Updated: February 24, 2026, 2:02 PM IST
| West Bank
اسرائیلی روزنامہ ہاریٹز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۹ء سے ۲۰۲۰ء کے درمیان مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو صرف ۶۶؍ تعمیراتی اجازت نامے دیے گئے، جبکہ اسی عرصے میں یہودی آباد کاروں کو تقریباً ۲۲؍ ہزار پرمٹ جاری کیے گئے۔ رپورٹ میں اس تفاوت کو ایک منظم پالیسی قرار دیا گیا ہے جو فلسطینی تعمیرات اور ترقی کو محدود کرتی ہے۔
اسرائیلی اخبار Haaretz کی اتوار کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ۱۱؍ برسوں کے دوران فلسطینی باشندوں کو محض ۶۶؍ عمارتوں کے اجازت نامے ملے، جبکہ غیر قانونی یہودی آباد کاروں کو ۲۲؍ ہزار سے زائد پرمٹ دیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ فرق مغربی کنارے میں منصوبہ بندی اور زوننگ کے نظام میں عدم مساوات کو ظاہر کرتا ہے، جہاں فلسطینیوں کے لیے تعمیراتی سرگرمیاں شدید پابندیوں کا شکار ہیں۔واضح رہے کہ مغربی کنارے کا تقریباً ۶۱؍ فیصد حصہ اوسلو معاہدہ کے تحت ایریا سی میں شامل ہے، جو اسرائیل کے مکمل سول اور سیکوریٹی کنٹرول میں ہے۔
رپورٹ میں نابلس کے جنوب میں واقع ’’طاؤون‘‘ محلے کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں رواں برس جنوری سے انہدامی کارروائیاں جاری ہیں۔ صرف ایک ماہ میں اسرائیلی فوج نے ایریا سی میں ۲۴؍ فلسطینی عمارتیں اجازت نامہ نہ ہونے کی بنیاد پر مسمار کیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ تنازع: ہندوستانی شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار
یو این آفس فار دی کوآرڈینیش آف ہیومینیٹیرین افیئرس (او سی ایچ اے) کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں کم از کم ۲؍ ہزار ۴۶۱؍ فلسطینی ڈھانچے اجازت ناموں کی عدم دستیابی کے باعث مسمار کیے گئے۔ اس کے مقابلے میں پچھلے نو برسوں میں ۴؍ ہزار ۹۸۴؍ عمارتیں گرائی گئی تھیں، جس سے حالیہ عرصے میں مسماری کی رفتار میں نمایاں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سال میں تقریباً ۳۵۰۰؍ فلسطینی بے گھر ہوئے، جبکہ تقریباً ۸۰؍ برادریاں متاثر ہوئیں۔
قانونی اور بین الاقوامی پہلو
فلسطینی قیادت ان اقدامات کو ’’عملی الحاق‘‘ قرار دیتی ہے جو دو ریاستی حل کے امکانات کو کمزور کرتا ہے۔ جولائی ۲۰۲۴ء میں آئی سی جے نے اپنی تاریخی رائے میں اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بستیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ اجازت نامہ نظام اس بین الاقوامی رائے سے متصادم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال: روتہٹ میں مذہبی کشیدگی، مسجد پر حملہ، کرفیو اور گرفتاریاں
فلسطینی مؤقف
فلسطینی باشندوں کا کہنا ہے کہ جب تعمیراتی اجازت نامے تقریباً ناممکن ہوں تو انہیں بغیر اجازت تعمیر پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے گھروں کو مسمار کیے جانے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ صورتحال بنیادی رہائشی حقوق اور انسانی وقار سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔