Updated: August 28, 2026, 10:04 PM IST
| Paris
فرانسیسی روزنامہ لیبراسیون کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ چار برس کے دوران لابنگ گروپس کی مالی معاونت سے بیرونِ ملک جانے والے فرانسیسی اراکینِ پارلیمنٹ کیلئے اسرائیل سب سے بڑی منزل رہا، جون ۲۰۲۲ء سے مئی ۲۰۲۶ء تک اسرائیل کے ۶۰؍ سے زائد پارلیمانی دورے ریکارڈ کئے گئے، جن میں سے بیشتر کے اخراجات اسرائیل نواز لابنگ تنظیم یورپی لیڈرشپ نیٹ ورک ELNET نے برداشت کئے۔
نیتن یاہو فرانس کے صدر ایمانیوئل میکرون کے ساتھ۔ فائل فوٹو
فرانسیسی روزنامہ لیبراسیون (Libération) کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بیرونِ ملک دوروں کیلئے لابنگ گروپس کی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی معاونت کے معاملے میں اسرائیل فرانسیسی اراکینِ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی منزل بن کر سامنے آیا ہے۔ گزشتہ چار برس کے دوران اسرائیل کا دورہ کرنے والے فرانسیسی قانون سازوں کی تعداد دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ اخبار کے فیکٹ چیکنگ یونٹ چیک نیوز (CheckNews) نے جون ۲۰۲۲ء سے مئی ۲۰۲۶ء کے درمیان فرانسیسی قومی اسمبلی کے اراکین اور سینیٹرز کے غیر ملکی دوروں کا جائزہ لیا، جن کے اخراجات بیرونی ذرائع نے برداشت کئے تھے۔ تحقیق کے مطابق اسرائیل، چین، قطر اور تائیوان ایسے ممالک میں شامل رہے جہاں فرانسیسی قانون سازوں نے مالی معاونت سے دورے کئے۔ تاہم اسرائیل واضح طور پر سرفہرست رہا، جہاں ۶۰؍ سے زائد پارلیمانی وفود نے دورہ کیا، جبکہ اسی عرصے میں تائیوان کے ۳۲؍، قطر کے ۲۵؍ اور چین کے صرف ۱۴؍ دورے ریکارڈ کئے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد ۴۶۹؍ ہوگئی، ریسکیو ابھی تک جاری
اسرائیلی دوروں کے پیچھے لابنگ گروپ ELNET
تحقیق کے مطابق جہاں دیگر ممالک کے دوروں کا انتظام عموماً متعلقہ وزارتوں اور سفارت خانوں کے ذریعے کیا گیا، وہیں اسرائیل کے زیادہ تر دوروں کے اخراجات یورپی لیڈرشپ نیٹ ورک (ELNET) نے برداشت کئے۔ یہ برسلز میں قائم ایک تنظیم ہے جو یورپ میں اسرائیلی مفادات کی حمایت کیلئے کام کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ELNET فرانس سے اسرائیل آنے والے قانون سازوں کے تمام اخراجات برداشت کرنے کی پیشکش کرتا ہے، جبکہ ایک دورے پر اوسطاً تقریباً ۴؍ ہزار یورو خرچ ہوتے ہیں۔ وفود کے قیام کیلئے تل ابیب کے انٹرکانٹینینٹل ڈیوڈ جیسے لگژری ہوٹل کا بھی انتخاب کیا گیا۔
مدعو کئے جانے والے اراکینِ پارلیمنٹ کا سیاسی رجحان
تحقیق میں اسرائیل کے ان دوروں کیلئے مدعو کئے جانے والے فرانسیسی اراکینِ پارلیمنٹ کی سیاسی وابستگیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کے حامی اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے معروف سیاست دانوں میں سے کسی کو ان دوروں میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس ELNET کی توجہ زیادہ تر دائیں بازو اور مرکز سے دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والے سیاست دانوں پر مرکوز دکھائی دی۔ تحقیق کے مطابق یہ انتخابی طرزِ عمل اسرائیل سے متعلق فرانسیسی سیاسی مباحثے پر اثرانداز ہونے کیلئے ایک منظم لابنگ حکمتِ عملی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نسل کشی کا مجرم ’بوسنیا کا قصاب‘ راتکوملادیچ کا ۸۴؍ برس کی عمر میں انتقال کر گیا
۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد دوروں میں اضافہ
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد اسرائیل کیلئے مالی معاونت سے ہونے والے پارلیمانی دوروں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر ریکارڈ کئے گئے ۶۰؍ دوروں میں سے ۴۴؍ دورے اسی تاریخ کے بعد ہوئے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی اور اسرائیل سے متعلق عالمی سطح پر سیاسی و سفارتی توجہ میں بھی اضافہ ہوا تھا۔
ELNET کا مؤقف
تحقیق پر ردعمل دیتے ہوئے ELNET فرانس کے پبلک افیئرز افسر ایریل بیلائیشے نے تنظیم کی سرگرمیوں کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ELNET کا کام اسرائیلی حکومت سے آزاد اور غیر جانب دارانہ بنیادوں پر ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنظیم فرانسیسی سیاست کے ’’تمام جمہوری تنظیموں‘‘ کے ساتھ کام کرتی ہے اور کسی سیاسی جماعت یا سیاست دان کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتی۔
یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا سے بچوں کو بچانے کی کوشش تیز
دوروں کی تفصیلات ظاہر کرنے کا قانونی نظام
فرانس کے قانونی نظام کے تحت قومی اسمبلی کے اراکین کیلئے ۲۰۱۲ء سے، جبکہ سینیٹرز کیلئے ۲۰۱۴ء سے لازم ہے کہ وہ ۱۵۰؍ یورو سے زائد مالیت کے تحائف اور بیرونِ ملک دوروں کی دعوتوں کو ظاہر کریں۔ اسی شفافیت کے نظام کی مدد سے CheckNews نے ان مالی معاونت سے ہونے والے دوروں کا ریکارڈ مرتب کیا۔ تحقیق نے فرانسیسی پارلیمنٹ میں غیر ملکی اثر و رسوخ، سیاسی لابنگ اور بیرونِ ملک دوروں کی مالی معاونت کے حوالے سے شفافیت کے بارے میں نئے سوالات اٹھا دیے ہیں، بالخصوص اس بات پر کہ اسرائیل سے متعلق لابنگ کی سرگرمیاں فرانسیسی سیاست کے مخصوص سیاسی حلقوں پر کس حد تک مرکوز رہی ہیں۔