Updated: October 29, 2026, 9:58 PM IST
| Jakhwali
جکھوالی میں سکھ پڑوسیوں نے ۱۹۴۷ء کے فسادات میں اس وقت گجّو خان اور ان کے بھائیوں کی جان بچائی تھی، جب ان کے والدین مارے گئے؛ اب اسی گاؤں میں سکھ خاتون بی بی راجندر کور نے مسجد کے لیے خاندانی زمین دلوائی، جبکہ ہندو اور سکھ دیہاتیوں نے رقم، اینٹیں اور سیمنٹ فراہم کیا، تاکہ وہاں رہنے والے ۱۸؍ مسلم خاندان اپنے گاؤں میں ہی نماز ادا کرسکیں۔
۸۷؍ سالہ گجّو خان کی آنکھوں میں ایک خواب ہے، وہ اپنی زندگی میں ایک بار پھر اپنے گاؤں میں اذان کی آواز سننا چاہتے ہیں۔ پنجاب کے ضلع فتح گڑھ صاحب کے گاؤں جکھوالی میں زیرِ تعمیر مسجد ان کے لیے محض عبادت گاہ نہیں، بلکہ تقسیمِ ہند کے زخموں، بچپن کی محرومیوں اور پڑوسیوں کی انسان دوستی سے جڑی ایک جذباتی یاد ہے۔ ۱۹۴۷ء میں جب فرقہ وارانہ تشدد نے پنجاب کو لہولہان کردیا تھا، گجّو خان کے والدین نے انہیں اور ان کے دو بھائیوں کو جان بچانے کے لیے جکھوالی بھیج دیا تھا۔ ان کے والدین اپنے گاؤں میں مارے گئے، لیکن سکھ پڑوسیوں نے تینوں بھائیوں کو مسلح جتھوں سے چھپا کر محفوظ رکھا۔ آج کئی دہائیوں بعد اسی گاؤں کے سکھ اور ہندو خاندان ان مسلمانوں کے لیے مسجد تعمیر کر رہے ہیں جنہیں نماز ادا کرنے کے لیے اب تک دوسرے گاؤں جانا پڑتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی: ریس کورس کی تاریخی مسجد کی مسماری پر چار ہفتوں کیلئے روک
گجّو خان کو یاد ہے کہ انہوں نے آخری مرتبہ اپنے بچپن کے گاؤں ٹیرا ملویہ میں آٹھ سال کی عمر میں اذان سنی تھی۔ تقسیم کے دوران ان کے والدین نے اپنے بچوں کو محفوظ مقام پر بھیجنے کا فیصلہ کیا، لیکن خود زندہ نہ بچ سکے۔ گجّو خان نے دی گارجین کو بتایا کہ ’’یہ میرا ننھیال تھا۔ میرے والدین نے خونریزی سے بچانے کے لیے مجھے اور میرے دو بھائیوں کو یہاں بھیج دیا تھا، وہ ہمارے گاؤں میں مارے گئے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ سکھ پڑوسیوں نے انہیں لاٹھیوں اور جلتی مشعلوں کے ساتھ گشت کرنے والے مسلح افراد سے چھپایا تھا۔ اس وقت کسی نے شاید تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ برسوں بعد یہی گاؤں ان کے لیے ایک ایسی مسجد تعمیر کرے گا جہاں وہ اپنی زندگی کی آخری خواہش پوری ہوتے دیکھ سکیں گے۔ اس منصوبے میں سب سے نمایاں کردار بی بی راجندر کور کا ہے، جن کی عمر ۷۷؍ سال ہے۔ انہوں نے اپنے پوتے کو خاندان کی زرعی زمین کا ایک حصہ مسجد کی تعمیر کے لیے دینے پر آمادہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گاؤں میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لیے عبادت گاہیں موجود تھیں، لیکن مسلمانوں کے پاس اپنی مسجد نہیں تھی۔ راجندر کور نے کہا کہ ’’کسی کو عبادت کے لیے جگہ دینا سب سے بڑی نیکی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں محسوس ہوا کہ اس سرزمین پر جو خونریزی ہوئی، اس کے زخموں کے لیے کسی مثبت کام کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق گاؤں کے مسلمان نماز پڑھنے کے لیے تقریباً ۴؍ کلومیٹر دور دوسرے گاؤں جاتے تھے۔ خاندان کی زمین مسجد کے لیے فراہم کرنے سے اب مقامی مسلمانوں کو اپنے گاؤں میں ہی عبادت گاہ میسر آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
جکھوالی میں مسجد کی ضرورت تقریباً تین دہائیوں سے محسوس کی جارہی تھی۔ گاؤں میں سکھوں کی اکثریت ہے، جبکہ ہندو اور مسلمان خاندان بھی آباد ہیں۔ وہاں پہلے سے گردوارہ، شیو مندر اور ایک درگاہ موجود ہیں، لیکن مسجد نہ ہونے کے باعث مقامی مسلمان جمعہ اور روزانہ کی نمازوں کے لیے دوسرے گاؤں جانے پر مجبور تھے۔ دسمبر ۲۰۲۵ء میں راجندر کور کی جانب سے تقریباً پانچ مرلہ زمین عطیہ کرنے کے بعد مسجد کی تعمیر کا راستہ ہموار ہوا۔ پنجاب کے شاہی امام مولانا عثمان لدھیانوی نے ۷؍ دسمبر کو مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا تھا۔ گاؤں کے لوگوں نے تعمیر کے لیے مالی تعاون کا وعدہ کیا اور زمین کو قانونی طریقے سے مسجد کمیٹی کے نام منتقل کیا گیا۔ دیہاتیوں کے مطابق یہ منصوبہ کسی ایک مذہبی گروہ کا کام نہیں، بلکہ پورے گاؤں کی مشترکہ کوشش ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گجرات: گائے ذبح کرنے کے مبینہ جرم میں تین مسلم افراد کو عمر قید
یاد رہے کہ تقسیمِ ہند کے دوران پنجاب کی سرحد نے خطے کو دو حصوں میں بانٹ دیا تھا۔ بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور فرقہ وارانہ قتل و غارت کے نتیجے میں مشرقی پنجاب کے بہت سے دیہات سے مسلمان چلے گئے۔ ان کی عبادت گاہیں کئی مقامات پر ویران ہوگئیں، بعض عمارتیں منہدم ہوگئیں اور کچھ کو گودام یا مویشی رکھنے کی جگہوں کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ تاہم، گزشتہ ایک دہائی میں پنجاب کے مختلف دیہات میں مقامی سکھ اور ہندو خاندانوں نے پرانی مساجد کی بحالی یا نئی مساجد کی تعمیر میں حصہ لیا ہے۔ بعض ایسے دیہات میں بھی مساجد دوبارہ آباد کی گئی ہیں جہاں اب مسلمان مستقل طور پر نہیں رہتے، لیکن مقامی لوگوں نے مسلم مزدوروں اور آس پاس کے علاقوں کے علما کو نماز کے لیے مدعو کیا ہے۔ جکھوالی سے تقریباً ۸۰؍ کلومیٹر دور ضلع سنگرور کے گاؤں پوناوال میں بھی ایک ہندو خاندان نے مسجد کی تعمیر کے لیے زمین عطیہ کی۔ ہندو پجاریوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ۴۸؍ سالہ جسپال شرما نے اپنی زمین کا ایک حصہ مسجد کے لیے دیا اور فروری ۲۰۲۶ء میں مسجد کے افتتاح پر پورے گاؤں کے لیے دعوت کا انتظام کیا۔ ان کے گاؤں میں تقریباً ۵۵۰؍ گھر ہیں، لیکن مسلمان خاندانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ شرما نے کہا کہ مسجد ان کے گھر کے بالکل سامنے ہے اور انہیں دن میں پانچ مرتبہ نماز کی آواز سن کر خوشی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق تعاون صرف ان کے خاندان تک محدود نہیں رہا؛ گاؤں کے ہندوؤں اور سکھوں نے اپنی استطاعت کے مطابق رقم، اینٹیں اور سیمنٹ فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پڑوسیوں کے ساتھ فرض نبھانے کا معاملہ ہے۔
مالیرکوٹلہ کے گاؤں عمرپورہ میں سکھ بھائیوں سکھجندر سنگھ پاندھر اور ان کے بھائی نے ایک مقامی عبادت گاہ کی بحالی میں حصہ لیا۔ ان کے دادا تقسیم کے دوران مغربی پنجاب سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے تھے۔ پاندھر کے مطابق گاؤں میں عید اور گُرپورب دونوں مذاہب کے لوگ مل کر مناتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہاں کسی کے ساتھ دوسرے جیسا نہ ہونے کی بنیاد پر امتیاز نہیں کیا جاتا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دوسرے حصوں میں چاہے حالات کیسے بھی ہوں، ان کے گاؤں میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور اتحاد سے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ پنجاب کی اس مشترکہ ثقافت کا حوالہ دیتے ہیں جس میں مختلف مذہبی روایات صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مولانا محمدعلی جوہر یونیورسٹی کی زمین اورعمارتیں قرق
پنجاب کے موجودہ شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی نے دی گارجین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم نے پنجاب کے قدرتی سماجی رشتوں کو توڑ دیا تھا۔ ان کے مطابق انٹرنیٹ پر مذہبی اور سیاسی پولرائزیشن بہت زیادہ دکھائی دیتی ہے، لیکن دیہات میں عام لوگ اب بھی ایک دوسرے کی حفاظت اور مدد کا انتخاب کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سابق شاہی امام پنجاب مولانا حبیب الرحمٰن ثانی لدھیانوی کی کوششوں سے گزشتہ ۹؍ برس کے دوران غیر مسلم دیہاتیوں نے ۱۶۵؍ سے زیادہ مساجد کی تعمیر یا بحالی میں تعاون کیا ہے۔ ان کوششوں میں صرف عمارتیں تعمیر کرنا شامل نہیں، بلکہ ان عبادت گاہوں کو دوبارہ مقامی زندگی کا حصہ بنانا بھی شامل ہے۔ جکھوالی میں زیرِ تعمیر مسجد کی تکمیل کے بعد وہاں آباد ۱۸؍ مسلم خاندانوں کو اپنے گاؤں میں نماز ادا کرنے کی سہولت ملنے کی امید ہے۔ لیکن گجّو خان کے لیے اس تعمیر کی اہمیت کسی سہولت سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کی زندگی میں تقسیم نے والدین چھین لیے تھے، تاہم سکھ پڑوسیوں کی مہربانی نے انہیں اور ان کے بھائیوں کو زندہ رہنے کا موقع دیا۔ اب ان کی عمر کے آخری حصے میں ایک بار پھر اسی گاؤں کے لوگوں نے ان کے لیے امید پیدا کی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسجد مکمل ہو، اس کا دروازہ کھلے اور اذان کی آواز جکھوالی کی فضا میں گونجے، تاکہ وہ اپنی زندگی میں ایک بار پھر اس آواز کو سن سکیں جس سے ان کی بچپن کی یادیں وابستہ ہیں۔