Updated: July 07, 2026, 7:08 PM IST
| Beirut
لبنان نے اسرائیلی حملوں سے ہونے والے براہِ راست مادی نقصان کا ابتدائی تخمینہ ۳؍ سے ۴؍ ارب ڈالر لگایا ہے۔ وزیر اطلاعات پال مورکوس کے مطابق اس تخمینے میں معاشی اور بالواسطہ نقصانات شامل نہیں ہیں۔ ادھر امریکی ثالثی میں ہونے والے فریم ورک معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں کارروائیاں اور مبینہ خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ بیروت حکومت متاثرہ علاقوں میں شہریوں کی واپسی اور تعمیرِ نو کی تیاریوں پر غور کر رہی ہے۔
لبنان کے وزیر اطلاعات پال مورکوس نے کہا ہے کہ اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں ملک کو ہونے والے براہِ راست مادی نقصان کا ابتدائی تخمینہ ۳؍ سے ۴؍ ارب امریکی ڈالر کے درمیان ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق، پیر کو کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مورکوس نے کہا کہ یہ صرف ابتدائی تخمینہ ہے، جس میں معاشی سرگرمیوں کو پہنچنے والے نقصان، بالواسطہ خسارے اور طویل مدتی مالی اثرات شامل نہیں ہیں۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان کا کہنا ہے کہ امریکی ثالثی میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں روزانہ کارروائیاں اور معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹس کے مطابق پیر کو اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے دو قصبوں میں متعدد مکانات کو دھماکوں سے تباہ کیا، جبکہ ضلع مرجعیون کے قصبے حولہ میں بھی رات بھر دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: بارہ بنکی: مسلم نوجوان کو بچھڑے کے سامنے زبردستی سجدہ کروانے کا ویڈیو وائرل
پال مورکوس نے بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں جنوبی لبنان کے دیہات اور قصبوں کے دوروں کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا، جن میں بے گھر شہریوں کی محفوظ واپسی، عارضی رہائش، بنیادی سہولیات کی بحالی اور مقامی بلدیاتی اداروں کی ضروریات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعمیرِ نو کے بڑے منصوبوں کے آغاز سے قبل مقامی انتظامیہ اور معاشی شعبوں کو فعال بنانے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ متاثرہ آبادی جلد از جلد اپنے علاقوں میں واپس جا سکے۔ واضح رہے کہ ۲۶؍ مئی کو لبنان اور اسرائیل نے امریکی ثالثی میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلاء اور لبنانی فوج کی تعیناتی کا طریقہ کار طے کیا گیا۔ تاہم معاہدے میں اسرائیلی انخلاء کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن مقرر نہیں کی گئی، جبکہ اسے لبنانی فوج کی مکمل تعیناتی اور حزب اللہ سمیت غیر ریاستی مسلح گروہوں کے اسلحہ سے بھی مشروط کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا نیا سوشل میڈیا پوسٹ، جارجیا میلونی کے ساتھ کشیدگی پھر بڑھ گئی
لبنانی حکومت نے اس معاہدے کو ریاستی خودمختاری کی بحالی اور بے گھر شہریوں کی واپسی کی جانب پہلا قدم قرار دیا، جبکہ حزب اللہ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی انخلاء کو اس کی تخفیفِ اسلحہ سے جوڑنا ناقابل قبول ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲؍ مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں لبنان میں ۴؍ ہزار ۳۰۰؍ سے زائد افراد ہلاک جبکہ ۱۲؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج اب بھی جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں پر قابض ہے، جن میں بعض علاقے وہ بھی شامل ہیں جو ماضی میں طویل عرصے تک اسرائیلی قبضے میں رہے، جبکہ حالیہ فوجی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی افواج لبنانی سرزمین میں تقریباً ۱۰؍ کلومیٹر تک اندر داخل ہو چکی ہیں۔