Updated: June 12, 2026, 10:16 AM IST
| Rome
اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین کے تعلقات پر نظرِ ثانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف پابندیوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی کونسل کو اسرائیل کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے سنجیدہ غور و فکر کرنا چاہئے۔
جارجیا میلونی۔ تصویر: آئی این این
اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ اٹلی غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں اور قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کے خلاف پابندیوں کی حمایت کرتا ہے، جبکہ یورپی یونین اور اسرائیل کے تعلقات پر وسیع تر بحث کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔ یورپی کونسل کے اجلاس سے قبل جمعرات کو پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے میلونی نے کہا:’’اس معاملے پر میں چاہوں گی کہ ایک بار کیلئے یہاں ایسی بحث ہو جو آسان اور سطحی سیاسی تنقید سے آگے بڑھے، جو یقیناً فوری طور پر توجہ اور شہرت حاصل کر لیتی ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’یہ معاملہ اٹلی کیلئے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے، اور موجودہ طرزِ بحث اس اہمیت کی صحیح عکاسی نہیں کرتا۔ ‘‘میلونی نے کہا:’’کونسل کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ یورپی یونین اور اسرائیل کے تعلقات کا مستقبل کس سمت میں جانا چاہئے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے لبنان پر پے در پے حملے
انہوں نے اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف پابندیوں کی بھی حمایت کی۔ انہوں نے کہا:’’ہاں، آبادکاروں پر پابندیاں ہونی چاہئیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اٹلی ان پرتشدد آبادکاروں کے خلاف اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامین نیتن یاہو کو۲۰۲۴ء سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی جانب سے مطلوب قرار دیا گیا ہے۔ ان پر غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری جنگ میں تقریباً ۷۳؍ ہزار افراد ہلاک اور ایک لاکھ ۷۳؍ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کردہ ایک مقدمہ بھی زیرِ سماعت ہے، جسے متعدد ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ اس مقدمے میں اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی (Genocide) کے ارتکاب کا الزام لگایا گیا ہے۔