• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جموں کشمیر وقف بورڈ کے مشترکہ خطبہ کے منصوبے پر تنازع

Updated: October 14, 2026, 2:10 PM IST | Srinagar

جموں کشمیر وقف بورڈ نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ اس کے زیر اہتما م تمام مساجد میں مشترکہ موضوعات کے تحت خطبات ہوں گے ،اس فیصلےکو نیشنل کانفرنس لیڈر نے مذہبی آزادی کے خلاف بتایا تاہم، الزام عائد کیا کہ اس فیصلے کے ذریعے بی جے پی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور یہ تشویش کی بات ہے کہ کن موضوعات پر خطبات ہونے چاہئے یہ حکام طے کریں گے ۔

Photo: X
تصویر: ایکس

 جموں کشمیر وقف بورڈ نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ اس کے زیر اہتما م تمام مساجد میں مشترکہ موضوعات کے تحت خطبات ہوں گے ،اس فیصلےکو نیشنل کانفرنس لیڈر نے مذہبی آزادی کے خلاف بتایا تاہم، الزام عائد کیا کہ اس فیصلے کے ذریعے بی جے پی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور یہ تشویش کی بات ہے کہ کن موضوعات پر خطبات ہونے چاہئے یہ حکام طے کریں گے ۔ اس معاملے پر این سی لیڈر کے الزامات کی تردید کرتےہوئے وقف بورڈ نے کہاہے کہ موضوعات طے کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں علماء اور مذہبی رہنما شامل ہیں اس میںحکام کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں زیتون کی فصل جنگ سے شدید متاثر؛ پیداوار میں زبردست کمی اور زرعی اراضی تک عدم رسائی

بعد ازاں اس  اقدام پر نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمران نبی ڈار نے شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ مذہبی علماء کو کس موضوع پر بات کرنی چاہئے، اس کا فیصلہ کرنے میں حکام کا کیا کردار ہو سکتا ہے؟وقف بورڈ نے یونین ٹیریٹری کی مساجد اور زیارت گاہوں میں دئیے جانے والے خطبات کیلئے موضوعات کے انتخاب کی خاطر علماء اور خطباء پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس پہل کا مقصد منشیات کی لعنت اور خواتین سے جڑے مسائل سمیت دیگر سماجی امور پر گفتگو میں یکسانیت لانا ہے۔ اس تجویز پر ردِعمل دیتے ہوئے عمران نبی ڈار نے الزام لگایا کہ اس اقدام سے بی جے پی کو کشمیر میں مذہبی بیانیے پر اثر انداز ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ڈار نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’بی جے پی پوری وادی کشمیر کی مساجد کیلئے جمعہ کے خطبات کا مسودہ تیار کرے گی۔ وہی طے کریں گے کہ ہمارے خطباء کن مسائل پر بات کریں گے، انہیں کیا رنگ دیا جائے گا اور کن اہم مسائل کو قالین کے نیچے چھپا دیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’مواد ان کا ہوگا، الفاظ ان کے ہوں گے اور نیت بھی ان ہی کی ہوگی۔ ‘‘ڈار نے وضاحت کی کہ وہ بنیاد پرست نہیں ہیں، لیکن ایک مسلمان ہونے کے ناطے اس مجوزہ نظام کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ میرواعظ عمر فاروق سمیت تمام مذہبی رہنما اس قدم کی مزاحمت کریں گے۔ 
علاوہ ازیں وقف بورڈ کی چیئرپرسن سیدہ درخشان اندرابی نے کہا ہے کہ علماء کی ایک کمیٹی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ خطبات میں کن مسائل کا احاطہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کی چیئرپرسن یا سرکاری حکام کا موضوعات کے انتخاب میں کوئی براہِ راست کردار نہیں ہوگا۔اندرابی نے کہا، ’’خطبات کا تعلق ایمان، معاشرے اور اس جگہ کے مستقبل سے ہے۔‘‘ انہوں نے وضاحت کی کہ روایتی خطبہِ رسول اپنے اصل روپ میں برقرار رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ موضوعات میں منشیات کی لت، خواتین کے مسائل اور دیگر سماجی تشویش کے امور شامل ہو سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: بنگلورو: وزیر داخلہ پریناک کھڑگے کا ایس آئی آر مخالف مظاہرین پر پولیس کارروائی کےجائزہ کا حکم

تاہم  بورڈ کے مطابق اس کا مقصد ائمہ اور خطباء کو ان مسائل پر ہم آہنگ انداز میں بات کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ بورڈ نے ان مساجد کو بھی شامل کرنے کیلئے تجاویز مانگی ہیں جو اس سے منسلک نہیں ہیں۔مختلف اضلاع کے خطبات کے ساتھ ایک آن لائن میٹنگ کے دوران بورڈ نے مشترکہ خطبات کے موضوعات متعارف کرانے کے اپنے منصوبے پر تبادلہِ خیال کیا۔ ایگزیکٹو مجسٹریٹ اشتیاق محی الدین نے بتایا کہ تقریباً ایک ماہ قبل ایک ہدایت نامہ جاری کیا گیا تھا جس میں خطبہ سے ایک ہی مشترکہ موضوع پر بات کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ 
اس تجویز سے یہ سوالات اٹھے ہیں کہ یہ کمیٹی کس طرح کام کرے گی، اس کے فیصلوں پر عمل درآمد کیسے ہوگا اور کیا انفرادی خطباء کو اپنی مذہبی سمجھ اور مقامی حالات کے مطابق موضوعات کی تشریح کرنے کی آزادی حاصل رہے گی یا نہیں۔ اگرچہ بورڈ نے کہا ہے کہ موضوعات کا انتخاب مذہبی علماء کریں گے، لیکن دستیاب معلومات میں کمیٹی کی تشکیل اور طریقہِ کار کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK