Updated: October 23, 2026, 8:04 PM IST
| Kyoto
کیوٹو سے ماتسوئے تک ریل کا سفر ادبی تجربہ بن گیا، فرانس اور جاپان کے ۱۶؍ معروف مصنفین نے ۲۴؍ گھنٹوں سے بھی کم وقت میں ایک مکمل ناول لکھنے کی کوشش کی۔ ہر ادیب کو ایک کردار کی سوانح اور کہانی کا ایک باب دیا گیا، تاکہ الگ الگ لکھے گئے حصے مختصر کہانیوں کا مجموعہ بننے کے بجائے ایک مربوط ناول کی شکل اختیار کریں۔
جاپان کی ایک لگژری سلیپر ٹرین میں ۱۶؍ فرانسیسی اور جاپانی مصنفین نے ایسا ادبی تجربہ کیا جس میں وقت کی پابندی، مختلف زبانوں اور تخلیقی انداز کے باوجود ایک مشترکہ ناول تیار کرنا تھا۔ فرانسیسی ادبی انجمن ’’لِکریتیور اَن مووماں‘‘ (L’Écriture en mouvement) کے زیرِ اہتمام یہ منصوبہ ۲۲؍ اکتوبر کو کیوٹو سے شروع ہوا۔ مصنفین نے جاپان ریلوے ویسٹ کی مشہور لگژری ٹرین ’’ٹوائی لائٹ ایکسپریس میزُوکازے‘‘ میں سفر کرتے ہوئے تقریباً ۲۰۰؍ صفحات پر مشتمل ناول لکھنے کا ہدف مقرر کیا۔ ٹرین ۲۳؍ اکتوبر کی صبح مغربی جاپان کے شہر ماتسوئے پہنچی، جہاں تک مشترکہ مسودہ مکمل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس تجربے میں آٹھ فرانسیسی زبان میں لکھنے والے اور آٹھ جاپانی مصنفین شریک ہوئے۔ ان میں ۲۰۲۰ء کا فرانسیسی ادبی انعام گونکور جیتنے والے ایروے لو تَلیے، ناول ’’دی ایلیگینس آف دی ہیج ہاگ‘‘ کی مصنفہ موریل باربری اور جاپان کے معروف ادیب تو اینجو شامل تھے۔ جاپانی شرکا میں کاوری ایکونی، ہیتومی کانے ہارا، ماچی تاوارا اور دیگر معروف ادیب بھی شامل تھے۔ منصوبے کا بنیادی مقصد مختلف ادبی آوازوں کو ایک ایسی کہانی میں جمع کرنا تھا جس میں ہر مصنف کی انفرادیت برقرار رہے، لیکن ناول کا مجموعی ربط بھی قائم رہے۔
اس مقصد کے لیے منتظمین نے سفر شروع ہونے سے پہلے ہی کہانی کا بنیادی خاکہ اور کرداروں کی تفصیلات طے کردی تھیں۔ ہر مصنف کو ایک کردار کی سوانح دی گئی، جبکہ تمام ۱۶؍ کرداروں کا ماضی ایک فرانسیسی نژاد جاپانی خاتون سے جڑا ہوا تھا۔ یہی خاتون کہانی کا مرکزی نقطہ ہے اور اسی تعلق کے باعث تمام کردار ایک ہی ٹرین میں سفر کررہے ہیں۔ ناول کے ۱۶؍ ابواب میں سے ہر باب ایک مصنف کے حصے میں آیا، جب کہ کہانی کا پس منظر بھی اسی ٹرین کا سفر ہے۔ اس طرح ٹرین کی حقیقی منزل اور ناول میں پیش آنے والے واقعات کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ مصنفین کے لیے اصل چیلنج صرف تیزی سے لکھنا نہیں تھا، بلکہ ایک دوسرے کے لکھے ہوئے حصوں سے مطابقت پیدا کرنا بھی تھا۔ گونکور انعام یافتہ ایروے لو تَلیے نے اس مشترکہ تخلیقی عمل کا موازنہ ’’ہم آہنگ تیراکی‘‘ سے کیا۔ ان کے مطابق، تمام مصنفین کو اپنی تحریر کے وقت، واقعات اور بیانیے کو اس طرح ترتیب دینا تھا کہ ناول کے مختلف حصے ایک دوسرے سے جڑ سکیں۔ یہ مثال اس منصوبے کی مشکل کو واضح کرتی ہے، کیونکہ ہر ادیب کو اپنی تخلیقی آزادی کے ساتھ دوسرے مصنفین کے بیانیے کا بھی خیال رکھنا تھا۔
موریل باربری نے اس منصوبے کو ’’بالکل پاگل پن جیسا منصوبہ‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق ۱۶؍ ادیبوں کی مختلف آوازوں کو ایک بامعنی اور مربوط کہانی میں تبدیل کرنا آسان کام نہیں تھا۔ ہر مصنف کو اپنے کردار کے ذریعے کہانی آگے بڑھانی تھی، لیکن اسے ناول کے مرکزی دھارے سے الگ بھی نہیں ہونے دینا تھا۔ جاپانی مصنف تو اینجو کے حصے میں ایک غیر معمولی کردار آیا: ایسا شخص جو ٹرین میں سوار ہی نہیں ہوسکا تھا۔ انہوں نے اس کردار کو ایک دلچسپ تضاد قرار دیا، کیونکہ باقی تمام کردار اسی ٹرین میں سفر کررہے تھے۔ ٹرین کے اندر موجود ماحول اور کھڑکیوں سے گزرتے جاپانی مناظر نے بھی مصنفین کی تحریروں پر اثر ڈالا۔ آرٹ ڈیکو طرز کے اندرونی حصوں، دیہی علاقوں، بدلتے مناظر اور سفر کے ماحول نے ناول کے لیے فضا پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔ فرانسیسی اور جاپانی زبانوں کے درمیان رابطے کے لیے ترجمان بھی ٹرین میں موجود تھے، تاکہ مصنفین اپنے خیالات کا تبادلہ کرسکیں اور مختلف زبانوں میں لکھے گئے ابواب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔ منصوبے کی بانی این فورسٹ ولسن نے اپنے کردار کو مختلف تحریروں کے درمیان ’’پل بنانے‘‘ سے تعبیر کیا۔
یہ بھی پڑھئے: معروف جاپانی ناول نگار ریو موراکامی ۷۴؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے
یہ منصوبہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ نہیں ہے۔ ۲۰۱۵ء میں اسی ادبی انجمن نے کینیڈا میں فرانسیسی زبان کے ۲۴؍ مصنفین کے ساتھ ایسا ہی ایک منصوبہ کیا تھا، جس میں مصنفین نے ہیلی فیکس سے ٹورنٹو تک ٹرین کے سفر کے دوران ایک مشترکہ کتاب لکھی۔ اس تجربے کے نتیجے میں ’’سر لے تراس دے شامپلین‘‘ (Sur les traces de Champlain) نامی کتاب شائع ہوئی تھی۔ جاپان میں ہونے والا موجودہ منصوبہ اسی خیال کو فرانسیسی اور جاپانی ادیبوں کے درمیان وسعت دیتا ہے۔ منتظمین کے مطابق، تیار ہونے والے ناول کو ۲۰۲۷ء میں فرانسیسی اور جاپانی زبانوں میں شائع کرنے کا منصوبہ ہے۔ ماتسوئے میں ۲۴؍ اکتوبر کو مصنفین کے لیے عوامی گفتگو، گول میز مباحثے اور تخلیقی ورکشاپس کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جہاں وہ اپنے تجربے، مشترکہ تحریر کے طریقۂ کار اور مختلف ادبی روایتوں کو ایک ناول میں سموئے جانے کے عمل پر گفتگو کریں گے۔