Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرکز کی ’نشہ مکت‘ ہیلپ لائن نمبر پر منشیات فروشوں کیخلاف شکایت آسان نہیں!

Updated: October 15, 2023, 8:50 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

’انقلاب‘ نے اس نمبر پر رابطہ کیا اور شکایت کی کو شش کی تو بتایا گیا کہ منشیات فروش کا پورا نام ، پتہ اور کیا فروخت کرتا؟ اس کی تفصیل دینےہی پر ہیلپ لائن پر شکایت درج ہوسکتی ہے۔

Image of anti-drug web portal. Photo: INN
نشہ مخالف ویب پورٹل کا عکس۔ تصویر:آئی این این

مرکز کی ’نشہ مکت ہیلپ لائن نمبر‘پرمنشیات فروشوں کیخلاف شکایت آسان نہیں۔  اس سلسلے میں ’انقلاب‘ نے اس ہیلپ لائن نمبر   پر خود رابطہ کیا اور منشیات فروشوں کیخلاف شکایت کرنےکی کوشش کی تو کامیابی نہیں ملی۔ 
یادر ہے کہ حکومت ہند کی جانب سے ’’نشہ مکت بھارت ابھیان‘‘ کے تحت ملک کو منشیات سے پاک بنانے کا عزم کیا گیا ہے اور اسی عز م کے تحت حکومت ہند کے سماجی انصاف اور بااختیار بنانے کے وزارت کی جانب سے قومی سطح پر نشہ مکت مہم بھی شروع کی گئی ہے۔
 ہیلپ لائن نمبر پر سوال جواب 
اسی مہم کے تحت ’’نشہ مکت بھارت‘‘ویب پورٹل اور قومی سطح پر ٹول فری ہیلپ لائن ۱۴۴۴۶؍ بھی شروع کیا گیا ہے۔ سنیچر کی شام تقریباً ۵؍ بجے نمائندہ ٔ انقلاب نے مذکورہ نمبر پر رابطہ قائم کیا اور یہ سوال کیا کہ’’ اگر کسی علاقے میں سماج دشمن عناصر منشیات فروخت کررہے ہیں تو کیا اس کی شکایت اس ہیلپ لائن پر کی جاسکتی ہے؟ ‘‘ فون پر موجود خاتون نے اس نمائندہ سے پوچھا کہ’’جو منشیات فروخت کر رہا ہے اس کا پورا نام ، پتہ ، وہ کیا فروخت کر رہا ہے؟ کہاں فروخت کر رہا ہے اور کیا اس کے پاس کوئی گاڑی ہے؟ یہ تفصیل بتانے ہی پر شکایت درج کی جاسکتی ہے۔‘‘
اس کے جواب میں ہیلپ لائن(جس کا کنٹرول روم دہلی میں واقع ہے) پر موجود خاتون سے بتایا گیا کہ’’جس کے خلاف شکایت کرنی ہے ،اگر اس کا نام اور وہ کیا فروخت کرتا ہے؟ اس سے یہ پوچھا جائے گا تو وہ تو مار پیٹ پر آمادہ ہو جائے گا؟ ‘‘انہوں نے جواب دیا کہ’’اس کے بغیر شکایت درج نہیں کی جاسکتی۔‘‘مزید استفسار کرنے پر خاتون اہلکار نے بتایا کہ ’’اس ہیلپ لائن پر منشیات کی خریدو فروخت میں ملوث افراد کی نشہ چھڑوانے میں مدد اور رہنمائی کی جاتی ہے، ان کی کاؤنسلنگ بھی کی جاتی ہے اور غیر قانونی طورپر منشیات فروخت کرنے والوں کیخلاف شکایت بھی درج کی جاتی ہے بشرطیکہ منشیات فروش کی تفصیل بھی شہری کے پاس ہو۔ ‘‘
 ویب پورٹل پر شکایت درج کرنے کی سہولت 
دوسری جانب’ نشہ مکت بھارت‘ کے ویب پورٹل پر’’سٹیزن کورنر‘‘کے تحت تحریری شکایت درج کرنے کی سہولت ’’گریوینس ری ڈریسل (شکایات کا ازالہ)بھی دی گئی ہے۔ یہاں شہری اپنا ای میل ایڈریس لکھ کر باضابطہ اپنی شکایت درج کر سکتے ہیں۔
پولیس اسٹیشن کی سطح پر منشیات مخالف دستہ 
محکمہ پولیس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’نشہ مکت بھارت ابھیان‘‘کے تحت ضلع، پولیس کمشنریٹ یہاں تک کہ پولیس اسٹیشن کی سطح پر بھی منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے خصوصی دستہ تشکیل دیا گیا ہے۔
 تھانے ضلع محکمہ رابطہ عامہ کی جانب سے ’’آئیے اس سرکاری دفتر کے بارے میں جانتے ہیں‘‘مہم شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کے تحت مختلف محکموں کا طریقہ ٔکارویڈیو کے ذریعے عوام کو بتایا جاتا ہے۔ گزشتہ روز تھانے کے ڈپٹی پولیس کمشنر (ڈی سی پی) (کرائم) نے اپنے ویڈیو پیغام میں یہ دعویٰ کیا کہ’’حکومت ہند کے نشہ مکت بھارت ابھیان کو کامیاب بنانے کیلئے ضلع ، تعلقہ اور پولیس کمشنریٹ کے تحت متعدد کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو اس کمشنریٹ اور ضلع میں منشیات کی روک تھام کی کوشش کر تی ہیں۔‘‘
 انہوں نے بتایاکہ’’ریاستی حکومت کے ۲۰۲۲ء کے جی آر کے مطابق ضلع کی سطح پر منشیات مخالف کارروائی کرنے والی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں ریاستی حکومت کے متعدد محکمہ کے افسران شامل ہوتے ہیں تاکہ سب مل کر منشیات سے پاک ضلع اور شہر بنا سکیں۔اس کمیٹی کی جائزہ میٹنگ ہر مہینے کی جاتی ہے۔ تھانے پولیس کمشنریٹ میں کمشنر کی ہدایت پر ایڈیشنل پولیس کمشنر ( کرائم) کی صدارت میں۱۰؍ اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ ضلع کے محکمہ  ایکسائز، محصول، زراعت اور  دیگر محکموں کے افسران اس کمیٹی میں شامل ہوتے ہیں تاکہ مل جل کر یہ کارروائی کی جاسکے۔‘‘ ڈی سی پی کے بقول پولیس اسٹیشن کی سطح پر بھی انسداد منشیات دستہ تشکیل دیا گیاہے اور منشیات فروشوں کے خلاف شہری ان سے شکایت کر سکتے ہیں۔
مقامی پولیس اسٹیشن میں شکایت کی سہولت    
منشیات مخالفت دستہ کےایک افسر سے رابطہ قائم کرنے اور یہ پوچھنے پر کہ اگر کوئی شہری منشیات فروشوں کے خلاف کوئی اطلاع دینا چاہے تو اس کی کوئی ہیلپ لائن شروع کی گئی ہے؟ افسر نے نفی میں جواب دیا البتہ یہ ضرور کہا کہ مقامی پولیس اسٹیشن میں اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK