• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل سے۳؍ برسوں سے۱۳۷۰؍ سے زائد ڈاکٹر بیرونِ ملک منتقل، برین ڈرین کا خطرہ

Updated: September 08, 2026, 11:01 AM IST | Tal Aviv

اسرائیل میں ماہر ڈاکٹروں کے بڑھتے ہوئے بیرونِ ملک جانے سے طبی شعبہ شدید افرادی بحران کا شکار ہو رہا ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۵ء کے دوران ۱۳۷۰؍ سے زائد ڈاکٹر ملک چھوڑ چکے ہیں، جس سے مستقبل میں طبی خدمات پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

تل ابیب یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ تجربے کار اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کے ملک چھوڑنے سے اسرائیل کا طبی نظام بحران کا شکار ہو رہا ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق کے مطابق، ۲۰۲۳ ءسے ۲۰۲۵ء کے درمیان کم از کم ایک ہزار ۳۷۰؍ ڈاکٹروں نے اسرائیل چھوڑ دیا ہے، جو ملک کے طبی شعبے میں ماہرین کی بڑھتی ہوئی کمی (برین ڈرین) کو اجاگر کرتا ہے۔ ان نتائج کو اتوار کے روز اسرائیلی اخبارہارٹز (Haaretz) نے شائع کیا۔ اس تحقیق میں ان ڈاکٹروں کو ملک سے باہر جانے والوں میں شمار کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے جانے کے پہلے سال کے دوران ۲۷۰ء دنوں سے زیادہ کا وقت بیرونِ ملک گزارا اور اس کے بعد مستقل تین ماہ سے زیادہ اسرائیل میں قیام نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ’نیو میکسیکو‘ کا نام ’نیو امریکہ‘ رکھنے کا اشارہ، لیڈروں کا سخت ردعمل

اس تحقیق کے مصنفین میں سے ایک، پروفیسر اٹے اٹر (Itay Ater) نے بتایا کہ ماہرینِ اقتصادیات ۲۰۲۳ءسے ہی اس بات کا انتباہ دے رہے تھے کہ اسرائیل کے سیاسی اور سیکوریٹی بحران کی وجہ سے ماہر پیشہ ور افراد ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تشویش سب سے پہلے حکومت کے عدالتی نظام کے اختیارات کم کرنے کی کوششوں کے وقت سامنے آئی تھی اور ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ ء کے حملوں اور اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد اس میں مزید شدت آ گئی۔ محققین نے خاص طور پر ۴۵؍ سال سے زائد عمر کے ڈاکٹروں پر توجہ مرکوز کی، جو عام طور پر اپنی اسپیشلسٹ ٹریننگ مکمل کر چکے ہوتے ہیں اور جونیئر ڈاکٹروں کی تربیت میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ تین سال کے عرصے میں اسرائیل چھوڑنے والے ڈاکٹروں میں سے ہر پانچواں ڈاکٹر (۲۰؍ فیصد) ۴۵؍ سال سے زیادہ عمر کا تھا، جسے اسٹڈی میں ایک تشویشناک رجحان قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسکول کے پہلے دن ۸؍ سالہ بچی وفا عقیلہ والد سمیت اسرائیلی حملے میں جاں بحق

یہ کمی چند مخصوص شعبوں میں خاص طور پر زیادہ دیکھی گئی ہے۔ جیسے آنکھوں، جلد، اور ناک، کان و گلے (ENT) کے تقریباً ۱۱۶؍ ماہرین ڈ اکٹروں نے اسرائیل چھوڑا، جو ان شعبوں کے کل ڈاکٹروں کا ۶ء۲؍ فیصد ہے، جبکہ ۱۸۸؍ سرجن (کل تعداد کا تقریباً ۶؍ فیصد) بھی ملک چھوڑ کے جا چکے ہیں ۔ اسٹڈی کے مطابق، تل ابیب کے علاقے میں ڈاکٹروں کے ملک چھوڑنے کی شرح سب سے زیادہ ۵ء۴؍ فیصد درج کی گئی۔ یہ نتائج اسرائیلی وزارتِ خزانہ کی گزشتہ ہفتے کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں بتایا گیا کہ سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والے تقریباً ۲۴؍ فیصد اسپیشلسٹ ڈاکٹر ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید ۲۵؍ فیصد ایسے ہیں جو پہلے ہی ریٹائرمنٹ کی عمر پار کر چکے ہیں لیکن طبی عملے کی شدید کمی کی وجہ سے اب بھی کام کر رہے ہیں۔ پروفیسر اٹر نے خبردار کیا کہ فی الحال موجودہ صورتحال سے زیادہ آگے کا رخ تشویشناک ہے، اور ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے اسرائیل کے عام انتخابات کے بعد یہ رجحان مزید بگڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لندن میں موہن بھاگوت کا خطاب، کہا ’ اتحاد کیلئے یکسانیت ضروری نہیں ہے‘

یہ تحقیق اسرائیل سے شہریوں کے باہر جانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے دیگر اشاروں کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ اگست میں شائع ہونے والی تل ابیب یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ ۲۰۲۳ءسے ۲۰۲۵ء کے درمیان ۲؍ لاکھ ۶۸؍ ہزار ۵۰۹ ؍ اسرائیلی کم از کم تین ماہ کیلئے ملک چھوڑ کر باہر گئے جسے اسرائیلی نشریاتی ادارے کان(KAN) نے ایک ریکارڈ تعداد قرار دیا ہے۔ اسرائیلی رپورٹس میں اس انخلا کا تعلق جنگ، روزمرہ زندگی کے بھاری اخراجات اور حکومت کے سیاسی بحران سے جوڑا گیا ہے۔ اگست میں کان کیلئے کئےگئے ایک سروے میں پایا گیا کہ تقریباً ہر پانچ میں سے ایک اسرائیلی نے گزشتہ دو سالوں کے دوران ملک چھوڑنے پر غور کیا تھا، جبکہ ۱۲؍ فیصد لوگوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات کے نتائج اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ وہ ملک میں رہیں گے یا نہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK