• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جامع مسجد الشمس، تزئین و آرائش کا شاندار نمونہ ہے

Updated: October 22, 2026, 3:50 PM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Mira Road

میراروڈ کی پہچان اور شان سمجھی جانے والی جامع مسجد الشمس آج بھی اپنی خوبصورتی، جدید سہولیات اور بہترین انتظام کی وجہ سے میرا بھائندر ہی نہیں بلکہ پورے مضافاتی ممبئی میں اپنی مثال آپ ہے۔ مسجد کے اندر محرابوں اور ستونوں پر سونے کے ورق سے نہایت خوبصورت خطاطی کی گئی ہے۔

Located in the Nianagar area, the Jamia Masjid-al-Shams is unique in its own right. Photo: INN
نیانگر علاقے میں واقع جامع مسجدالشمس اپنی مثال آپ ہے۔ تصویر: آئی این این

میراروڈ کی پہچان اور شان سمجھی جانے والی جامع مسجد الشمس آج بھی اپنی خوبصورتی، جدید سہولیات اور بہترین انتظام کی وجہ سے میرا بھائندر ہی نہیں بلکہ پورے مضافاتی ممبئی میں اپنی مثال آپ ہے۔ مسجد کے اندر محرابوں اور ستونوں پر سونے کے ورق سے نہایت خوبصورت خطاطی کی گئی ہے۔ گراؤنڈ فلور پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ۹۹؍ اسماء الحسنیٰ اور پہلی منزل پر نبی کریمؐ  کے اسمائے مبارکہ کندہ ہیں۔ مسجد انتظامیہ کے مطابق مسجد کا نیا ساؤنڈ سسٹم جرمنی سے درآمد کیا گیا ہے جبکہ دلکش لائٹنگ جرمنی اور امریکہ سے منگوائی گئی ہے۔ صحن میں اٹلی سے منگوائی گئی خاص ٹائلز (اٹالین فیراری) لگائی گئی ہیں۔

مسجد میں رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے نوجوان سید اکمل کے مطابق اس مسجد میں پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے اور یہ مکمل ائیر کنڈیشنڈ ہے۔ اس کے مینار کی اونچائی ۱۰۰؍ فٹ، گنبد کا قطر ۵۰؍ فٹ اور اونچائی ۸۰؍ فٹ ہے۔ صدر دروازہ برما ساگوان کی لکڑی سے بنا ہوا ہے جس کی اونچائی ۲۰؍ فٹ اور چوڑائی ۱۵؍ فٹ ہے۔ اس پر بھی سونے کے ورق کا کام کیا گیا ہے۔ ہر منزل کی اونچائی ۱۴؍ فٹ ہے۔ مسجد سال کے ۳۶۵؍ دن اندر اور باہر مختلف رنگوں کی روشنیوں سے جگمگاتی رہتی ہے۔ صحن ۳؍ ہزار اسکوائر فٹ پر محیط ہے جبکہ وضو خانہ میں بیک وقت ۱۰۰؍ افراد وضو بنا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہر شہر میں اس انداز کا منچ ہونا چاہئے جیسا میرا روڈ میں قائم کیا گیا، یہ ہے ’’سدبھاؤنا منچ‘‘

مسجد کے ٹرسٹی سید مظفر حسین نے بتایا کہ جامع مسجد الشمس کی تعمیر ۱۹۸۹ میں ہوئی تھی۔ سنگ بنیاد ان کے والد محترم سید نذر حسین مرحوم نے اشرف العلماء مولانا سید حامد اشرف اشرفی جیلانی، مولانا ظہیر خان اور حافظ اطہر کے ہاتھوں رکھوایا تھا۔ ۱۹۹۶ میں پرانی مسجد کو شہید کرکے نئی مسجد کی تعمیر شروع کی گئی۔ 

 ثناء مسجد اپنی منفرد بناوٹ سے پہچانی جاتی ہے

ثناء مسجد میراروڈ کے شانتی نگر علاقے میں پونم ساگر میں واقع ہے۔ اپنی منفرد بناوٹ کی وجہ سے علاقے کی پہچان بن چکی یہ مسجد غیر مسلم اکثریتی آبادی والے علاقے میں ایک نعمت کی طرح ہے۔ ملت ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر انتظام قائم کی گئی ثناء مسجد کے صدر سماجی کارکن اقبال مہاڈک ہیں۔ یہ مسجد باقاعدہ مسجد کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ پانی اور الیکٹرک بل پر باقاعدہ مسجد کا نام درج ہے۔حافظ اکبر علی شیخ امامت و خطابت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ مسجد کا مرکزی ڈھانچہ آٹھ کونہ طرز پر بنا ہوا ہے۔ نیچے سے اوپر تک مکمل سفید رنگ میں ہے۔  عین درمیان میں سبز رنگ کا بڑا گنبد ہے۔ گنبد کے اوپر اور اطراف میں تین باریک اور بلند مینار ہیں جن پر اسلامی طرز کی نقش و نگاری ہے۔ درمیانی مینار سب سے بلند ہے۔  ثناء مسجد جدید اور قدیم طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج ہے جو اپنی سفید عمارت اور سبز گنبد کی وجہ سے دور ہی سے پہچانی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK