی استحکام سے محروم ہو چکے ہیں۔ گروہ نے یہ بھی کہا کہ موثر احتساب کے فقدان کے درمیان اسرائیلی عدالتیں بھی بچوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کے جاری رہنے میں برابر کی شریک ہیں۔فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی نے کم عمر ولید خالد احمد کے واقعے کا حوالہ دیا، جو ’’ طبی نتائج میں شدید کمزوری ، غذائیت کی کمی اور پانی کی کمی کے سبب مارچ ۲۰۲۵ء میں جیل میں انتقال کر گیا۔‘‘
گروہ نے نوجوان کی موت کے ذمہ داروںپر سوال اٹھاتے ہوئے اس بات کا ذکر کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کو بند کر دیا گیا ہے۔اس نے ۱۵؍ سالہ محمد حامد کے معاملے کو بھی اجاگر کیا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ عوفر جیل میں قید کے دوران اسے خارش کی بیماری لاحق ہو گئی تھی، جس سے اس کی صحت شدید خراب ہو گئی اور اہم اعضاء پر سنگین انفیکشن پھیل گیا۔ گروہ کے مطابق، دل کے آپریشنز کے بعد محمد حامد کو انتہائی تشویشناک حالت میں آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھااور بعد میں اس کی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے صحت کی خرابی کے چلتے رہا کئے جانے کے بعد بھی حامد تقریباً تین ماہ تک اپنا علاج جاری رکھے ہوئے تھا، جسے گروپ نے ’’اپنے طبی علاج کی ذمہ داری سے بچنے کی ایک کوشش‘‘ قرار دیا۔ گروہ نے من مانے طور پر قید کئے گئے بچوں کی رہائی، انتظامی حراست اور سخت پوچھ گچھ کے خاتمے،تشدد اور علاج سے انکار کے روگ کو روکنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر فوری قدم اٹھانے کا مطالبہ کیاہے۔
یہ بھی پڑھئے: انتھروپک کا انتباہ: اے آئی ماڈلز ۲۰۲۶ء کے اختتام تک انٹرنیٹ پر اپنی کاپیاں خود بنانے کے قابل ہوگے
اس تنظیم نے دستاویزات اور مذمت سے آگے بڑھ کر ایسے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو ان خلاف ورزیوں کا خاتمہ کریں اور مجرموں کو کٹہرے میں لائیںاور یہ کہا کہ ’’فلسطینی بچوں کے تحفظ کیلئے ان کے حقوق، زندگی اور وقار کا احترام یقینی بنانے کیلئے مضبوط بین الاقوامی مداخلت کی ضرورت ہے۔‘‘ واضح رہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی میں ۷۴؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ ۷۵؍ ہزارسے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ پٹی کے بنیادی ڈھانچے کا تقریباً ۹۰؍ فیصد حصہ تباہ یا شدید متاثر ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں بھی اسرائیلی چھاپوں اور غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں اور ان کی املاک پر حملوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔