• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی زرعی برآمدات تباہی کے دہانے پر، غزہ نسل کشی کا نتیجہ

Updated: January 23, 2026, 9:58 PM IST | Tel Aviv

غزہ نسل کشی کے سبب عالمی بازار میں اسرائیلی برآمدات کو عوام مسترد کررہے ہیں، جس کے سبب اسرائیل کی زرعی برآمدات تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

Symbolic image; Image INN
علامتی تصویر؛ تصویر آئی این این

اسرائیلی کسانوں نے خبردار کیا ہے کہ ملک کی زرعی برآمدات کی صنعت غزہ میں نسل کشی کے خلاف عالمی بائیکاٹ کی وجہ سے ایک بڑی تباہی کا سامنا کر رہی ہے۔ حالیہ رپورٹس میں اسرائیل کے بائیکاٹ کے اثرات اور اسرائیلی ’’برانڈ‘‘ کے شاید کبھی بحال نہ ہونے کی وجوہات بتائی گئی ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں، اسرائیل کے سرکاری براڈکاسٹر’’ کان ۱۱؍‘‘ نے متعدد رپورٹس نشر کیں جن میں پھلوں کی برآمدات، خاص طور پر یورپی مارکیٹوں میں، بہت بڑے مسائل کا سامنا کرنے کی بات کی گئی ہے۔یہ رپورٹس کسانوں کی زبان میں مکمل تباہی(looming collapse) کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جو غیر ارادی طور پر اسرائیل کے جاری بین الاقوامی بائیکاٹ کے اثرات کو ظاہر کرتی ہیں۔اب اسرائیل خود کو روس کے ساتھ بائیکاٹ شدگان کی فہرست میں دیکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران پر ممکنہ امریکی حملوں سے اسرائیل خوف زدہ، الرٹ جاری

ایک آم کے کسان نے’’کان ۱۱؍‘‘ کو بتایا یورپ کے پاس کوئی متبادل نہ ہوتب ہی وہ ہم سے خریدتے ہیں۔سب سے واضح مشترکہ وجہ غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی ہے۔ جیسا کہ گزشتہ سال کے ایک بڑے سروے میں دیکھا گیا کہ زیادہ تر اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ ’’غزہ میں کوئی بے گناہ نہیں ہے۔‘‘ بعد ازاں رپورٹ میں کسان روتے نظر آتے ہیں۔ عام طور پر یہ مانا جارہا ہے کہ حقیقت میں، اسرائیل میں جو متاثر ہو رہا ہے وہ کوئی ایک شعبہ نہیں بلکہ اسرائیلی برانڈ ہے، جو شاید کبھی بحال نہ ہو۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس برانڈ کی بہترین نمائندگی ’’جافا اورنجز‘‘ کرتی ہے، جو اب بین الاقوامی مارکیٹ سے تقریباً غائب ہو چکی ہیں یہ برانڈ فلسطینی ثقافت کی چوری اور نوآبادیاتی   آبادکاری کی علامت ہے۔
نومبر۲۰۲۵ء کے آخر میں نشر ہونے والی رپورٹ’’ سنتروں کے موسم کا اختتام‘‘ کیبوتز گیوات ہائم ایچوڈ کے باغات پر مرکوز ہے۔ کسان نیتزان ویس برگ کہتے ہیں کہ برآمدات کے آرڈرز نہ ہونے سے تمام باغات اکھاڑے جانے کے خطرے میں ہیں۔ یورپ سے آرڈرز منسوخ ہو رہے ہیں، اور جنگ کے بعد نقصان میں کام چل رہا ہے۔ اگر یہ جاری رہا تو ’’تباہی‘‘ آ جائے گی۔ایک اور کسان گیل الن کہتے ہیں کہ جنگ کے شروع سے برآمدات بند کر دیں۔رونن الفاسی گریپ فروٹ کو غزہ مارکیٹ میں بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن قیمت زیادہ ہونے سے خریدار نہیں۔ جافا اورنج برانڈ، جو ۱۸۰۰ءکی دہائی میں فلسطینی کسانوں نے مشہور کیا تھا، اب تاریخ بن چکا ہے۔ڈینیئل کلوسکی کہتے ہیں کہ جنگ سے پہلے اسکینڈینیویا کو برآمد کرتے تھے، اب ایک بھی کنٹینر نہیں گیا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی پابندیوں سے غزہ میں پانی کی فراہمی متاثر: اقوام متحدہ

تاہم اس کی ایک وجہ حوثیوں کے بحری جہازوں پر حملے کو بتایا جارہا ہے جس کی وجہ سے طویل راستہ طے کرکےسامان پہنچتا ہے، جو۹۰؍ ۱۰۰؍ دن تاخیر سے آتا ہے اور کوالٹی خراب ہو جاتی ہے۔ انٹرویو میں کہا گیا کہ ’’یورپی عوام اسرائیلی سامان صرف ایسی صورت میں خریدتے ہیں جب متبادل نہ ہو۔ اس کے علاوہ اگست۲۰۲۵ء کی رپورٹ میں ریٹائرڈ جنرل موتی الموز (اب آم کا کسان) کہتے ہیں کہ’’ پیداوار بہت اچھی تھی لیکن۲۵؍ فیصد آم زمین پر پڑا ہے۔ یورپ سے خریداری کم ہوئی ہے کیونکہ وہ ہمارے آم نہیں چاہتے۔ ‘‘غزہ اور مغربی کنارہ کی  مارکیٹ بند ہو گئی۔۱۲۰۰؍ ٹن پیداوار میں سے ۷۰۰؍ ٹن درختوں پر ہی رہ جائیں گے اور سڑ جائیں گے۔اس نے روتے ہوئے کہا کہ یہ نسل کشی کے کڑوے پھل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK