Updated: August 04, 2026, 3:05 PM IST
| Tokyo
جاپان کے سماجی کارکن یوسوکے فُوریساوا (Yusuke Furisawa) نے کہا ہے کہ وہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ کے حق میں روزانہ تنہا احتجاج کر رہے ہیں اور عوامی بے حسی کے باوجود اپنی مہم جاری رکھیں گے۔ وہ ہر روز تقریباً ایک گھنٹے تک ٹوکیو اور جاپان کے دیگر شہروں میں فلسطین کے حق میں بینرز اٹھا کر ’’Free Palestine‘‘، ’’Stop the Genocide‘‘ اور ’’Ceasefire Now‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد لوگوں کو یاد دلانا ہے کہ انسانی حقوق کسی سے چھینے نہیں جا سکتے اور ان کا دفاع ہر حال میں ہونا چاہیے۔
یوسوکے فُوریساوا۔ تصویر: ایکس
جاپان کے سماجی کارکن یوسوکے فُوریساوا نے غزہ کے حق میں اپنے روزانہ کے انفرادی احتجاج کے تیسرے سال میں داخل ہونے پر کہا ہے کہ وہ عوامی بے حسی اور محدود توجہ کے باوجود اپنی مہم جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے مسلسل سڑکوں پر نکل کر فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ انادولو کو دیے گئے انٹرویو میں یوسوکے فُوریساوا نے بتایا کہ وہ ٹوکیو اور جاپان کے دیگر شہروں میں روزانہ تقریباً ایک گھنٹے تک فلسطین کے حق میں بینرز اٹھائے کھڑے رہتے ہیں اور ’’Free Palestine‘‘، ’’Stop the Genocide‘‘ اور ’’Ceasefire Now‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مہم صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے (West Bank)، سوڈان، میانمار اور دیگر تنازعات میں متاثرہ شہریوں کی طرف بھی توجہ دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یوسوکے نے کہا کہ ’’میرا مقصد لوگوں کو یہ یاد دلانا ہے کہ انسانی حقوق کسی سے چھینے نہیں جا سکتے اور ہر حال میں ان کا دفاع کیا جانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ سڑکوں پر اکیلے احتجاج شروع کرنے کا فیصلہ انہوں نے غزہ پر حملوں کے آغاز کے بعد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک طویل عرصے سے میں اس حقیقت کے سامنے غصہ، بے بسی اور احتجاج کی خواہش محسوس کرتا رہا ہوں۔ اسی لیے جب اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ پر حملے شروع ہوئے تو میں نے تنہا سڑک پر نکل کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا۔‘‘
فُوریساوا نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات انہیں یہ شک ضرور ہوتا ہے کہ آیا ان کے احتجاج سے کوئی عملی فرق بھی پڑ رہا ہے یا نہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے ضمیر کی آواز پر قائم رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کبھی کبھی میں خود سے پوچھتا ہوں کہ کیا جاپان میں یہ سب کرنے سے واقعی کوئی فرق پڑتا ہے؟ لیکن چاہے لوگ اسے ایک خالی خواب ہی کیوں نہ کہیں، میں یہ کہتا رہوں گا: لوگوں کی حفاظت کرو، انسانوں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کرو، انسانی حقوق کا دفاع کرو، اور دنیا کے ہر شخص کے ساتھ مساوی اور منصفانہ برتاؤ کرو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ: بورڈ آف پیس کے ایلچی کا نیتن یاہو حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ
یوسوکے کے مطابق جاپان میں بہت سے لوگ غزہ کی صورتحال سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں اور نہ ہی ملکی یا عالمی معاملات میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ بہت سے نوجوان ’’نسل کشی ‘‘ کی اصطلاح سے بھی واقف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک جاپانی شہری کی حیثیت سے یہ بات میرے لیے انتہائی افسوسناک ہے۔ اگرچہ میں اکیلا ہوں، لیکن میں چاہتا تھا کہ اپنی آواز بلند کروں اور لوگوں کے ذہنوں پر کوئی اثر چھوڑوں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے احتجاج کے دوران غیر ملکی سیاح اکثر ان سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں، لیکن زیادہ تر جاپانی راہگیر ان کی طرف توجہ نہیں دیتے۔
بقول یوسوکے ’’زیادہ تر لوگ مجھے دیکھ کر بھی لاتعلق رہتے ہیں۔ میں سڑک کے بیچ کھڑا ہو کر آواز بلند کرتا ہوں، لیکن اکثر لوگ ایسے گزر جاتے ہیں جیسے میں وہاں موجود ہی نہ ہوں۔‘‘ یوسوکے فُوریساوا نے واضح کیا کہ وہ اپنی مہم ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور آئندہ بھی ’’Stop the Genocide‘‘، ’’End the Occupation‘‘، ’’Immediate Ceasefire‘‘ اور ’’Free Palestine‘‘ کے مطالبات کے ساتھ احتجاج جاری رکھیں گے۔