نتین یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ یورپ کو اچھائی اور برائی کا فرق اسرائیل سے سیکھنا چاہئے، اس کے ساتھ ہی نیتن یاہو نے الزام عائد کیا کہ یورپ شدید اخلاقی کمزوری کا شکار ہے۔
EPAPER
Updated: April 14, 2026, 9:02 PM IST | Tel Aviv
نتین یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ یورپ کو اچھائی اور برائی کا فرق اسرائیل سے سیکھنا چاہئے، اس کے ساتھ ہی نیتن یاہو نے الزام عائد کیا کہ یورپ شدید اخلاقی کمزوری کا شکار ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پیر کو کہا کہ یورپ کو اسرائیل سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے، اور الزام لگایا کہ یورپ شدید اخلاقی کمزوری کا شکار ہے۔اسرائیل کے سرکاری یوم ہولوکاسٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نتن یاہو نے کہا کہ یورپ "اچھائی اور برائی" کے درمیان فرق بھول چکا ہے۔انہوں نے کہا، ’’آج یورپ شدید اخلاقی کمزوری کا شکار ہے۔ اسے ہم سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے، خاص طور پر یہ ضروری سبق کہ اچھائی اور برائی کے درمیان واضح اخلاقی فرق کیا ہے۔‘‘نیتن یاہو نے مزید کہا کہ’’ موجودہ حالات میں اچھائی کی خاطر، زندگی کی خاطر جنگ میں جانا ضروری ہے۔‘‘ بعد ازاں یاہو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یورپ اپنی شناخت اور اقدار کا دفاع کرنے کی صلاحیت کھو رہا ہے، اور اسرائیل یورپ اور تہذیب کو حیوانیت سے بچا رہا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ نیتن یاہو کے یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپ میں مقبوضہ مغربی کنارے اور لبنان میں اسرائیلی پالیسیوں پر بڑے پیمانے پر تنقید ہو رہی ہے۔ جبکہ اسی دن جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے فلسطینی علاقوں میںاسرائیلی جارحیت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کو درحقیقت جزوی طور پر ضم کیا جا رہا ہے۔دریں اثناء مرز نے فون پر نتن یاہو سے لبنان کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات شروع کرنے کی بھی اپیل کی اور جنوبی لبنان میں حملے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: آٹے کا شدید بحران، اسرائیل پر فاقہ کشی کو ہوا دینے کا الزام
یاد رہے کہ نیتن یاہو ۲۰۲۰ء میں شروع ہونے والے بد عنوانی کے معاملے میں بڑھتے ہوئے قانونی دباؤ کا سامان کر رہے ہیں۔ حالانکہ نتن یاہو ان لزامات کی تردید کرتے ہیں اور اسے انہیں گرانے کے لیے ایک سیاسی مہم قرار دیتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ۲۰۲۴ء سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں مطلوب بھی ہیں۔