اسرائیلی فوج کے ایک ریزرو افسر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج خوف کی کیفیت کے درمیان ’’ اخلاقی پستی ‘‘کا شکار ہے، افسر کے مطابق ہمارے مشن کا مقصد اب واضح نہیں، حتیٰ کہ متعین بھی نہیں، جس سے ہمیں کامیابی کی پیمائش کا کوئی معیار نہیں ملتا۔
EPAPER
Updated: July 08, 2026, 4:05 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی فوج کے ایک ریزرو افسر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج خوف کی کیفیت کے درمیان ’’ اخلاقی پستی ‘‘کا شکار ہے، افسر کے مطابق ہمارے مشن کا مقصد اب واضح نہیں، حتیٰ کہ متعین بھی نہیں، جس سے ہمیں کامیابی کی پیمائش کا کوئی معیار نہیں ملتا۔
اسرائیلی فوج کا ایک افسر جس نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی، اسرائیلی اخبار ’’ ہاریٹز‘‘ کو دئے ایک بیان میں کہا کہ، ’’جبکہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں اپنی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔میں بار بار ریزرو ڈیوٹی کی مشقت یا اس سے جسم اور روح کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں نہیں لکھنا چاہتا، حالانکہ ان اہم موضوعات پر زیادہ بات ہونی چاہیے۔‘‘ بعد ازاں افسر نے، اخبار میں شائع خط میں کہا، ’’بلکہ، میں اقدار کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں، ایک ایسا مسئلہ جس سے مجھے افسوس کے ساتھ دوچار ہونا پڑ رہا ہے کیونکہ میں فوج کے اندر اخلاقی بگاڑ کا مشاہدہ کر رہا ہوں۔ اخلاقیات ہماری انسانی فطرت کاجوہرہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نئی انتظامیہ کا داخلہ روک کرغزہ میں انتظامی خلاء پیدا کرنا چاہتاہے: حماس
افسر، جس نے خود کو غزہ میں ریزرو ڈیوٹی کرنے والے یونٹ کا کمانڈر بتایا، نے کہا کہ فوجبند گلی کی لڑائی لڑ رہی ہے جو کبھی سیر نہیں ہوتی۔ہمارے مشن کا مقصد اب واضح نہیں، حتیٰ کہ متعین بھی نہیں، جس سے ہمیں کامیابی کی پیمائش کا کوئی معیار نہیں ملتا۔چونکہ ہم ایک دفاعی مشن پر ہیں، اس لیے چوکسی اور خوف کی ایک شدید کیفیت ہے کہ دشمن ہمیں اچانک حیرت میں ڈال سکتا ہے۔ یہ ذہنیت بہت سے اخلاقی مخمصوں کو جنم دیتی ہے۔‘‘مزید برآں اسرائیلی افسر نے کہا کہ’’۷؍ اکتوبر کے واقعات کے بعد سے چوکسی کی حالت نے فوجیوں کو کسی بھی فلسطینی کو جو ان کے قریب آیا گولی مارنے پر مجبور کیا۔بعض اوقات گولی چلانا جائز ہوتا ہے، بعض اوقات ناجائز۔ بہرحال، فائرنگ اس لیے ہوتی ہے کیونکہ محاذ پر موجود فرد سپاہی خود کو خطرے میں یا غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔‘‘ افسر نے اقرار کرتے ہوئے کہا کہ ،’’بے مقصد ،تیز دھوپ، تھکاوٹ ان جذبات کو مزید بڑھا دیتے ہیں حتیٰ کہ جب وہ بے بنیاد ہوں۔ اگرچہ تل ابیب میں ہیڈکوارٹر کے ایئر کنڈیشنڈ آفس میں بیٹھ کر ان پر سخت تنقید کرنا آسان ہے، لیکن یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ یہ جذبات موجود ہیں۔‘‘افسر نے اعتراف کیا کہ’’ اتنی بڑی تعداد میں غیر مسلح افراد کو قتل کرنا سپاہیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ یہ میرے اوپر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ اب، سب کچھ جائز ہے، اور ہماری انگلیاں ٹرگر پر بہت ہلکی ہو گئی ہیں، محض اس بات کی ضمانت کیلئے کہ کہیں کہ کوئی غزہ سرحدی باڑ تک نہ پہنچ سکے۔ لیکن یہ ہم پر، ہماری اقدار پر اور ہماری ذہنی حالت پربہت برا اثر ڈال رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی جنگ سے لبنان کو ۴؍ ارب ڈالر تک کا نقصان، بیروت کا ابتدائی تخمینہ جاری
واضح رہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے، اسرائیلی فوج نے غزہ میں۷۳؍ ہزار سے زائد افراد کو قتل کیا ہے اور ۱۷۳۰۰۰؍ سے زائد دیگر کو زخمی کیا ہے،جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پورے غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔