Updated: March 16, 2026, 7:25 PM IST
| Tel Aviv
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے دوران عسکری صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیلی سیکوریٹی ذرائع کے مطابق جنگ اس رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہی جس رفتار سے اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیوں کے آغاز میں توقع کی تھی۔ اسی دوران اسرائیلی حکام نے ایران اور لبنان کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک ۳۱۳۸؍ ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ تہران جنگ کے خاتمے کیلئے واشنگٹن کے ساتھ کسی معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔
(۱) ایران کے خلاف جنگ اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی جس رفتار سے شروع ہوئی تھی: اسرائیلی ذرائع
اسرائیلی سیکوریٹی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اس رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہی جس رفتار سے فوجی کارروائیوں کے آغاز میں توقع کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی منصوبہ بندی میں اسرائیلی فوج نے کچھ مخصوص اہداف کو محدود وقت میں حاصل کرنے کا ہدف رکھا تھا، تاہم جنگی صورتحال توقع سے زیادہ پیچیدہ ثابت ہوئی ہے۔ ایک اسرائیلی سیکوریٹی عہدیدار کے مطابق ’’موجودہ صورتحال میں ہمیں اپنی حکمت عملی اور جنگی اہداف کا ازسرنو جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔‘‘ ان کے مطابق ایران کی دفاعی صلاحیت اور خطے میں اس کے اتحادی عناصر جنگ کو زیادہ طویل بنا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: میکرون کی اسرائیل اورحزب اللہ کے درمیان پیرس میں جنگ بندی مذاکرات کرانے کی پیشکش
(۲) ایران اور لبنان کے ساتھ تنازع کے بعد اسرائیل نے ۳۱۳۸؍ ہلاکتوں کی اطلاع دی
اسرائیلی حکام کے مطابق ایران اور لبنان کے ساتھ جاری تنازع کے آغاز کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر ۳۱۳۸؍ ہلاکتیں رپورٹ کی گئی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان ہلاکتوں میں فوجی اہلکاروں کے علاوہ شہری بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد مختلف محاذوں پر ہونے والے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ ’’یہ تنازع خطے میں سلامتی کی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا چکا ہے۔‘‘ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ اسی طرح جاری رہی تو نہ صرف ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک وسیع انسانی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین: آگ لگانے والوں کی حمایت اور دھوئیں کی شکایت ناقابل قبول ہے: وزیر اعظم
(۳) ایران نے جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ سے معاہدے کی تردید کر دی
ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ تہران جنگ کے خاتمے کیلئے امریکہ کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے پر بات چیت کر رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ایسے دعوے بے بنیاد ہیں اور ایران نے کسی بھی مرحلے پر امریکہ سے جنگ بندی کے معاہدے کیلئے رابطہ نہیں کیا۔ ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ’’ہم نے کبھی بھی امریکہ سے جنگ روکنے کیلئے درخواست نہیں کی اور نہ ہی کوئی خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کیلئے پرعزم ہے اور کسی دباؤ کے تحت فیصلے نہیں کرے گا۔