Updated: September 23, 2026, 12:07 PM IST
| Srinagar
جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر وادی میں کتابوں کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قابل اعتراض اور ملک دشمن مواد پر مبنی کتابوں اور مطبوعات کو ہٹانے کی غرض سے یہ جانچیں کی جا رہی ہیں۔یہ اعداد و شمار منگل کو جموں و کشمیر اسمبلی میں لنگاٹ سے آزاد رکنِ اسمبلی شیخ خورشید احمد کی جانب سے اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں پیش کئےگئے۔
جموں و کشمیر میں سرکاری مہم کے تحت ۲۱؍ لاکھ سے زائد کتابوں اور مطبوعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، بقول حکام’’قابلِ اعتراض اور ملک دشمن مواد‘‘ پر مبنی ادب کی نشاندہی کی جا سکے۔ جموں و کشمیر حکومت کے مطابق، اس کارروائی کے بعد لائبریریوں اور سرکاری اداروں سے اب تک ۴؍ ہزار ۷۶۷؍ کتابیں ہٹائی جا چکی ہیں۔ یہ اعداد و شمار منگل کو جموں و کشمیر اسمبلی میں لنگاٹ سے آزاد رکنِ اسمبلی شیخ خورشید احمد کی جانب سے اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں پیش کئےگئے۔جموں و کشمیر کے شعبۂ اعلیٰ تعلیم کے مطابق، اب تک کل ۲۱؍ لاکھ ۸۱؍ ہزار ۵۸۲؍ کتابوں اور مطبوعات کی جانچ پڑتال کی جا چکی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ ابھی جاری ہے جس کی تکمیل میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مزید ۱۷۵۲؍ کتابوں کو ماہرانہ معائنے کیلئےڈائریکٹر کالجز، جموں و کشمیر کے پاس بھیجا گیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ کارروائی قابلِ اعتراض مواد کی نشاندہی کیلئے ایک ’’واضح اور غیر جانبدارانہ معیار‘‘ پر مبنی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آئینی اقدار، تعلیمی آزادی، تنقیدی سوچ، سائنسی مزاج اور ذمہ دارانہ شہریت پر مبنی ماحول کو فروغ مل سکے۔
یہ بھی پڑھئے: کولکاتا کالج: اے بی وی پی پر مسلم پروفیسر نے لگایا زبردستی استعفیٰ لینے کا الزام
دوسری طرف، لنگاٹ کے رکن اسمبلی شیخ خورشید نے اس قدم کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کتابوں کو ہٹانے کے عمل کو علم اور تاریخی دستاویزات پر حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ علم پر کریک ڈاؤن ہے اور نہ صرف ہماری یاداشتوں کو مٹایا جا رہا ہے بلکہ اب کتابوں پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں تاکہ کشمیر کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے اسے ختم کیا جا سکے۔ خورشید نے الزام لگایا کہ ’’ملک دشمن ‘‘مواد کے نام پر لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے کتابیں ہٹانا خطے کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔
واضح رہے کہ کتابوں کی یہ وسیع پیمانے پر جانچ پڑتال اس وقت شروع ہوئی جب فروری ۲۰۲۵؍ میں جموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں کتابوں کی دکانوں اور لائبریریوں پر چھاپے مار کر ۶۶۸؍ کتابیں ضبط کی تھیں اور پولیس نے الزام لگایا تھا کہ یہ کتابیں کالعدم جماعتِ اسلامی کے نظریے کو فروغ دینے کیلئے تقسیم کی جا رہی تھیں۔ اس کے بعد اگست ۲۰۲۵؍ میں، جموں و کشمیر کے محکمۂ داخلہ نے ۲۵؍ کتابوں کو ضبط کرتے ہوئے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں ان کی اشاعت، تقسیم اور فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی اور حکومت نے ان پر علیحدگی پسندی کو ہوا دینے کا الزام لگایا تھا۔ اس فہرست میں اے جی نورانی، ارندھتی رائے، کرسٹوفر سنیڈن اور سمنتر بوس جیسے معروف مصنفین اور دانشوروں کی تحریریں بھی شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: وندے ماترم کے تمام ۶؍ بند نہ گانے پر مجرمانہ کارروائی نہیں ہونی چاہئے: سپریم کورٹ
مزید برآں یہ جانچ پڑتال اس وقت اور زیادہ بڑھ گئی جب جموں و کشمیر کے سرکاری اسکولوں میں فراہم کی جانے والی دو کتابوں کے حوالے سے تنازع کھڑا ہو گیا۔ پرسنلٹیز اینڈ لیجنڈز آف جموں اینڈ کشمیراور گریٹ پرسنلٹیز آف جموں اینڈ کشمیرنامی ان کتابوں میں سید علی شاہ گیلانی، مقبول بھٹ اور مسرت عالم جیسے افراد کے حوالہ جات شامل تھے۔ انتظامیہ نے ان ناموں کی شمولیت پر شدید اعتراض کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا اور اس کے بعد محکمہ تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا گیا۔