ایک رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے امن منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ بندی یا انخلاء سے انکار کردیا ہے، نیتن یاہو نے پیر کو ہونے والی ملاقات میں بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے خصوصی ایلچی نکولائی ملادینوف کو اپنی مخالفت سے آگاہ کیا۔
EPAPER
Updated: August 04, 2026, 10:07 PM IST | Gaza
ایک رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے امن منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ بندی یا انخلاء سے انکار کردیا ہے، نیتن یاہو نے پیر کو ہونے والی ملاقات میں بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے خصوصی ایلچی نکولائی ملادینوف کو اپنی مخالفت سے آگاہ کیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، پیر کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ بندی یا فوجی انخلا سے انکار کر دیا ہے۔روزنامہ ’’اسرائیل ہیوم‘‘ نے نامہ نگاروں کے حوالے سے بتایا کہ نیتن یاہو نے پیر کو ہونے والی ملاقات میں بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے خصوصی ایلچی نکولائی ملادینوف کو اپنی مخالفت سے آگاہ کیا۔ اخبار کے مطابق نیتن یاہو نے ملادینوف سے کہا، ’’اسرائیل غزہ میں اپنے قبضے والی پوزیشن سے دستبردار نہیں ہوگا اور نہ ہی جنگ بندی کرے گا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’’حماس اپنی عسکری صلاحیتوں کو دوبارہ تعمیر کر رہاہے اور اسرائیلی فوج اور غزہ کے گرد و نواح کی بستیوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں ابو شریعہ خاندان کے ۱۱۲؍افراد کی اجتماعی تدفین، ہزاروں افراد کی شرکت
روزنامہ کے مطابق، اسرائیلی قومی سلامتی کونسل نے اس سے قبل غزہ جنگ بندی کے روڈ میپ کی شرائط سے متعلق نیتن یاہو کے تمام تحفظات بورڈ آف پیس اور صدر ٹرمپ کی ٹیم کو پہنچا دیے تھے۔ بعد ازاں جمعہ کو بورڈ آف پیس نے ایک مسودہ معاہدہ جاری کیا، جس میں ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے اگلے مرحلے کے اصول اور نفاذ کے طریقہ کار کا خاکہ پیش کیا گیا، جس میں علاقے میں سیکورٹی، انتظامی اور عبوری انتظامات کے ساتھ ایک مجوزہ سیاسی طریقہ کار بھی شامل ہے۔ جبکہ اس پس منظر میں، حماس نے کہا کہ وہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد سے متعلق مفاہمتوں پر بورڈ آف پیس کے ایلچی نکولائی ملادینوف اور ثالثوں سے باضابطہ اورواضح جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ حماس کے ایک اعلیٰ ذرائع نے گروپ کے ٹیلیگرام چینل پر جاری بیان میں کہا، ’’حماس اور فلسطینی گروہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے جو کچھ طے پایا ہے، اس پر پابند ہیں، جس میں تمام فریقین کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کی غزہ پر تازہ جارحیت، گولہ باری اور فائرنگ،۱۹؍ فلسطینی شہید
مزید برآں جمعہ کو بورڈ آف پیس اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے ایک معاہدے کا اعلان کیا، جس میں بورڈ نے کہا کہ حماس نے تفصیلی روڈ میپ قبول کر لیا ہے۔دوسری جانب، اسرائیل کے عوامی نشریاتی ادارے ’’کے اے این‘‘ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے۱۵؍ نکاتی فریم ورک کے حوالے سے تین سرخ لکیریں مقرر کی ہیں۔ میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج کے اعلیٰ افسران ان مطالبات کو بدھ کو چیف آف اسٹاف ایال ضامیر کے ساتھ ہونے والی بحث میں پیش کریں گے۔ پہلی شرط غزہ میں خطرات کو ختم کرنے کے لیے مکمل عملداری کی آزادی ہے۔ فوج نے غزہ میں ہتھیاروں پر کنٹرول کا بھی مطالبہ کیاہے، ساتھ ہی کسی بھی جزوی یا مرحلہ وار انخلاء کی مخالفت کرتی ہے ،جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہ ہو جائے۔ کے اے این نے کہا کہ فوج کے یہ مطالبات سیاسی قیادت کو پیش کیے جائیں گے، جنہیں ان پر فیصلے کرنے ہوں گے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ میں اپنی نسل کش جنگی کارروائیوں میں۷۳؍ ہزار سے زائد افراد کو شہید اور۱۷۴۰۰۰؍ سے زائد کو زخمی کیا ہے۔ فلسطینی وزارت صحت غزہ کے مطابق،۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء سے نافذ جنگ بندی معاہدے کے باوجود، اسرائیل نے پورے خطے میں حملے جاری رکھے، جن میں۱۲۵۰؍ فلسطینی شہید اور۴۱۱۰؍ دیگر زخمی ہوئے۔