Updated: January 30, 2026, 10:12 PM IST
| Mumbai
پیرس کی گلیوں اور ریستورانوں زائد از ۵۰؍ برسوں سےمزاحیہ انداز میں ’شہ سرخیاں ‘ پڑھ کر سناتے ہوئے عوام کو اپنی جانب متوجہ کر کے انتہائی دلچسپ انداز میںاخبار فروخت کرنےوالے علی اکبر جنہیں فرانس کا ’’آخری اخبار فروش‘‘کہا جاتا ہے، کو ان کی خدمات کے اعتراف میں بدھ کو فرانس کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا۔
پیرس کی گلیوں اور ریستورانوں زائد از ۵۰؍ برسوں سےمزاحیہ انداز میں ’شہ سرخیاں ‘ پڑھ کر سناتے ہوئے عوام کو اپنی جانب متوجہ کر کے انتہائی دلچسپ انداز میںاخبار فروخت کرنےوالے علی اکبر جنہیں فرانس کا ’’آخری اخبار فروش‘‘کہا جاتا ہے، کو ان کی خدمات کے اعتراف میں بدھ کو فرانس کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا۔ ملک کے صدر میکرون کے ہاتھوں ملک کا اعلیٰ ترین شہری ایوارڈ حاصل نے والے ۷۳؍ سالہ علی اکبر پاکستانی نژاد ہیں۔ گزشتہ زائد از ۵؍ دہائیوں میں پیرس کی گلیوں میںگھوم گھوم کر وہ معروف نام اور جانا پہچانا چہرہ ہی نہیں بنے بلکہ شہر کے ثقافتی نقشے کا حصہ بھی بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بارسلونا، اسپین: ساحل پر ہند رجب کا عظیم الشان پورٹریٹ، غزہ کے بچوں کیلئے آواز
الیزے پیلس میں منعقدہ تقریب میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ملک کیلئے ان کی اس امتیازی خدمت کے اعتراف میں انہیں’ نیشنل آرڈر آف میرٹ ‘کے اعزازی خطاب سے نوازا اور انہیں ’’ تمام فرانسیسیوں میں سب سے زیادہ فرانسیسی‘‘ کا لقب دیا۔میکرون نے معمر اخبار فروش کا دہائیوں قبل پاکستان سے فرانس آنے، یہاں لوگوں کے گھروں ، دوکانوں اور ریستورانوں میں اخبار پہنچانے اور اپنے دل میں فرانس کو بسا لینے کیلئے شکریہ ادا کیا۔ الیزے پیلس میں علی اکبر کو ایوارڈ سے نوازنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ ’’ بہت شکریہ علی اکبر، سیاسی خبریں بلند آواز میں ہمارے گھروں تک پہنچانے اور ہمارے دلوں کو گرم رکھنے کیلئے شکریہ۔‘‘ ماکرون نے اپنی تقریر میں بطور خاص اور پیرس کے ان مشہور کیفوں کا حوالہ دیا جہاں مزاحیہ انداز میں شہ سرخیاں پڑھتے ہوئے علی اکبر اخبار فروخت کرتے ہیں۔ انہوں نے ۷۳؍ سالہ علی کی آواز کی پزیرائی یہ کہتے ہوئے کی کہ ’’ایک گرمجوش آواز جو ۵۰؍ سال سے زائد عرصے تک سینٹ جرمین کے کیفوں کی میزوں کے درمیان گونجتی رہی۔‘‘

یاد رہے کہ گزشتہ سال اگست میں خبر رساں ایجنسی ’رائٹرس‘سے گفتگو میں علی اکبر نے کہاتھا کہ پیرس کی گلیوں میں روزانہ اخبار پہنچانے کیلئے گھومنا انہیں کس قدر سرشاری فراہم کرتا ہے۔ان کے مطابق ’’یہ محبت ہے۔ اگر پیسوں کیلئے ہوتا تو کچھ اور کر لیتا مگر مجھے اِن لوگوں کے ساتھ بہت لطف آتا ہے۔‘‘راولپنڈی میں پیدا ہونے والے اکبر ۱۹۷۳ء میں پیرس پہنچے۔ویزہ کے مسائل کی وجہ سے یورپ میں ان کی ابتدا کی کوششیں ناکام ہوئیں، انہوں نے شدید غربت میں زندگی گزاری، طویل عرصہ تک بے گھر رہے مگر وہ اپنے والدین کی مدد اور ۷؍ بہن بھائیوں کی کفالت کیلئے وہ ملازمت ڈھونڈنے پر بضد تھے۔ ارجنٹائن کے طالب علم کی مدد سے، جو طنزیہ رسائل بیچتا تھا، حادثاتی طور پر علی اکبر کو بھی اپنی راہ مل گئی۔ انہوں نے شہر کے چند درجن اخباری فروشوں میں شامل ہو کر کام شروع کردیا۔ ان کی مسکراہٹ، مزاح اور روزانہ میلوں پیدل چلنے پر آمادگی نے انہیں مقبول بنا دیا اور وہ معمولی مگر باعزت روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے خلاف اپنی سرزمین یا فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: آذربائیجان
دن میں وہ فرانس کے بڑے سیاسی لیڈروں جیسے سابق صدر فرانسوا متراں اور ’سائنس پو‘ کے طلبہ کو اخبار فروخت کرتے جن میں سے متعددبعد میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔ خود میکرون اور سابق وزیرِاعظم ایڈوارڈ فلپ اس کی مثال ہیں ۔ علی اکبر اپنی راتیں ابتدائی دنوں میں وہ پلوں کے نیچے یا سستے گندے کمروں میں گزارتے تاکہ زیادہ سے زیادہ پیسے پاکستان بھیج سکیں۔
رفتہ رفتہ انہوں نے پیرس میں اپنی زندگی بسالی، شادی کی اور۵؍ بچوں کی پرورش کی۔اس دوران اخباری صنعت کمزور ہوتی گئی۔ علی کے مطابق ’’پہلے ۲۰۰؍اخبار بیچ لینا آسان تھا، اب آٹھ گھنٹے میں صرف۲۰؍ ’لی مونڈ‘(فرانس کا معروف اخبار) بکتا ہے۔ ہر چیز ڈیجیٹل ہو گئی ہے۔‘‘ اس کے باوجود وہ اسی پیشے سے وابستہ ہیں اور پیرس کے آخری اخبار فروش کہلانے لگے ہیں۔ ان کے مطابق ’’میں اخبار بیچنے کا اپنا انداز رکھتا ہوں،میں لطیفے سناتا ہوں، لوگوں کو ہنساتا ہوں، ماحول بناتا ہوں… میں لوگوں کے دل میں جگہ بنانا چاہتا ہوں، جیب میں نہیں۔‘‘
ملک کے اعلیٰ ترین شہری ایوارڈ کیلئے منتخب کئے جانے کی اطلاع ملنے پر تاثرات بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ ایک ایسی طرزِ زندگی کا اعتراف محسوس ہوتا ہے جو تیزی سے مٹ رہی ہے، خصوصاً اس شہر میں جہاں کبھی ژاں پال سارتر اور سیمون دی بووار جیسے مفکر ہوا کرتے تھے۔ اکبر نے کہاکہ ’’یہ جگہ کبھی ایک گاؤں جیسی تھی، ہر کوئی ایک دوسرے کو جانتا تھا… اب ہر روز ایک نیا چہرہ نظر آتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ نے ۲۶؍ ممالک کو بانی ارکان قرار دیا
میکرون نے علی اکبر کے مشکل سفر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’پیرس کی پہچان بننے سے پہلے آپ پاکستان کی راولپنڈی کی گلیوں میں بڑے ہوئے۔ بچپن میں آپ نے غربت، جبری مشقت، تشدد سب کچھ جھیلا۔ آپ کا ایک ہی خواب تھا: غربت سے نکلنا، تعلیم حاصل کرنا، ماں کیلئے گھر خریدنا۔آپ نے افغانستان، ایران، ترکی، یونان کا سفر کی۔ آپ یہاں غیر قانونی طور پر چھپ کررہے ، محرومی اور خوف برداشت کیا، مگر ہمت نہیں ہاری۔‘‘ اس موقع پر علی اکبر نے ایواڈ کو اپنی زندگی کے زخموں پر مرہم قراردیا اور ساتھ ہی اپنے مخصوص انداز میں اعلان کیا کہ پھر بھی، وہ ابھی ریٹائر ہونے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ انہوں کے مطابق وہ تب تک پیرس کی گلیوں میں اخبار بیچتے رہیں گے جب تک ان کے جسم میں طاقت موجود ہے۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں اعلان کیا کہ ’’ریٹائرمنٹ قبرستان میں ہوگی۔‘‘