Updated: April 13, 2026, 5:01 PM IST
| Mumbai
جے پور کے عنبر (آمیر) قلعہ کے ہاتھی ’’چنچل‘‘ کی موت نے سیاحتی سرگرمیوں میں قیدی ہاتھیوں کے استعمال پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ پیٹا انڈیا اور وائلڈ لائف ایس او ایس نے ہاتھی سواری کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ مقامی حکام اور ہاتھی گاؤں کمیٹی نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سیاحتی صنعت میں ہاتھیوں کے ساتھ بدسلوکی، جبری تربیت اور غیر فطری حالات سنگین صحت مسائل کا سبب بنتے ہیں۔
جے پور میں عنبر (آمیر) قلعہ کے قریب سیاحتی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے ۷۰؍ سالہ ہاتھی ’’چنچل‘‘ کی موت نے ایک بار پھر ہندوستان میں قیدی ہاتھیوں کے استحصال اور سیاحتی صنعت کے کردار پر شدید سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں جانوروں کے حقوق کی تنظیمیں اور حکام ایک دوسرے کے متضاد مؤقف کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ یہ وہی ہاتھی ہے جسے چند دنوں قبل گلابی رنگ میں رنگ کر عالمی شہرت یافتہ فوٹوگرافر نے تصاویر لی تھیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق چنچل کی موت قلبی امراض کے باعث ہوئی، تاہم اس واقعے نے فوری طور پر ایک وسیع بحث کو جنم دیا جس میں پیٹا انڈیااور وائلڈ لائف ایس او ایس جیسی تنظیموں نے اسے قیدی ہاتھیوں کے ساتھ جاری ’’منظم بدسلوکی‘‘ کی علامت قرار دیا۔ وائلڈ لائف ایس و ایس نے اپنے بیان میں کہا کہ جے پور میں ایک ’’منظم کارٹیل‘‘ سیاحوں کو گمراہ کر کے ہاتھی سواری جیسی سرگرمیوں میں شامل کرتا ہے، جو درحقیقت جانوروں کے لیے تکلیف دہ اور نقصان دہ ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: راجستھان حکومت کو سماجی بائیکاٹ جیسے واقعات سے نمٹنے کیلئے ٹھوس پالیسی کا حکم
تنظیم نے ’’ری فیوژ ٹو رائیڈ‘‘ مہم کا آغاز کرتے ہوئے عالمی سیاحوں سے اپیل کی کہ وہ ہاتھیوں پر سواری سے انکار کریں اور ذمہ دار سیاحت کو فروغ دیں۔ ادارے کے شریک بانی کارتک ستیہ نارائن نے کہا کہ عنبر (آمیر) فورٹ جیسے مشہور سیاحتی مقام کے پیچھے ایک ’’تاریک حقیقت‘‘ چھپی ہوئی ہے جہاں ہاتھیوں کو سخت حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بہت سے ہاتھی اندھے، زخمی یا بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں جن کی حالت کو رنگین سجاوٹ اور کپڑوں کے ذریعے چھپایا جاتا ہے۔
دوسری جانب مقامی ہاتھی گاؤں کمیٹی کے نمائندوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چنچل کی موت قدرتی وجوہات کی بنا پر ہوئی اور اسے ایک آرٹ فوٹو شوٹ سے جوڑنا درست نہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہاتھی پر استعمال ہونے والا رنگ غیر زہریلا تھا اور ہولی کے موقع پر استعمال ہونے والے ’’گلال‘‘ جیسا تھا، جسے جلد ہی دھو دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ممتا کا بی جے پی پرایک ہزار کروڑ کی ڈیل کا الزام
اس تنازع میں روسی فوٹوگرافر جولیا بورولیاف بھی زیر بحث آئیں، جن کے فوٹو شوٹ میں چنچل کو گلابی رنگ میں پیش کیا گیا تھا۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ ایک ثقافتی روایت کا حصہ تھا اور اس میں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ تاہم پیٹا انڈیا نے اس مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ہاتھیوں کو سیاحتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بذات خود غیر اخلاقی ہے، چاہے اس میں بظاہر نرم رویہ ہی کیوں نہ اختیار کیا جائے۔ تنظیم نے فوٹوگرافر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس شوٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی کو تحفظِ حیوانات کے لیے وقف کریں۔
ماہرین جنگلی حیات کے مطابق ہاتھیوں کو سیاحتی سرگرمیوں کے لیے تیار کرنے کا عمل انتہائی سفاکانہ ہوتا ہے، جسے ’’فجن‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں کم عمر ہاتھیوں کو ماں سے جدا کر کے سخت جسمانی اور ذہنی اذیت کے ذریعے تابع بنایا جاتا ہے، جس کے اثرات ان کی پوری زندگی پر رہتے ہیں۔ مزید برآں، کنکریٹ جیسی سخت سطحوں پر مسلسل چلنے، بھاری وزن اٹھانے اور زنجیروں میں بند رہنے سے ہاتھیوں میں پاؤں کی دائمی بیماریوں، ریڑھ کی ہڈی کے مسائل اور ذہنی دباؤ جیسے سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اب شولاپورمیں اشوک کھرات کی جائیداد کا پتہ چلا
اس معاملے کے بعد راجستھان کے محکمہ جنگلات نے باضابطہ تحقیقات کا اعلان کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کسی جنگلی حیات کے قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک ہاتھی کی موت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے عالمی سطح پر اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا سیاحت کے نام پر جانوروں کا استعمال جائز ہے یا نہیں۔ ایک طرف اسے ثقافتی روایت اور معاشی ذریعہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف اسے کھلی استحصالی پریکٹس سمجھا جا رہا ہے جس کے خاتمے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔