کمیشن نے ۳؍ ہی سال میں رپورٹ پیش کر دی مگر حکومت نے اسے اب تک عام نہیں کیا، شہر کےباشندے ہر سال کی طرح اس سال بھی کلکٹرآفس پر احتجاج کریں گے۔
دھولیہ میں ہر سال مقامی باشندے رپورٹ کیلئے احتجاج کرتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
۶ءجنوری ۲۰۱۳ء کو دھولیہ کے مچھلی بازار علاقے میں ہوٹل کے معمولی سے بل پر ہوئے جھگڑےنے فساد کی شکل اختیار کر لی تھی۔ اس فساد کو آج ۱۳؍ سال ہو گئے۔اس طویل عرصہ کے بعد بھی فساد کی جانچ کرنے کیلئے بنائے گئے چاندیوال کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی ہے۔چاندیوال کمیشن نے ۳؍ سال مسلسل محنت کرکے ، متاثرین اور عینی شاہدین کے بیانات پر مشتمل احوال حکومت کے سپرد کیا لیکن یہ رپورٹ آج بھی دھول میں دبی ہوئی ہے۔ حالانکہ دھولیہ کے باشندے آج بھی اس رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔
اس بابت دھولیہ فساد کی قانونی پیروی کرنے والے جمعیۃ علماء ( ارشد مدنی) کے وکیل ایڈوکیٹ اشفاق شیخ نے انقلاب کو بتایا فساد کے خاطی پولیس والوں کے خلاف مقدمے دائر کئے گئے تھے اور یہ معاملہ ہائی کورٹ میں پہنچ گیا تھا لیکن ہائی کورٹ نےکمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ہی خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بات کہی تھی۔اسلئے ان پولیس والوں کے خلاف اب تک کارروائی نہیں ہوسکی۔ ایڈوکیٹ اشفاق نے کہا کہ جب تک کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آجاتی فساد کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکتا۔
جمعیۃ علماء کی قانونی کمیٹی کے رکن مشتاق صوفی نےبھی چاندیوال کمیشن کی رپورٹ اب تک منظر عام پر نہ لائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انقلاب سے گفتگو میں مشتاق صوفی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جمعیۃکی قانونی کمیٹی کے صوبائی صدر گلزار اعظمی کے انتقال کے بعد دھولیہ فساد رپورٹ کے تئیں تنظیم کی کارروائی سست پڑ گئی ہے۔مشتاق صوفی نےکہا کہ دو سال سے متاثرین بھی ہمارے رابطے میں نہیں ہیںجس کی وجہ سے خاطر خواہ کام نہیں ہوسکا ۔مشتاق صوفی نےسوال کیا کہ ’’ آخر حکومت کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر کیوں نہیں لارہی ہے؟ ہائی کورٹ کے فیصلے کو روکنے کیلئےیا پھر پولیس والوںکو بچانے کیلئے؟۔
اس بابت پولیس فائرنگ میں جاں بحق ہونے والے سعود پٹیل کے والد رئیس پٹیل نے انقلاب کو بتایا کہ ہر سال کی طرح امسال بھی فساد میں جاں بحق ہونے والوںکے اہل خانہ ۶؍جنوری کو ضلع کلکٹر دفتر کے باہر چاندیوال کمیشن کی جانچ رپورٹ منظر عام پر لانے کیلئے احتجاج کریں گے۔نیز گزشتہ الیکشن کی طرح حالیہ کارپوریشن الیکشن میں بھی ووٹ نہ ڈال کر خاطی افسران اور فسادیوں کی مذمت کریں گے۔
فساد کے مہلوکین کے اہل خانہ نے ایک آواز ہوکر کہا کہ ہمیں انصاف چاہئے۔ہمارے نوجوان بچوں کو پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کرکے موت کی نیند سلادیا ۔حکومت چاندیوال کمیشن کی رپورٹ فوری طور پر منظر عام پر لاکر خاطیوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالے۔ حکومت سے معاوضہ ملنے کی بات پوچھنے پر رئیس پٹیل نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت سے معاوضہ مل چکا ہے لیکن مرکزی حکومت سےفی مہلک ک۴؍ لاکھ روپے معاوضہ منظور ہوا تھا جو اب تک نہیں ملا ۔ وجہ یہ ہے کہ ضلع انتظامیہ اور پولیس نے اب تک اس تعلق مرکز کو رپورٹ نہیں بھیجی ہے۔
معلوم ہوکہ دھولیہ فرقہ وارانہ فساد میں پولیس کی اندھا دھند فائرنگ میں سعود پٹیل، یونس شاہ، عمران علی، عاصم شیخ، رضوان شاہ، حافظ آصف اقبال نامی ۶؍نوجوان جاں بحق ہوئے تھے۔شیخ چاند اور خالد انصاری کو پیر میں گولی لگی تھی جس کی وجہ سے وہ زندگی بھر کیلئےمعذور ہوگئے ۔اپنے بیٹوں کو کھونے والوں کا کہنا ہے کہ نہ ہی پولیس میں اور نہ ہی کمیشن نے پولیس فائرنگ میں مسلم نوجوانوں کی موت کا معاملہ درج کیا ہے ۔ متاثرین نے کہا کہ جب ہمارے بچے پولیس فائرنگ میں نہیں مرے تو پھر فساد میں کس کی گولی سے مارےگئے؟ کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے پر ہی اس کا انکشاف ہوگا ۔یاد رہے کہ ۲۰۱۳ء سے اب تک مہاراشٹر میں اب تک ۵؍ حکومتیں بدل چکی ہیں لیکن رپورٹ سرکاری الماریوں میں بند ہے۔