• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

IMDb کی فہرستوں میں ’اسرائیل‘ کی جگہ ’مقبوضہ فلسطینی علاقے‘ درج ہونے کا انکشاف

Updated: September 10, 2026, 11:36 AM IST | Tal Aviv

اسرائیلی اخبار ہارٹز کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، فلم و ٹی وی ڈیٹا بیس IMDbPro پر بعض اسرائیلی فلم ڈسٹری بیوٹرز کے تقسیم کے علاقوں کو ’اسرائیل‘ کے بجائے ’فلسطینی علاقے‘ یا ’مقبوضہ فلسطینی علاقے‘ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ تبدیلی ابھی محدود ریکارڈز تک نظر آ رہی ہے اور IMDb کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت یا عمومی پالیسی سامنے نہیں آئی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز (Haaretz) کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، امیزون کی ملکیت والی مشہور فلم اور ٹی وی ڈیٹا بیس آئی ایم ڈی بی (IMDb) نے کچھ اسرائیلی فلم ڈسٹری بیوٹرز کیلئے تقسیم کے علاقوں کی شناخت ’اسرائیل‘ کے بجائے’فلسطینی علاقے ‘ یا’مقبوضہ فلسطینی علاقے‘کے طور پر کرنی شروع کر دی ہے۔ یہ تبدیلی پلیٹ فارم کے سبسکرپشن پر مبنی حصے آئی ایم ڈی بی پرو (IMDbPro) میں دیکھی گئی ہے، جسے فلم اور ٹی وی انڈسٹری کے پیشہ ور افراد استعمال کرتے ہیں۔ یہ تبدیلی ان فہرستوں سے متعلق ہے جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مختلف کمپنیوں نے کن علاقوں کیلئے کسی خاص فلم کی تقسیم کے حقوق حاصل کئے ہیں۔ آئی ایم ڈی بی کی اپنی ہدایات کے مطابق، اس کا ڈسٹری بیوٹر سیکشن ان کمپنیوں کا ریکارڈ رکھتا ہے جو مختلف میڈیا اور علاقوں میں تقسیم کے حقوق رکھتی ہیں۔ اس کے ڈیٹا بیس میں اسرائیل اورمقبوضہ فلسطینی علاقے کیلئے الگ الگ کنٹری کوڈز موجود ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ پلیٹ فارم کے سسٹم میں یہ دونوں نام پہلے سے ہی موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی پابندی، تل ابیب کا جوابی اقدام

ہارٹزکے مطابق، کچھ ایسی فہرستیں جہاں پہلے اسرائیل کو تقسیم کا علاقہ بتایا گیا تھا، وہاں اب فلسطینی علاقے یامقبوضہ فلسطینی علاقے لکھا نظر آ رہا ہے۔ تاہم، ایسا لگتا ہے کہ یہ تبدیلی پورے آئی ایم ڈی بی پرو پر ایک ساتھ یا مکمل طور پر لاگو نہیں کی گئی ہے۔ دیگر فلموں کی فہرستوں میں اب بھی اسرائیل ہی لکھا ہوا ہے، جس سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ کوئی نئی عمومی پالیسی ہے یا صرف ڈیٹا بیس میں کی گئی کچھ انفرادی تبدیلیاں ہیں۔ رپورٹ میں پیش کی گئی مثالوں میں سے ایک ہسپانوی فلم دی بلیک بال (La Bola Negra) ہے، جسے اس سال کے کینز فلم فیسٹیول (Cannes Film Festival) میں دکھایا گیا تھا۔ آئی ایم ڈی بی پرو پر اس کے اسرائیلی ڈسٹری بیوٹر `نیو سنیماز کے پاس مقبوضہ فلسطینی علاقوں کیلئے تقسیم کے حقوق دکھائے گئے ہیں۔ اسی طرح کی فہرستیں فلم رنراوربیک رومز کیلئے بھی سامنے آئی ہیں، جن کی اسرائیل میں تقسیم کار کمپنی ریڈ کیپ ہے۔ اس کے علاوہ لیو فلمزاور یونائیٹڈ کنگ جیسے دیگر اسرائیلی ڈسٹری بیوٹرز سے جڑی فلموں کے ساتھ بھی یہی الفاظ ظاہر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہانگ کانگ کے پہلے چیف ایگزیکٹو تنگ چی ہوا ۸۹؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے

متاثرہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس تبدیلی کے بارے میں پہلے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ ریڈ کیپ نے کہا کہ وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ ان کے تقسیم کے علاقے کو اس طرح ظاہر کیا گیا ہے اور وہ اسے درست کرنے کیلئے آئی ایم ڈی بی سے رابطہ کریں گے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ اس کے معاہدوں میں تقسیم کے علاقے کے طور پر صرف اسرائیل لکھا ہوتا ہے اور اس نے اپنے حقوق کی اس نئی پیشکش کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ دوسری طرف لیو سنیما نے ایک الگ وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود آئی ایم ڈی بی پرو پر یہ معلومات درج نہیں کرتے، بلکہ یہ ڈیٹا فلم پروڈیوسرز یا سیلز کمپنیوں کی طرف سے داخل کیا جاتا ہے۔ کمپنی نے زور دے کر کہا کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے، ان کے معاہدوں کے تحت خریدی گئی ملکیت صرف اسرائیل میں تقسیم کیلئےہی ہے۔ اس وضاحت سے اس نئی اصطلاح کے اصل ذریعے کے بارے میں اہم سوالات اٹھتے ہیں۔ آئی ایم ڈی بی کی اپنی دستاویزات کے مطابق، کمپنیوں اور تقسیم سے متعلق معلومات ڈیٹا بیس میں جمع کرائی جا سکتی ہیں جن کا ان کے ایڈیٹرز جائزہ لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ۸۱؍ واں اجلاس شروع، عالمی نظام پر اعتماد بحال کرنے پر زور

تاہم، آئی ایم ڈی بی نے اس بارے میں کوئی عام وضاحت نہیں دی ہے کہ ان ریکارڈز میں یہ تبدیلی کیوں آئی، اور ہارٹز کے مطابق کمپنی نے ان کے سوالات کا کوئی جواب بھی نہیں دیا۔ اس کے علاوہ آئی ایم ڈی بی کی طرف سے فی الحال کوئی ایسا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے جس کے تحت اسرائیل کا نام ہٹا کر فلسطینی علاقے رکھنے کی کسی عمومی پالیسی کا پتہ چلتا ہو۔ یہ فرق اس لئےاہم ہے کیونکہ یہ معاملہ انڈسٹری کے پیشہ ورانہ تجارتی ڈیٹا سے جڑا ہے، نہ کہ عام صارفین کے ذریعے دیکھے جانے والے آئی ایم ڈی بی کے عام صفحات سے۔ اس کے باوجود اس واقعے نے کافی توجہ حاصل کی ہے کیونکہ کسی بھی علاقے کیلئے استعمال ہونے والے الفاظ کی اہمیت فلمی کاروبار سے کہیں آگے تک جاتی ہے۔ فلسطینی علاقےاور مقبوضہ فلسطینی علاقہ جیسے الفاظ بین الاقوامی سفارتی تناظر میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سیگریٹ کا سیکنڈ ہینڈ دھواں ۲۰۲۳ء میں دنیا بھر میں۱۷؍ لاکھ اموات کا سبب: مطالعہ

دستیاب ثبوت اس دعوے کی حمایت نہیں کرتے کہ آئی ایم ڈی بی نے اپنے ڈیٹا بیس سے اسرائیل کا نام مکمل طور پر مٹا دیا ہے، کیونکہ دیگر ریکارڈز میں اسرائیل اب بھی موجود ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کچھ ریکارڈز میں یہ تبدیلی کیوں کی گئی، یہ نئے الفاظ کس نے فراہم کئے آیا آئی ایم ڈی بی کا ارادہ اسے مزید بڑے پیمانے پر لاگو کرنے کا ہے یا نہیں۔ اسرائیلی ڈسٹری بیوٹرز کیلئے یہ ایک قانونی اور معاہداتی مسئلہ بھی ہے، کیونکہ اگر انہوں نے صرف اسرائیل کیلئےحقوق خریدے ہیں، تو اسے مقبوضہ فلسطینی علاقے کے طور پر دکھانا ان کے معاہدے کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ آئی ایم ڈی بی کی طرف سے کسی وضاحت کے بغیر یہ سوال اب بھی غیر حل شدہ ہے کہ یہ تبدیلی کسی ایڈیٹوریل فیصلے کا نتیجہ تھی یا پروڈیوسرز کی طرف سے دی گئی معلومات کا اثر۔ فی الحال، یہ صورتحال آئی ایم ڈی بی پرو پر ایک جزوی تبدیلی کی ہی نشان دہی کرتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK