Updated: March 17, 2026, 10:08 PM IST
| Gaza
غزہ میں جنگ کے بعد کے حالات کو سنبھالنے کیلئے ایک بین الاقوامی فوجی فورس کی تعیناتی کا منصوبہ سامنے آیا ہے، جو امن و امان بحال کرنے اور تعمیرِ نو کے عمل کی نگرانی کرے گی۔ تاہم، مختلف ممالک کی شمولیت اور سیاسی شرائط اس منصوبے کو پیچیدہ بنا رہی ہیں، جس سے اس کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
فوجی دستے ابتدائی طور پر جنوبی غزہ کی پٹی کے رفح علاقے میں متحدہ عرب امارات کی مدد سے تعمیر کئے جانے والے ایک فلسطینی شہر کے اطراف میں تعینات ہوں گے، اور بعد میں ان کی تعیناتی غزہ کے دیگر حصوں تک وسیع کی جائے گی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شریک ممالک کے فوجی وفود آئندہ دو ہفتوں کے اندر اسرائیل پہنچنے کی توقع ہے تاکہ غزہ میں فورس کی تعیناتی سے قبل جائزہ دورے (ریکانائسنس) کئے جا سکیں۔ اس کے بعد یہ فورس اُن علاقوں کے قریب اپنی موجودگی بڑھائے گی جنہیں اسرائیلی میڈیا ’’ییلو لائن‘‘ (زرد لکیر) کہتا ہے، جو غزہ کے اندر ایک عارضی حد بندی ہے جہاں سے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج وقتی طور پر پیچھے ہٹ گئی تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سیکڑوں غیر ملکی فوجی اگلے ماہ اردن جائیں گے جہاں انہیں غزہ میں داخلے سے پہلے تربیت دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: مجتبیٰ خامنہ ای علاج کے لئے ماسکو میں ہیں: کویتی اخبار الجریدہ کا دعویٰ
ٹرمپ منصوبے کا فریم ورک
۹؍ فروری کو اسرائیلی نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ غزہ جنگ کے خاتمے کیلئے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت ایک استحکام فورس کے حصے کے طور پر ہزاروں انڈونیشیائی فوجیوں کی آمد کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ اس سے قبل۱۶؍ جنوری کو وہائٹ ہاؤس نے غزہ کے عبوری دورکیلئے حکمرانی کے ڈھانچے کا اعلان کیا تھا، جن میں بورڈ آف پیس، غزہ ایگزیکٹو کونسل، غزہ انتظامیہ کیلئے قومی کمیٹی، اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس شامل ہیں۔ یہ استحکام فورس غزہ میں سیکوریٹی آپریشنز کی نگرانی کرے گی، مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرے گی، اور انسانی امداد اور تعمیر نو کے سامان کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ یہ اقدام غزہ جنگ کے خاتمے کیلئے ٹرمپ کے۲۰؍ نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے، جسے۱۷؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد۲۸۰۳؍ کی حمایت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے ساتھ جاری تنازع کے درمیان ٹرمپ نے اپنا بیجنگ کا دورہ ملتوی کردیا
انڈونیشیا کی شرائط
۶؍ مارچ کو انڈونیشیا نے اعلان کیا کہ اگر بورڈ آف پیس فلسطینی آزادی کی حمایت میں ناکام رہتا ہے تو وہ اس سے علاحدہ ہو جائے گا۔ صدر پرابوو سوبیانتو نے یہ مؤقف جکارتہ میں صدارتی محل میں ۱۶۰؍ سے زائد علما سے ملاقات کے دوران بیان کیا، جس سے بین الاقوامی فورس کے سیاسی فریم ورک میں ممکنہ پیچیدگیوں کا عندیہ ملتا ہے۔
غزہ کا پس منظر
۱۰؍اکتوبر۲۰۲۵ء کو ایک جنگ بندی معاہدہ نافذ ہوا جس سے قبل غزہ میں دو سالہ جنگ جاری رہی جس میں ۷۲؍ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اورایک لاکھ ۷۱؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جبکہ تقریباً۹۰؍ فیصد شہری ڈھانچہ تباہ ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق تعمیر نو کی لاگت تقریباً ۷۰؍ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ بین الاقوامی فورس کی تعیناتی جنگ کے بعد استحکام کی کوششوں میں ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔