اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ترکی کے خلاف مہم چھیڑ رکھی ہے، جبکہ حالیہ سروے میں ان کی لیکوڈ پارٹی نچلی سطح پر دکھائی دے رہی ہے۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 8:59 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ترکی کے خلاف مہم چھیڑ رکھی ہے، جبکہ حالیہ سروے میں ان کی لیکوڈ پارٹی نچلی سطح پر دکھائی دے رہی ہے۔
— اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو امریکی دباؤ کے تحت ایران اور لبنان پر حملے روکنے پر مجبور ہونے کے بعد اپنی انتخابی مہم کا محور ترکی مخالف بیان بازی کو بنا رہے ہیں۔نیتن یاہو، جن کا نام کرپشن الزامات سے وابستہ رہا ہے اور جن کی پارٹی عوامی رائے عامہ میں گراوٹ کا شکار ہے، طویل عرصے سے جیل سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جبکہ وہ پہلے اسرائیلی وزیراعظم بنے جنہوں نے کرپشن کے مقدمے کا سامنا کیا۔ساتھ ہی انہیں اسرائیل میں بھی ’’اپنی کرسی بچانے کے لیے خطے کو آجنگ میں جھونکنےپر تنقید کا سامنا ہے۔ جس کے سبب بین الاقوامی فوجداری عدالت نے۲۱؍ نومبر۲۰۲۴ء کو غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر نیتن یاہو کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا۔نیتن یاہو غزہ پر ہی نہیں رکے، بلکہ انہوں نے علاقائی ممالک پر بھی حملے کیے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے ترکی کےصدر اردگان کو’’یہود مخالف آمر‘‘ قرار دیا
اس فیصلے کو ان کے اتحادی شراکت داروں اور اپوزیشن لیڈروں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سابق وزیراعظم یائیر لاپید، جو مرکزی اپوزیشن جماعت یش عتید کے لیڈرہیں، نے امریکہ-ایران معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو ’’جنگ ہار گئے۔‘‘اس کے علاوہ سابق وزیر دفاع ایویگڈور لیبرمین نے لبنان میں ہونے والی جنگ بندی پر تنقید کرتے ہوئے نیتن یاہو کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’وزیراعظم نہیں، بلکہ ایک کٹھ پتلی۔‘‘ اس کے علاوہ نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی اور قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے اسرائیلی وزیراعظم سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطالبے کو مسترد کرنے کہا۔
یہ بھی پڑھئے: یہ بھی ناکام ہوں گی: ایران کا ٹرمپ کی نئی اقتصادی پابندیوں پر ردعمل
بعد ازاں نیتن یاہو کی پارٹی لیکوڈ اس وقت اسرائیل کی۱۲۰؍ نشستوں والی پارلیمنٹ میں۳۲؍ نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے۔ لیکن۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ لیکوڈ۳۲؍ نشستوں سے گر کر۲۳؍ پر آجائے گی اور دوسری بڑی جماعت بن جائے گی۔ سروے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ لیکوڈ اور نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو اور انتہائی بنیاد پرست اتحادی مخلوط حکومت بنانے کے لیے درکار۶۱؍ نشستوں سے بہت دور ہیں۔۱۹؍ اگست کو اسرائیلی چینل۱۳؍ کے شائع کردہ سروے میں دکھایا گیا کہ نیتن یاہو اور ان کے اتحادی کل۵۱؍ نشستیں جیت رہے ہیں۔ن
یتن یاہو اور ان کی ٹیم امریکی دباؤ کے تحت ایران اور لبنان پر حملے ختم کرنے پر مجبور ہونے کے بعد ترکی مخالف بیان بازی کی طرف متوجہ ہوئے۔ جس کے ثبوت اسرائیل کے۱۸؍ اگست کو شام کے صوبہ ادلب میں غیرفعال ابو الضہور فوجی فضائی اڈے پر حملے سے ہفتوں قبل ملے۔ لیکوڈکے رکن کنیسٹ اور تارکین وطن کے وزیر امیچائی چیکلی نے جون میں ایک ریڈیو انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ’’اسرائیل جلد یا بدیر شام کے ساتھ جنگ میں داخل ہوگا۔‘‘ چیکلی نے ترکی کو شام اورایران سے کہیں زیادہ پریشان کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا ترکی کے ساتھ مل کر کام کرنا اسرائیل کے لیے بے چینی کا باعث ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا مقبوضہ بیت المقدس میں’ ای ون‘ آبادکاری منصوبے پر کام شروع
علاوہ ازیں وزیر دفاع یسرائیل کاٹز، انتخابی مہم میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے خلاف بیان بازی استعمال کرنے والی ایک سرکردہ شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔ لیکود کے رکن کنیست اور توانائی کے وزیر الی کوہن نے بھی گزشتہ ماہ اشارہ دیا کہ مہم میں ترکی مخالف بیان بازی استعمال کی جائے گی۔ کوہن نے ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن کو بتایا،’’اگر ترکی شام میں ایک اڈہ قائم کرتا ہے تو ہم بھی ایک قائم کریں گے۔‘‘تاہم کچھ اپوزیشن لیڈر اور اسرائیل میں شائع ہونے والے تجزیےاس بات پر متفق ہیں کہ نیتن یاہو اور ان کے قریبی افراد نے شام میں حملے کو ترکی مخالف بیان بازی کے ذریعے انتخابی مہم میں تبدیل کر دیا ہے۔ ڈیموکریٹس پارٹی کے لیڈریائر گولان نے کہا کہ نیتن یاہو نے اس حملے کے ساتھ ’’مغرورانہ اور خطرناک‘‘ اقدام کیا۔ جبکہ سابق وزیراعظم ایہود باراک نے کہا کہ نیتن یاہو۲۷؍ اکتوبر کے انتخابات سے قبل سیکیورٹی کشیدگی کے ذریعے ووٹروں تک پہنچنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اسرائیلی سیاسی مبصر ایستھر سلیمان نے ہارٹز اخبار میں شائع تجزیے میں کہا کہ نیتن یاہو انتخابات سے قبل ’’اپنی تمام کوششوں کے باوجود‘‘ سروے کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک اور سیاسی مبصر جوناتھن لِس نے ہارٹز میں کہا کہ نیتن یاہو کے فیصلہ سازی کے عمل میں سیکیورٹی اور سفارتی پیمانےکے ساتھ سیاسی تحفظات نے بھی کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’امریکہ اور ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا‘‘
ذہن نشین رہےکہ اسرائیل میں ترکی مخالف بیان بازی پر مبنی انتخابی مہم صرف نیتن یاہو اور ان کے قریبی افراد کے بیانات تک محدود نہیں ہے۔ چینل۱۴؍ ٹیلی ویژن، جو نیتن یاہو سے قربت کے لیے جانا جاتا ہے، نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں ترکی کے قونصل خانے کو نشانہ بنایا، جو فلسطین کی نمائندگی کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل سے وابستہ یروشلم میونسپلٹی کو سائٹ کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور قونصل خانے کی عمارت کی بیرونی فوٹیج نشر کی گئی۔ اس کے علاوہ، آئی۲۴؍ ٹیلی ویژن نے ایک دستاویزی فلم نشر کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ترکی شہر میں ترک اداروں اور انجمنوں کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرکے مشرقی یروشلم کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس دستاویزی فلم میں شہر میں فلسطینیوں کو ترک اداروں اور انجمنوں کی طرف سے فراہم کردہ انسانی امداد کو وسیع کوریج دی گئی اور مشرقی یروشلم میں یونس امرے ثقافتی مرکز کی سرگرمیاں بھی شامل کی گئیں۔