اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی ثقافتی مرکز کیلئے ۳۷؍ ملین ڈالر مختص کئے ہیں، جبکہ غیر قانونی بستیوں کی تعمیر جاری ہے، اسرائیلی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز۷۰؍ سے زائد مقامات کو ترقی دیں گے۔
EPAPER
Updated: August 05, 2026, 5:03 PM IST | Tel Aviv
اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی ثقافتی مرکز کیلئے ۳۷؍ ملین ڈالر مختص کئے ہیں، جبکہ غیر قانونی بستیوں کی تعمیر جاری ہے، اسرائیلی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز۷۰؍ سے زائد مقامات کو ترقی دیں گے۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل ا سموتریچ نے منگل کو مقبوضہ علاقے میں غیر قانونی آباد کاریوں میں شدت کے دوران مغربی کنارے میں مبینہ یہودی ورثے کے مقامات کی ترقی کے لیے۳۷؍ ملین ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا۔ ا سموتریچ نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کہا، ’’تاریخ میں پہلی بار،۱۱۳؍ ملین شیکل (۳۷؍ ملین ڈالر) یہودا اور سامریہ میں۷۰؍ سے زائد ورثے کے مقامات کی ترقی کے لیے مختص کیے جائیں گے۔‘‘ انہوں نے مغربی کنارے کے لیے اسرائیل کی بائبلی اصطلاح استعمال کی۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کا امن منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ بندی یا انخلاء سے انکار: رپورٹ
اسموتریچ، جو کہ انتہائی دائیں بازو کی ریلیجیئس صہیونیت پارٹی کا لیڈر ، نے نشانہ بنائے گئے مقامات کی نشاندہی نہیں کی۔مئی میں، کنیسیٹ نے نام نہاد ’’یہودا اور سامریہ ورثہ اتھارٹی‘‘ قائم کرنے کے بل کی پہلی تحقیق منظور کی، جو رومن، بازنطینی اور صلیبی دور کے مقامات کو اسرائیل کی وزارت ورثہ کے تحت رکھے گی۔ واضح رہے کہ یہ بل ایسے مقامات سے متعلق جائدادوں کی ضبطی اور خریداری کی بھی اجازت دیتا ہے، جس پر فلسطینی اتھارٹی نے خبردار کیا کہ یہ اقدام مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیلی قبضہ کو بڑھانے اور غیر قانونی آباد کاری کی سرگرمیوں کومزید توسیع دے گا۔
بعد ازاں اسموتریچ کے مطابق، وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کے۲۰۲۲ء کے آخر میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مغربی کنارے میں۱۰۴؍ غیر قانونی بستیاں اور۱۶۰؍ چوکیاں منظور کی گئی ہیں۔تاہم فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، مقبوضہ مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً ۷۵۰۰۰۰؍مقبوضہ افراد۱۵۶؍ غیر قانونی بستیوں اور۳۶۰؍ آباد کاری چوکیوں میں رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: ۱۴؍ لاکھ فلسطینی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار، ادویات کی قلت ۴۷؍ فیصد تک پہنچ گئی
یاد رہے کہ ۲۰۱۶ء میں منظور کردہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد۲۳۳۴ء میں کہا گیا ہے کہ ۱۹۶۷ءسے مقبوضہ فلسطینی علاقے بشمول مشرقی یروشلم میں اسرائیلی بستیاں کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتیں‘‘ ساتھ ہی بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔مزید برآںجولائی۲۰۲۴ء میں ایک تاریخی مشاورتی رائے میں، بین الاقوامی عدالت انصاف نے فلسطینی علاقے پر اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیا اور مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تمام بستیوں کو خالی کرانے کا مطالبہ کیا۔