رمضان المبارک کے لیے فروخت ہونے والی کھجوروں پر اصل منبع (اوریجن) چھپانے کے لیے جعلی لیبل لگائے گئے ہیں،جس کے سبب یورپ بھر میں صارفین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 7:31 PM IST | Paris
رمضان المبارک کے لیے فروخت ہونے والی کھجوروں پر اصل منبع (اوریجن) چھپانے کے لیے جعلی لیبل لگائے گئے ہیں،جس کے سبب یورپ بھر میں صارفین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یورپ بھر میں صارفین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ رمضان المبارک کے لیے فروخت ہونے والی کھجوروں پر اصل منبع (اوریجن) چھپانے کے لیے جعلی لیبل لگائے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق افریقی ممالک یا اردن کی پیداوار ظاہر کی جانے والی کھجوریں دراصل اسرائیل سمیت تل ابیب اور مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے منگوائی گئی تھیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں صارفین کو پیکنگ کے معاملے پر دکانداروں سے بازپرس کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں خریدار یہ کہہ رہا ہے، ’’میرے پیسے واپس کرو۔ میں یہ رقم اسرائیل کو نہیں دینا چاہتا۔ اسرائیل قاتل ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کا غزہ کے۶۰؍ فیصد علاقے پرقبضہ، فلسطینی ہلاکتیں ۷۲؍ہزار سے متجاوز
جبکہ خوردہ فروشوں پر الزام ہے کہ وہ صارفین کے بائیکاٹ اور اسرائیلی مصنوعات سے متعلق جانچ سے بچنے کے لیے کھجوروں کی ری پیکنگ اور دوبارہ لیبل لگا رہے ہیں۔دریں اثناء کارکنوں نے صارفین کی مدد کے لیے آن لائن گائیڈز بھی جاری کیے ہیں، جن کی مدد سے لوگ اسرائیل میں تیار ہونے والی کھجوروں کی شناخت کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحت کے خلاف یورپ میں اسرائیل کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے، عوام کی اکثریت نے اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کی، مظاہروں کا اہتمام کیا، اور اپنا احتجاج درج کرایا۔ اسرائیل پر معاشی دبائو بڑھانے کیلئے متعدد تنظیموں نے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ، جس کی عوام کی بڑی تعداد نے حمایت کی۔ انہیں مصنوعات میں اسرائیلی کھجوریں بھی ہیں ، جو تمام یورپ میں بڑے پیمانے پر استعمال کی جاتی تھیں، تاہم بائیکاٹ کے سبب ان کی فروخت بری طرح متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیلی حملوں اور فلسطینیوں کی جبری بےدخلی سے نسلی تطہیر کا خطرہ
بعد ازاں عوام کے بائیکاٹ سےکو غچہ دینے کی غرض سے اب اسرائیلی کھجوروں جعلی لیبل اور دوبارہ پیک کرکے فروخت کیا جارہا ہے۔ جو صارفین سے ساتھ سراسر دھوکہ ہے۔ اسی طرح کے ایک واقع نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب راغب کی جب ایک صارف نے معمولی تحقیق اور سمجھ کا استعمال کرکے اس کا پردہ فاش کردیا۔