Updated: September 04, 2026, 6:02 PM IST
| Kolkata
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے ایک بیان میں کہا کہحکومت آر ایس ایس کے زیر سرپرستی مغربی بنگال میں ایک ہزار اسکول کھولنا چاہتی ہے ، کلکتہ میں ودیا بھارتی کی ۷۴؍ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ادھیکاری نے یہ بھی دھمکی دی کہ اگر تعلیمی اداروں نے ’’وندے ماترم‘‘ کا مکمل نسخہ گانے سے انکار کیا تو انہیں سرکاری امداد بند کر دی جائے گی۔
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری۔ تصویر: آئی این این
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے جمعرات کو کہا کہ ریاست ایک سال کے اندر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے تعلیمی ونگ ’’ودیا بھارتی‘‘ کے زیر انتظام کم از کم ایک ہزار اسکول کھولنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکول ہر ضلع، میونسپلٹی اور پنچایت میں قائم کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ آر ایس ایس بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیادی تنظیم ہے۔ بعد ازاں کلکتہ میں ودیا بھارتی کی؍ ۷۴ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ادھیکاری نے یہ بھی دھمکی دی کہ اگر تعلیمی اداروں نے ’’وندے ماترم‘‘ کا مکمل نسخہ گانے سے انکار کیا تو انہیں سرکاری امداد بند کر دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی: مسلم صحافیوں پر مبینہ تشدد، صحافتی تنظیموں نے دہلی پولیس کی شدید مذمت کی
اخبار ’’دی ٹیلی گراف‘‘ کے مطابق انہوں نے کہا، ’’میں نے انہیں بتا دیا کہ سرکاری امداد بند ہو جائے گی، پھر وہ مان گئے، مگر صرف جزوی طور پر وہ کھڑے تو ہوئے مگر ہونٹ نہیں ہلائے، پھر میں نے کہا کہ ہونٹ بھی حرکت کرنے چاہئیں۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے ودیا بھارتی پر زور دیا کہ وہ مرشد آباد اور جنوبی ۲۴ ؍پرگنہ میں مزید اسکول قائم کرے، کیونکہ ان کے مطابق ان اضلاع میں ’’زیادہ قوم دشمن سرگرمیاں‘‘ ہوتی ہیں۔ انہوں نے سابق ترنمول کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے تعلیمی اداروں کو ’’آلودہ‘‘ کیا ہے اور ودیا بھارتی سے کہا کہ وہ ’’قوم پرستانہ تعلیم‘‘ فراہم کرنے کی ذمہ داری لے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارتیہ جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کا نعرہ ’’ایک قوم، ایک آئین، ایک جھنڈا، ایک لیڈر‘‘ تعلیم کے شعبے پر بھی نافذ ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈی جے کی مخالفت کرنے والے سماجی کارکن پر حملہ
مزید برآں ادھیکاری نے کہا کہ حکومت اس انتظام کی اجازت نہیں دے گی جس میں اعلیٰ تعلیم کا محکمہ تمام جامعات کو دیکھے، جبکہ علی گڑھ یونیورسٹی کو کوئی اور محکمہ دیکھے، علی گڑھ یونیورسٹی ریاست کے اقلیتی امور کے محکمے کے تحت چلتی ہے۔انہوں نے کہا، ’’میں نے بورڈ ٹاپر کو مبارکباد دی، بعد میں اقلیتی امور کے محکمے نے مجھے ۲۷ ؍مسلم طلبہ کے ناموں کی علاحدہ فائل بھیجی۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ جب انہوں نے پہلے ہی ۲۰؍ طلبہ (جن میں مسلم، جین اور بدھ مت والے شامل تھے) کو مبارکباد دے دی تھی تو محکمے نے یہ نام کیوں بھیجے۔