• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مردہ بچے کو اٹھائے ہتھنی کی دلخراش تصویر دنیا کی بہترین وائلڈ لائف فوٹو قرار

Updated: October 14, 2026, 10:04 PM IST | Rome

جنگلی حیات کی ایک دل گداز تصویر نے دنیا کے معروف فوٹوگرافی مقابلے میں اطالوی فوٹوگرافر فیڈریکو ویرونیسی کو سال ۲۰۲۶ء کا سب سے بڑا اعزاز دلا دیا۔ نمیبیا میں ایک ہتھنی اور اس کے مردہ بچے کی منظرکشی پر مبنی سیاہ و سفید تصویر نے جانوروں کے جذبات، ذہانت اور فطرت کے پُراسرار پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اطالوی فوٹوگرافر فیڈریکو ویرونیسی نے وائلڈ لائف فوٹوگرافر آف دی ایئر۲۰۲۶ءکے۶۲؍ویں ایوارڈز میں سب سے بڑا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم نے۱۳؍ اکتوبر کو جیتنے والی تصاویر کا اعلان کیا۔ ان ایوارڈز کا مقصد دنیا بھر میں فطرت اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق کہانیوں کو اجاگر کرنا ہے۔ فیڈریکو ویرونیسی کو ان کی تصویر ’دی آفٹر میتھ‘ (The Aftermath) پر وائلڈ لائف فوٹوگرافر آف دی ایئر قرار دیا گیا۔ یہ سیاہ و سفید تصویر نمیبیا کی وادیٔ دریائے ہواب میں جانوروں کے پیچیدہ جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ جیوری کی سربراہ کیتھی موران نے اس تصویر کو جنگلی جانوروں کی ذہانت کا دل کو چھو لینے والا اور افسوس ناک عکس قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: آذربائیجان: اسکولوں میں حجاب پر پابندی کیخلاف مظاہرے، ۳۷؍ افراد گرفتار

فیڈریکو ویرونیسی ۲۰۲۶ءکے وائلڈ لائف فوٹوگرافر آف دی ایئر کیسے بنے؟
نمیبیا میں دریا کی تہہ پر گھسیٹنے کے غیر معمولی نشانات دیکھنے کے بعد ویرونیسی نے ہاتھیوں کے ایک جھنڈ کا تعاقب کیا۔ محقق نے ایک ایسا منظر اپنے کیمرے میں محفوظ کیا جس میں ایک ہتھنی اپنے مردہ بچے کو اٹھائے ہوئے تھی اور اس کی ٹانگ ہتھنی کے ایک دانت اور سونڈ کے درمیان پھنسی ہوئی تھی۔ جنگلی حیات کے محققین کے مطابق، اس طرح کے واقعات کی دستاویز بندی سے یہ سمجھنے میں قیمتی معلومات حاصل ہوتی ہیں کہ جنگلی جانور موت سے کس طرح نمٹتے ہیں۔ وائلڈ لائف فوٹوگرافی کے مقابلے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بہترین بالغ فوٹوگرافر اور نوجوان فوٹوگرافر، دونوں کے مجموعی اعزاز سیاہ و سفید تصاویر کو ملے ہیں۔ 
اس سال کے مقابلے میں دنیا کے ۱۲۱؍ ممالک اور خطوں سے ریکارڈ ۶۵؍ ہزار ۴۰۳؍ تصاویر موصول ہوئیں، جو اس مقابلے کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ ان تصاویر میں جنگلی جانوروں کی زندگی، ان کے غیر معمولی رویوں، قدرتی ماحول اور فطرت کو درپیش چیلنجوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ ماہرین پر مشتمل جیوری نے تصاویر کا انتخاب تخلیقی صلاحیت، تکنیکی مہارت، انفرادیت اور کہانی بیان کرنے کے انداز کی بنیاد پر کیا۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک ایئرپورٹ: محمد یونس کے ساتھ بدسلوکی، بنگلہ دیش کا قانونی کارروائی کا عزم

فیڈریکو ویرونیسی کی کامیابی کے ساتھ اس مقابلے میں نوجوان فوٹوگرافر آسکر وِٹفیلڈ نے بھی نمایاں اعزاز حاصل کیا۔ زمبابوے میں رہنے والے ۱۴؍ سالہ برطانوی فوٹوگرافر کی سیاہ و سفید تصویر ’لیبر آف لو‘ (Labour of Love) کو سال کا بہترین نوجوان وائلڈ لائف فوٹوگرافی اعزاز دیا گیا۔ اس تصویر میں گوبر کا ایک بھونرا اپنے جسم کے مقابلے میں بڑے گوبر کے گولے کو دھکیلتا دکھائی دیتا ہے۔ تصویر میں بھونرے کی محنت اور اس کے گرد موجود ماحول کو انتہائی باریک بینی سے پیش کیا گیا ہے۔ 
ماہرین کے مطابق، گوبر کے بھونرے قدرتی ماحول کے توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ گوبر کو زمین میں دباتے ہیں، جس سے غذائی اجزا مٹی میں واپس شامل ہوتے ہیں اور گوبر کے گلنے سڑنے کا عمل تیز ہوتا ہے۔ اس طرح یہ کیڑوں کی بعض اقسام کی افزائش اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔ آسکر وِٹفیلڈ کی تصویر اس بات کی مثال ہے کہ قدرت کی چھوٹی سے چھوٹی مخلوق بھی ماحولیاتی نظام میں بڑی اہمیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: ملک بھر میں ہزاروں طلبہ کا ازسرنو احتجاج، گریٹا تھمبرگ کی شرکت، تعلیمی خلل میں اضافہ

وائلڈ لائف فوٹوگرافر آف دی ایئر مقابلے کا آغاز چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل ہوا تھا۔ لندن کا نیچرل ہسٹری میوزیم اس مقابلے کا انعقاد کرتا ہے، جس کا مقصد تصاویر کے ذریعے لوگوں کو قدرتی دنیا سے قریب لانا اور جنگلی حیات کے تحفظ کی ضرورت کا احساس دلانا ہے۔ اس سال منتخب کی گئی ۱۰۰؍ بہترین تصاویر کی نمائش ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء سے لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم میں شروع ہوگی، جہاں شائقین دنیا بھر کے فوٹوگرافروں کے منفرد کام دیکھ سکیں گے۔ 
فیڈریکو ویرونیسی کی تصویر ’دی آفٹر میتھ‘ اس حقیقت کی جانب بھی توجہ مبذول کراتی ہے کہ جانوروں کے رویے انسانی سمجھ سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ ہاتھیوں میں مردہ ساتھیوں کے قریب رکنے، ان کی ہڈیوں کو چھونے اور لاشوں کو اٹھانے جیسے رویے پہلے بھی مشاہدے میں آ چکے ہیں۔ تاہم، سائنسداں ابھی تک یہ طے نہیں کر سکے کہ ان رویوں کے پیچھے موت کا شعور، غم یا کوئی اور فطری ردعمل کارفرما ہوتا ہے۔ یہی غیر معمولی لمحات وائلڈ لائف فوٹوگرافی کو محض خوب صورت تصاویر تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ انہیں سائنسی تحقیق، جذباتی اظہار اور قدرتی دنیا کے تحفظ کا مؤثر ذریعہ بھی بناتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK