• Sat, 31 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل دنیا میں صحافیوں کو قید کرنے والا تیسرا بدترین ملک: پریس فریڈم گروپ

Updated: January 31, 2026, 4:06 PM IST | London

عالمی پریس فریڈم کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے جیلوں کی مردم شماری کی اپنی سالانہ رپورٹ ۲۰۲۵ء میں کہا ہے کہ اسرائیل دنیا میں صحافیوں کو قید کرنے کے لحاظ سے تیسرا بدترین ملک بن چکا ہے، جہاں کم از کم ۲۹؍ صحافی قید ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

عالمی پریس فریڈم کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے جیلوں کی مردم شماری کی اپنی سالانہ رپورٹ ۲۰۲۵ء میں کہا ہے کہ اسرائیل دنیا میں صحافیوں کو قید کرنے کے لحاظ سے تیسرا بدترین ملک بن چکا ہے، جہاں کم از کم ۲۹؍ صحافی قید ہیں۔ یہ صورتحال دنیا بھر میں صحافیوں کی سزاؤں اور گرفتاریوں میں مسلسل پانچویں سال ہے جس کے نتیجے میں ۳۰۰؍ سے زائد صحافی عالمی سطح پر قید میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل، چین اور میانمار صحافیوں کو گرفتار کرنے میں سب سے زیادہ بدنام ممالک میں شامل ہیں۔ چین اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے جہاں تقریباً ۵۰؍ صحافی قید ہیں جبکہ ۳۰؍ صحافیوں کی گرفتاری کے ساتھ میانمار دوسرے نمبر پر ہے۔ اسرائیلی قید میں ۲۹؍ صحافی ہیں جو دنیا بھر میں قید صحافیوں کا تقریباً ۹؍ فیصد ہے۔۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کا پہلی بار اعتراف، غزہ میں ۷۱؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید

سی پی جے نے کہا ہے کہ اسرائیل وہ واحد ملک ہے جسے عام طور پر جمہوریت سمجھا جاتا ہے لیکن اکتوبر ۲۰۲۳ء میں اسرائیل غزہ جنگ کے آغاز کے بعد فلسطینی صحافیوں کو تیزی سے گرفتار کیا جا رہا ہے۔ بہت سے صحافی بغیر کسی واضح الزام یا عدالت کے قید میں ہیں، جسے انٹرنیشنل قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی شہری کچھ شہری حقوق اور آزادیوں سے مستفید ہو سکتے ہیں، تاہم مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عدالت اور سیکوریٹی کا معیار بالکل مختلف ہے۔ اس رپورٹ میں عالمی سطح پر صحافیوں کے خلاف تشدد، گرفتاریوں، جان لیوا حالات اور علاج کی کمی بھی نمایاں کی گئی ہے، جہاں بہت سے قیدی صحافی زندگی کے لیے خطرناک حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ سابق قیدیوں اور مبصرین نے ان حالات کو ’’زندہ مردوں کا قبرستان‘‘ قرار دیا ہے، کیونکہ بہت سے صحافی عالمی خبریں پہنچانے کے دوران سخت سلوک، تشدد یا نظر بندی کا نشانہ بنے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کے خلاف اپنی سرزمین یا فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: آذربائیجان

عالمی منظر نامہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں صحافیوں کی گرفتاریوں کی تعداد اب بھی بلند سطح پر ہے اور جمہوری ممالک سمیت غیر جمہوری حکومتیں بھی صحافیوں کو حقیقت رپورٹ کرنے کی وجہ سے نشانہ بنا رہی ہیں۔ دیگر ممالک جیسے روس، بیلاروس، مصر اور ایریٹیریا بھی مستقل طور پر صحافیوں کو قید رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر ۱۰؍ بدترین ممالک دنیا بھر میں قید تقریباً ۷۵؍ فیصد صحافیوں کے ذمہ دار ہیں۔ عالمی پریس آزادی کی تنظیمیں، بشمول آر ایس ایف اور آئی ایف جے مہینوں سے عالمی قیادت پر زور دے رہی ہیں کہ وہ غزہ، اسرائیل اور مغربی کنارے میں صحافیوں کے لیے آزادانہ رسائی اور حفاظت ممکن بنائیں تاکہ صحافی آزادانہ طور پر رپورٹنگ کر سکیں۔ یہ تنظیمیں بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے اصولوں کی پاسداری کی اپیل بھی کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ عالمی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ متعدد صحافیوں کو ہلاک بھی کیا گیا اور کنٹرول کردہ علاقوں میں آزاد میڈیا تک رسائی محدود کی گئی ہے، جس سے صحافتی آزادی کی صورتحال بدتر ہو گئی ہے۔ ان رپورٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی قانون اور پریس فریڈم معاہدوں کے مطابق صحافیوں کو بغیر خوف کے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی آزادی دی جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK