اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کا قانون منظور ہونے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ متعدد ممالک اور انسانی حقوق کے اداروں نے اسے بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور انصاف کے اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 31, 2026, 6:05 PM IST | Tal Aviv
اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کا قانون منظور ہونے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ متعدد ممالک اور انسانی حقوق کے اداروں نے اسے بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور انصاف کے اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی جانب سے ایک ایسے قانون کی منظوری کے بعد عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی ہے جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت لازمی قرار دی گئی ہے۔ مختلف عالمی لیڈران نے اس اقدام کو ’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے۔ فلسطین نے اس قانون کو بین الاقوامی انسانی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ فلسطینی اتھاریٹی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کو روکنے اور اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کیلئے سخت مؤقف اختیار کرے، اور خبردار کیا ہے کہ ایسے ’نسل پرستانہ قوانین‘ خطے کے استحکام کیلئے خطرہ ہیں۔
Presidency condemns Israeli law allowing execution of Palestinian prisoners: pic.twitter.com/IN1LJtwBXL
— State of Palestine (@Palestine_UN) March 30, 2026
فلسطینی اتھاریٹی کے مطابق:’’یہ قانون بین الاقوامی انسانی قانون، خصوصاً چوتھے جنیوا کنونشن کی واضح خلاف ورزی ہے، جو افراد کے تحفظ اور منصفانہ ٹرائل کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ ‘‘فلسطینی وزارتِ خارجہ نے بھی اس قانون کو ’نسل کشی کو قانونی شکل دینے اور ماورائے عدالت قتل کو اپنانے کی خطرناک پیش رفت ‘ قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ قانون اسرائیل کو’براہِ راست بین الاقوامی قانون کے خلاف کھڑا کرتا ہے‘ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کرے، اس کے اداروں کو الگ تھلگ کرے، احتساب کے نظام کو فعال بنائے اور فلسطینی قیدیوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کرے۔
Echoing and legalising criminality, a decision in clear violation of int. law:Israeli Knesset law enabling execution of Palestinian prisoners marks a grave escalation. Enforce int. law, call for release of all Palestinian detainees in Israeli detention camps.Silence is complicity
— Varsen Aghabekian Shahin (@VarsenAghShahin) March 30, 2026
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی کہا کہ اس قانون کی منظوری’قابض قوت کی خونی فطرت‘ اور’قتل و دہشت پر مبنی پالیسی‘ کو ظاہر کرتی ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ یہ’فاشسٹ قانون‘ قیدیوں کی جانوں کیلئے خطرناک نظیر ہے اور فوری عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا۔
مصر نے بھی اس قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی قانون و جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی قرار دیا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ قانون امتیازی رویے کی عکاسی کرتا ہے اور منصفانہ ٹرائل کی ضمانتوں کو کمزور کرتا ہے۔ قاہرہ نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں۔
اردن کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس قانون کی ’شدید ترین الفاظ میں ‘ مذمت کی اور اسے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ترجمان سفیر فؤاد المجالی نے اس ’غیر قانونی، نسل پرستانہ اور امتیازی‘ قانون کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے خلاف ایک منظم پالیسی کا حصہ ہے۔
🔗 to full statement: https://t.co/EKEzXPehfN pic.twitter.com/cYTHCItUhA
— Helen McEntee TD (@HMcEntee) March 30, 2026
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ترک، نے اسرائیلی حکام سے اس منصوبے کو ترک کرنے کی اپیل کی، اور کہا کہ یہ کئی حوالوں سے بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون سے امتیازی سلوک اور منصفانہ ٹرائل کے حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے ’سنگین خدشات‘ پیدا ہوتے ہیں، جبکہ لازمی سزائے موت عدالتوں کے اختیارات سلب کرتی ہے اور حقِ زندگی کی خلاف ورزی ہے۔
یورپی ردعمل
جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ نے مشترکہ بیان میں اس قانون پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا۔ ان ممالک نے خبردار کیا کہ اس بل کا ’عملی طور پر امتیازی کردار‘ ہے اور یہ سزائے موت کے استعمال کو بڑھائے گا، جو اسرائیل کے جمہوری اصولوں سے وابستگی کو کمزور کر سکتا ہے۔ انہوں نے ہر صورت میں سزائے موت کی مخالفت کا اعادہ کیا۔ آئرلینڈ نے بھی اس قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سزائے موت کے دائرہ کار کو بڑھاتا ہے اور اس کے نفاذ کو دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ وزیر خارجہ ہیلن مک اینٹی نے کہا: ’’زندگی کا حق ایک بنیادی انسانی حق ہے‘‘ اور اس قانون کی امتیازی نوعیت پر تشویش ظاہر کی۔
سلووینیا کی وزیر خارجہ تانیا فاجون نے بھی اس قانون کو امتیازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انصاف اور سلامتی کو کمزور کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’سلامتی امتیاز پر قائم نہیں ہو سکتی اور انصاف بغیر انصاف کے ممکن نہیں۔ ‘‘یہ قانون۶۲؍ کے مقابلے میں ۴۸؍ ووٹوں سے منظور ہوا، جس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔
امریکہ نے اس قانون پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا:’’امریکہ اسرائیل کے خودمختار حق کا احترام کرتا ہے کہ وہ اپنے قوانین اور سزاؤں کا تعین کرے۔ ‘‘تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے اقدامات منصفانہ ٹرائل اور قانونی تحفظات کے ساتھ ہونے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے امریکی واسرائیلی یونیورسٹیوں کو جائزہدف قراردیا
دوسری جانب اسرائیلی انسانی حقوق تنظیم ’’اسوسی ایشن فار سول رائٹس اِن اسرائیل‘ ‘نے سپریم کورٹ میں اس قانون کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔ تنظیم کے مطابق سزائے موت بنیادی طور پر غیر آئینی ہے کیونکہ یہ حقِ زندگی کی سنگین اور ناقابلِ تلافی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے، جمہوری اقدار سے متصادم ہے، اور انتقام و نسل پرستی کے محرکات کے تحت منظور کیا گیا ہے۔ تنظیم نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ قانون کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور اس پر ہنگامی سماعت کی جائے۔ یہ قانون اپنی حتمی منظوری کے بعد فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ اس پر عالمی سطح پر بحث مزید شدت اختیار کرے گی۔