۱۱۵۰؍سے زائدطبی ماہرین اور تنظیموں نے عالمی طبی انجمن سے اسرائیل کی معطلی کا مطالبہ کیا ہے، الزام ہے کہ اسرائیلی طبی انجمن غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے دوران انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث رہی ہے۔
EPAPER
Updated: June 19, 2026, 3:57 PM IST | Washington
۱۱۵۰؍سے زائدطبی ماہرین اور تنظیموں نے عالمی طبی انجمن سے اسرائیل کی معطلی کا مطالبہ کیا ہے، الزام ہے کہ اسرائیلی طبی انجمن غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے دوران انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث رہی ہے۔
۱۱۵۰؍ سے زائد طبی پیشہ ور افراد اور صحت کی دیکھ بھال کی تنظیموں نے ایک پٹیشن پر دستخط کرتے ہوئے عالمی طبی انجمن (WMA) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی طبی انجمن (IMA) کو معطل کرے۔ ان کا الزام ہے کہ IMA طبی اخلاقیات کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے اور غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے دوران انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث رہی ہے۔‘‘طبی اخلاقیات کو برقرار رکھیں، اسرائیلی طبی انجمن کو عالمی طبی انجمن سے معطل کریں‘‘کے عنوان سے یہ پٹیشن عالمی طبی انجمن کی جنرل اسمبلی سے قبل سامنے آئی ہے، جو۷؍ تا ۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۶ء کو نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں منعقد ہوگی۔پٹیشن میں کہا گیا ہے، ’’ہم عالمی انجمن اور اس کی رکن انجمنوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ابھی کارروائی کریں اور اسرائیلی طبی انجمن (IMA) کو معطل کریں، کیونکہ IMA بنیادی طبی اخلاقی معیارات کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: ملبے تلے دبے ہزاروں فلسطینیوں کی شناخت ناممکن ہو سکتی ہے: آئی سی آر سی
پٹیشن میں فلسطینی صحت کارکنوں، بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور تعلیمی تحقیقات سے حاصل ہونے والے وسیع شواہد کا حوالہ دیا گیا ہے جو فلسطین، لبنان اور ایران میں صحت کی سہولیات پر حملوں کو دستاویز کرتے ہیں۔ دستخط کنندگان کے مطابق،اسپتال تباہ کیے گئے، ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا گیا اور صحت کے کارکنوں کو قتل، حراست، تشدد یا طبی خدمات فراہم کرنے سے روکا گیا۔پٹیشن مزید اسرائیل پر الزام لگاتی ہے کہ اس نے غزہ میں انسانی اور طبی امداد بشمول ادویات، طبی آلات، ایندھن اور انسانی اہلکاروں کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالی، جس سے ضروری صحت کی خدمات تک رسائی محدود ہوئی۔ایک اور بڑا الزام اسرائیلی حراستی مراکز میں فلسطینیوں کے ساتھ سلوک سے متعلق ہے۔ پٹیشن کا دعویٰ ہے کہ تین دہائیوں پر محیط ’’قابل اعتماد رپورٹس‘‘ موجود ہیں جو اسرائیلی طبی پیشہ ور افراد کے تشدد اور غیر انسانی سلوک میں ملوث ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ IMA ایسی کارروائیوں کو دستاویز کرنے، تحقیقات کرنے یا ان کی مخالفت کرنے میں ناکام رہی ہے۔
مزید برآںدستخط کنندگان اسرائیلی قبضے کے تحت رہنے والے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان صحت کی سہولیات تک رسائی میں وہ تفریق بھی اجاگر کی جسے وہ منظم عدم مساوات قرار دیتے ہیں، اور الزام لگایا کہ اسرائیلی پالیسیوں کی وجہ سے فلسطینیوں کو صحت کے نمایاں طور پر خطرناک نتائج کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں زیر التوا کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے، دستخط کنندگان کا کہنا ہے کہ عدالت نے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ پایا اور استدلال کیا کہ IMA نے فلسطینیوں کے قتل یا غزہ کے صحت کے نظام کی تباہی کو چیلنج نہیں کیا۔پٹیشن میں الزام ہے: ’’نومبر ۲۰۲۳ءمیں۸۰؍ اسرائیلی ڈاکٹروںکے اس مطالبے کی توثیق کرتے ہوئے جنہوں نے عوامی طور پر غزہ کے اسپتالوں پر بمباری کا مطالبہ کیا، IMA نے مؤثر طریقے سے نسل کشی کوہری جھنڈی دے دی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’میں جل چکا ہوتا‘‘: امریکی شہری کا اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کا چشم دید بیان
نسل پرستی کے دور میں جنوبی افریقہ کے خلاف بین الاقوامی مہم کے متوازی طور پر، پٹیشن کہتی ہے کہ فلسطینیوں نے اسرائیلی پالیسیوں میں ملوث سمجھے جانے والے اداروں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔پٹیشن میں کہا گیا، ’’فلسطینی عوام نے ہماری یکجہتی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے تمام ملوث اسرائیلی اداروں اور تنظیموں کے بائیکاٹ اور بین الاقوامی تنہائی کا مطالبہ کیا ہے، جیسا کہ۱۹۸۰ء کی دہائی میں جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے دوران ہوا تھا۔اس کے علاوہ دستخط کنندگان WMA سے وابستہ قومی طبی انجمنوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ IMA کے ساتھ ادارہ جاتی تعلقات منقطع کریں، اور اس سلسلے میں انہوں نے جنوبی افریقی طبی انجمن اور برطانوی طبی انجمن کے فیصلوں کا حوالہ دیا۔
ساتھ ہی رکن انجمنوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ IMA کو WMA سے معطل کرنے کی وکالت کریں، اور طبی اخلاقیات اور بین الاقوامی انسانی قانون کی بار بار خلاف ورزیوں کا حوالہ دیں، بشمول صحت کے کارکنوں اور طبی انفراسٹرکچر پر حملوں کے خلاف آواز اٹھانے میں ناکامی۔اس کے علاوہ، پٹیشن خبردار کرتی ہے کہ اگر WMA قیادت روٹرڈیم اسمبلی میں اس مسئلے پر بحث کو روکتی ہے یا کارروائی کرنے سے انکار کرتی ہے تو رکن تنظیموں کو WMA کا بائیکاٹ کرنے اور۲۰۲۷ء سے رکنیت کی فیس روکنے پر غور کرنا چاہیے۔پٹیشن خود WMA سے متعلق مطالبات کا خاکہ بھی پیش کرتی ہے، جن میں IMA کی اس وقت تک معطلی شامل ہے جب تک کہ وہ عوامی طور پر طبی اخلاقیات اور انسانی قانون کو برقرار نہ رکھے، فلسطینی صحت کارکنوں کے قتل اور تشدد کی مذمت نہ کرے اور WMA کی۱۳؍ اکتوبر۲۰۲۵ء کی پورٹو قرارداد کے مطابق اپنے اراکین کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی نہ کرے۔اس میں مزید قومی طبی انجمنوں کی طرف سے طبی اخلاقیات اور انسانی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور مناسب جگہ تادیبی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس مہم کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے، پٹیشن استدلال کرتی ہے کہ طبی اخلاقیات صحت کی دیکھ بھال میں اعتماد کی بنیاد ہیں اور نوٹ کرتی ہے کہ بین الاقوامی طبی برادری نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے دوران اداروں کے خلاف پہلے بھی کارروائی کی ہے۔پٹیشن میں کہا گیا، ’’اگر مستقبل میں طبی اخلاقیات کا کوئی مطلب ہے اور ہمیں اعتماد ہے کہ WMA طبی اخلاقیات کے بین الاقوامی محافظ کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکتی ہے، تو اسے اکتوبر میں روٹرڈیم میں IMA کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔‘‘بعد ازاں دستاویز کا اختتام نسل پرستی کے خلاف آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو کے قول کے ساتھ ہوتا ہے: ’’اگر آپ ناانصافی کی صورت حال میں غیر جانبدار ہیں، تو آپ نے ظالم کا ساتھ چنا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا لبنان، شام اور غزہ میں غیر معینہ مدت تک موجود رہنے کا اعلان
پٹیشن پر دستخط کرنے والے ممتاز طبی پیشہ ور افراد میں غسان ابو ستہ، نک مینارڈ، غدا کریمی، ڈیرک سمر فیلڈ، اینگ سوئی چائی، کارامہ کوئمرلے، روپا ماریا، ہینے بوسیلیرز اور پابلو سیمون لوردا شامل ہیں۔اس اقدام کی حمایت کرنے والی تنظیموں میں پیپلز ہیلتھ موومنٹ، ڈاکٹرز اگینسٹ جینوسائیڈ (امریکہ)، جوئش وائس فار پیس ہیلتھ ایڈوائزری کونسل (امریکہ)، متعدد ممالک میں ہیلتھ ورکرز فار فلسطین گروپس، گلوبل ہیلتھ بی ڈی ایس (برطانیہ)، آرٹسن وور غزا (نیدرلینڈز)، ڈیجیونو غزا (اطالیہ)، لیکارے موٹ راسزم (سویڈن)، ہیلتھ الائنس فار ڈیموکریسی (فلپائن) اور میڈیکل ایسوسی ایشن فار دی پریوینشن آف وار (آسٹریلیا) شامل ہیں۔اس پٹیشن کو کونسل آن امریکن-اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے خوش آمدید کہا، جس نے عالمی طبی انجمن سے اسرائیل کی معطلی کا مطالبہ کرنے والی طبی تنظیموں کے اس ’’اصول پرست اور بہادرانہ موقفــ‘‘ کو سراہا۔CAIR نیشنل نے کہا: ’’غزہ میں اپنی سفاکانہ نسل کشی کے دوران، اسرائیل نے بار بار طبی عملے کو نشانہ بنایا، قتل کیا اور اغوا کیا اور فلسطینیوں کو انتہائی ضروری طبی امداد سے محروم رکھا۔‘‘تنظیم نے کہا: ’’کوئی بھی طبی تنظیم جس نے ان مظالم کو جائز قرار دیا، اس نے اپنی قسم توڑی ہے اور اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔‘‘