Inquilab Logo Happiest Places to Work

اٹلی: ۱۲؍ ٹن کٹ کیٹ چاکلیٹ چوری، ۴؍ لاکھ سے زائد چاکلیٹ کا کوئی سراغ نہیں

Updated: March 30, 2026, 1:10 PM IST | Rome

اٹلی میں ۱۲؍ ٹن کٹ کیٹ چاکلیٹ چوری ہو گئی ،نیسلے کمپنی کا کہنا ہے کہ ۴؍ لاکھ سے زائد چاکلیٹ کا کوئی سراغ نہیں ،جس کے بعد صارفین میں اس کی قلت کے تعلق سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس
یورپ میں ایسٹر کی چھٹیوں سے قبل چوروں نے ۴؍ لاکھ سے زائد کیٹ کیٹ چرا لیں۔ نیسلے نے اٹلی میں چاکلیٹ کی اس غیرمعمولی ڈکیتی کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد صارفین میں تہوار کی چھٹی سے قبل شدید قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق۲۶؍ مارچ کو یورپ بھر میں تقسیم کاروں کو بھیجے جانے کے دوران کیٹ کیٹ چاکلیٹ کی ایک بڑی کھیپ چوری ہو گئی۔ ٹرک، جس میں تقریباً۱۲؍ ٹن چاکلیٹ بارتھے، بغیر کوئی نشان چھوڑے غائب ہو گیا۔
 
 
بعد ازاں دی ایتھلیٹک کے مطابق چوری شدہ چاکلیٹ کیٹ کیٹ کی نئی فارمولا ون لائن سے تھی۔ گزشتہ سال جب یہ ریسنگ اسپورٹ کی آفیشل چاکلیٹ بنی تھی تو اسےریس کاروں کی شکل دی گئی تھی۔تاہم نیسلے نےکٹ کیٹ ڈکیتی کی تصدیق کر دی۔سوئس کینڈی بنانے والی بڑی کمپنی نیسلے نے بالآخر تصدیق کی کہ یہ غیرمتوقع چاکلیٹ ڈکیٹی کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹرک وسطی اٹلی کی ایک فیکٹری سے نکل کر پولینڈ جا رہا تھا۔ترجمان نے بتایا کہ چوری شدہ ٹرک اور چاکلیٹ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ جبکہ اس ڈکیتی میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔نیسلے نے اپنے مشہور کیٹ کیٹ نعرے سے مزاحیہ انداز میں اپنا موقف بھی پیش کیا۔ کمپنی نے کہا،’’ہم نے ہمیشہ لوگوں کو کیٹ کیٹ کے ساتھ وقفہ لینے (بریک) کی ترغیب دی ہے۔ لیکن لگتا ہے چوروں نے یہ پیغام بہت سنجیدگی سے لے لیا اور ہماری ۱۲؍ٹن سے زیادہ چاکلیٹ کے ساتھ بریک (فرار) کر گئے۔کمپنی نے مزید کہا،’’اگرچہ ہم مجرموں کے غیرمعمولی ذائقے کی تعریف کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کارگو چوری ہر قسم کے کاروبار کے لیے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ ہم نے اپنے تجربے کو عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس بڑھتے ہوئے مجرمانہ رجحان کے بارے میں آگاہی بڑھ سکے۔‘‘
 
 
کٹ کیٹ کا آفیشیل بیان۔ تصویر: آئی این این
بعد ازاں یہ ردعمل سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور میمز کی بارش ہو گئی۔تاہم نیسلے نے خبردار کیا کہ یہ چوری شدہ کیٹ کیٹ چاکلیٹ غیر سرکاری مارکیٹوں میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر بار پر لگے بیچ کوڈ کے ذریعے چوری شدہ کھیپ کا سراغ لگا سکتے ہیں۔ کمپنی نے کہا کہ اگر کوئی میچ مل جاتا ہے تو اسکینر کو واضح ہدایات دی جائیں گی کہ کیٹ کیٹ کو کیسے آگاہ کیا جائے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK