Updated: January 30, 2026, 8:01 PM IST
| New York
۲۹؍ جنوری ۲۰۲۴ء کو پانچ سالہ ہند رجب اور اس کے خاندان پر اسرائیلی فورسیز کی فائرنگ میں تباہ کن حملہ ہوا۔ ہند زندہ بچ گئی، اپنے خاندان کے مردہ لوگوں کے ساتھ گاڑی میں پھنس گئی اور مدد کے لیے فون کال کیا۔ بعد میں ہند، اس کے خاندان کے افراد اور امدادی پیرامیڈیکس بھی ہلاک ہوگئے۔ اس سانحہ کا آڈیو وائرل ہوگیا۔ اقوام متحدہ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق فلسطین میں ہزاروں بچے جان سے گئے ہیں، اور دو سال بعد بھی انصاف کا مطالبہ برقرار ہے۔
۲۹؍ جنوری ۲۰۲۴ء کو یعنی ۲؍ سال پہلے، پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کو اسرائیلی فورسیز کی گولیوں نے اس وقت شہید کر دیا تھا، جب وہ اپنے خاندان کے ساتھ غزہ سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس المناک واقعہ میں ہند اور اس کے خاندان کے سات دیگر افراد جان سے گئے، جبکہ دو فلسطینی کارکن بھی جاں بحق ہوئے۔ یہ دونوں ہند کو بچانے کی کوشش کررہے تھے۔ اسرائیلی فورسیز کی جارحیت کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب غزہ سٹی کے علاقے تل الحوا میں ہند، اپنے چچا، چچی اور کزنز کے ساتھ گاڑی میں غزہ سے نکلنے کی کوشش کررہی تھی تاکہ اس لڑائی سے بچا جا سکے۔ گاڑی پر ایک اسرائیلی ٹینک نے گولیوں سے حملہ کیا، جس سے ہند اور ایک ۱۵؍ سالہ کزن لایان کے علاوہ خاندان کے تمام افراد موقع پر شہید ہو گئے۔ چند سیکنڈ بعد لایان نے فون پر فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کو کال کر کے مدد طلب کی، لیکن وہ بھی جلد ہی فائرنگ میں ہلاک ہو گئی، اور صرف ہند زندہ بچی۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا
ہند نے فون پر مدد کے لیے کال جاری رکھی جس کا آڈیو ریکارڈنگ بعد میں عالمی سطح پر وائرل ہو گیا۔ ریکارڈنگ میں وہ خوفزدہ اور تنہا بچی مدد کے لیے پکارتی رہتی ہے، جبکہ پس منظر میں گولیوں کی مسلسل گرج سنائی دیتی ہے۔ پیرامیڈیکس یوسف زینو اور احمد المادھون، جو ریڈ کریسنٹ کی ایمبولینس میں ہند کی بچاؤ کے لیے روانہ ہوئے، بھی اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بنے اور وہ دونوں بھی جاں بحق ہو گئے۔ گاڑی اور ایمبولینس کے ملبے بعد میں دریافت ہوئے، جن میں ان کی لاشیں بھی تھیں۔ اس واقعے کے بعد عالمی انسانی حقوق ماہرین نے اس قتل کو جنگی جرم قرار دیا اور بین الاقوامی عدالت انصاف میں تحقیقات اور مقدمات کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ اور مختلف انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق، ہند رجب کی موت محض ایک حادثہ نہیں بلکہ فلسطینی عوام خصوصاً بچوں کے خلاف جاری بڑے پیمانے پر تشدد کی علامت ہے۔ اس تشدد میں ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے بے شمار بچے شہید ہو چکے ہیں، جن کی تعداد اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق ہزاروں میں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے خلاف اپنی سرزمین یا فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: آذربائیجان
ہند رجب کا واقعہ دنیا بھر میں مزاحمتی اور انسانی حقوق تحریکوں میں ایک نشانِ عبرت بن گیا ہے۔ ہند کی آڈیو ریکارڈنگ نے بڑے پیمانے پر ردِ عمل پیدا کیا اور فلمی، ثقافتی اور سیاسی سطح پر بھی اس کے بارے میں کئی دستاویزی فلمیں، خاکے اور یادگاریں بنیں۔ ایک نامور دستاویزی فلم ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ نے اس المیے کو مزید نمایاں کیا جسے متعدد فلم میلوں میں بھی سراہا گیا۔ غزہ میں جاری کشیدگی کے باوجود، عالمی کمیونٹی کی توجہ بچوں اور عام شہریوں کی حفاظت اور انصاف کے لیے بڑھتی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق گروپس مطالبہ کرتے ہیں کہ ہند رجب اور دیگر متاثرین کے قاتلوں کو نہ صرف مقامی عدالتوں میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی جواب دہ ٹھہرایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کے خلاف ایک مضبوط پیغام بھیجا جا سکے۔