Inquilab Logo Happiest Places to Work

نسل کشی کا مجرم ’بوسنیا کا قصاب‘ راتکوملادیچ کا ۸۴؍ برس کی عمر میں انتقال کر گیا

Updated: August 28, 2026, 10:30 AM IST | Amsterdam

بوسنیا کی ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۵ء جنگ کے دوران نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں عمر قید کی سزا پانے والا سابق بوسنیائی سرب جنرل راتکو ملادیچ ۸۴؍ برس کی عمر میں نیدرلینڈز میں انتقال کر گیا۔ ’’بوسنیا کا قصاب‘‘ کے نام سے مشہور ملادیچ کو ۱۹۹۵ء میں سربرینیتسا میں ۸؍ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمانوں کے قتل عام کی منصوبہ بندی اور قیادت کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ٹریبونل نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے حالات کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

Ratko Mladic. Image: X
راتکو ملادیچ۔ تصویر: ایکس

بوسنیا اور ہرزیگووینا میں ۱۹۹۲ء سے ۱۹۹۵ء تک جاری رہنے والی خونریز جنگ کے دوران نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹنے والا سابق بوسنیائی سرب جنرل راتکو ملادیچ انتقال کر گیا۔ ’’بوسنیا کا قصاب‘‘ کہا جانے والا ملادیچ ۸۴؍ برس کی عمر میں نیدرلینڈز میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام جیل کے اسپتال میں انتقال کر گیا۔ دی ہیگ میں قائم اقوام متحدہ کے ٹریبونل نے جمعرات کو اس کی موت کی تصدیق کی۔ انٹرنیشنل ریزیڈیول میکینزم فار کریمنل ٹریبونلز نے ایک بیان میں کہا، ’’ملادیچ آج دی ہیگ کے اسپتال میں زیرِ علاج رہتے ہوئے انتقال کر گیا۔‘‘ ادارے نے مزید بتایا کہ جج گریسیلا گٹی سانتانا نے ان کی موت کے حالات کی ’’مکمل تحقیقات‘‘ کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا سے بچوں کو بچانے کی کوشش تیز

ملادیچ کے ایک اہلِ خانہ نے بھی اسی روز ان کی موت کی تصدیق کی اور ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ملادیچ کے بیٹے ڈارکو ملادیچ دی ہیگ جانے کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ ملادیچ کو ۱۹۹۵ء میں بوسنیا کے اقوام متحدہ کی جانب سے ’’محفوظ علاقہ‘‘ قرار دیے گئے مقام میں کم از کم ۸؍ ہزار بوسنیائی مسلمان لڑکوں اور مردوں کے قتل عام کی منصوبہ بندی اور قیادت کرنے پر نسل کشی کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ میں ہونے والے بدترین مظالم میں شمار ہوتا ہے۔ ۲۰۱۷ء میں جنگی جرائم کے ٹریبونل نے انہیں ان جرائم کے لیے عمر قید کی سزا سنائی تھی، جنہیں اس وقت عدالت نے ’’انسانیت کو معلوم انتہائی سنگین جرائم میں سے بعض‘‘ قرار دیا تھا۔ سابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد الحسین نے سزا سنائے جانے کے بعد ملادیچ کو ’’شر کی مکمل علامت‘‘ قرار دیا تھا۔

سابق کمیونسٹ فوجی افسر سے قوم پرست جنگی سردار بننے والے ملادیچ اس تنازع کے سب سے بدنام کرداروں میں شامل تھے، جس میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے گئے اور ۲۰؍ لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔ ملادیچ نے اپنی فوج کو بوسنیائی مسلمانوں کے ’’دماغ جھلسا دینے‘‘ کا حکم دیا تھا اور خود کو ’’سربیا کا خدا‘‘ قرار دینے پر بھی فخر کیا تھا۔ ۱۹۹۲ء میں بوسنیا کی جنگ شروع ہونے کے بعد ملادیچ بوسنیائی سرب فوج کے کمانڈر بنے اور ملک کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ ان کا مقصد ایک علیحدہ سرب ریاست قائم کرنا تھا۔ ملادیچ کے زیرِ کمان سرب فورسز نے دارالحکومت سرائیوو سمیت دیگر شہروں اور دیہات کا محاصرہ کیا، بوسنیائی مسلمانوں اور مخالف فوجیوں کے لیے حراستی کیمپ قائم کیے اور قیدیوں کو منظم طریقے سے قتل کیا۔

یہ بھی پڑھئے: بی اے، بی ایس سی، بی کام کی ڈگریاں روزگار سے دور، اصلاحات کی ضرورت: نیتی آیوگ

سربرینیتسا قتل عام

نسل کشی کے طور پر تسلیم کیے جانے والے یہ قتل عام اس جنگ کا نقطۂ عروج تھا، جو کم از کم تین سال تک جاری رہی۔ ملادیچ کی قوم پرست سرب فوج نے توپ خانے، ٹینکوں، مارٹروں اور بھاری مشین گنوں سے سرائیوو پر روزانہ گولہ باری کی، جس میں تقریباً ۱۰؍ ہزار افراد مارے گئے۔ جولائی ۱۹۹۵ء میں سربرینیتسا میں قتل کیے گئے افراد کی لاشوں کو چار دن تک بلڈوزروں کے ذریعے اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا۔ بعض لاشوں کو بعد میں وہاں سے نکال کر دور دراز پہاڑی علاقوں میں منتقل کیا گیا تاکہ قتل عام کے شواہد چھپائے جا سکیں۔ سابق یوگوسلاویہ کے لیے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل (ICTY) کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ’’نسلی صفایا‘‘ تھا، یعنی بوسنیائی مسلمانوں، کروٹس اور دیگر غیر سرب باشندوں کو زبردستی ان کے علاقوں سے نکال کر بوسنیا کی سرزمین کو ایک وسیع تر سرب ریاست کے لیے خالی کرانا۔ ٹریبونل نے قرار دیا تھا کہ ملادیچ نے سابق سرب صدر سلوبودان میلوسووچ اور بوسنیائی سرب سیاسی رہنما رادووان کراڈزچ کے ساتھ مل کر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک مجرمانہ سازش میں حصہ لیا۔ ملادیچ اپنے مقدمے کے دوران بھی اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ ۲۰۱۴ء میں ICTY میں سماعت کے دوران انہوں نے کہا تھا، ’’میں اس عدالت کو تسلیم نہیں کرتا۔‘‘ ۲۰۱۷ء میں عمر قید کی سزا سنائے جانے پر انہوں نے عدالت میں چیخ کر کہا تھا، ’’یہ سب جھوٹ ہے، آپ سب جھوٹے ہیں!‘‘

یہ بھی پڑھئے: کانگریس نے مردم شماری کے طریقۂ کار کو مسترد کر دیا

ملادیچ کی موت اجتماعی قبروں کو ختم نہیں کرتی

ملادیچ کے جرائم کے باوجود بہت سے سرب باشندے آج بھی انہیں ایک ایسے فوجی کمانڈر کے طور پر دیکھتے ہیں جس نے اپنے آپ کو ایک ’’سادہ آدمی‘‘ کے طور پر پیش کیا اور جسے قسمت نے اپنی قوم کے تحفظ کے لیے منتخب کیا تھا۔ بوسنیائی سرب علیحدگی پسند رہنما میلوراد ڈوڈک نے ملادیچ کی موت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’یہ ایک قتل ہے۔ سرب عوام ان کا احترام کرتے تھے۔ بحیثیت کمانڈر وہ سربوں کے دفاع کے لیے کھڑے رہے۔‘‘ تاہم سربرینیتسا میموریل کے سربراہ ریمیر سولجاغیچ نے کہا کہ ملادیچ کی موت کے بعد ان کے متاثرین کو یاد رکھنا اور انہیں ہیرو کے طور پر پیش کرنے سے گریز کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس سے مردے واپس نہیں آتے۔ اجتماعی قبریں صاف نہیں ہوتیں۔ فیصلے تبدیل نہیں ہوتے۔ اور اس سے مجرم کوئی تاریخی شخصیت نہیں بن جاتا۔‘‘ کادا ہوتِچ کے شوہر اور بیٹے کو بھی ۱۹۹۵ء میں سرب فورسز نے قتل کر دیا تھا۔ اس وقت ان کی عمریں بالترتیب ۵۶؍ اور ۲۹؍ برس تھیں۔ ۸۲؍ سالہ کادا ہوتِچ نے رائٹرز کو بتایا کہ انصاف ہو چکا ہے کیونکہ ملادیچ جیل میں ہی مرا۔ انہوں نے کہا، ’’میں ٹریبونل کی شکر گزار ہوں کہ اس نے ملادیچ کو عمر قید کی سزا سنائی اور اسے رہا نہیں کیا۔ وہ رسوائی کے عالم میں مرا، کیونکہ اس نے بہت سے لوگوں کو قتل کیا تھا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK