Updated: July 17, 2026, 8:03 PM IST
| Tokyo
جاپان کی پارلیمنٹ نے شاہی خاندان کے سکڑتے ہوئے حجم کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے امپیریل ہاؤس قانون میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ نئی قانون سازی کے تحت شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی خواتین شادی کے بعد بھی اپنی شاہی حیثیت برقرار رکھ سکیں گی، جبکہ سابق شاہی شاخوں کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے مرد افراد کو مخصوص شرائط کے تحت شاہی خاندان میں شامل کیا جا سکے گا۔
جاپانی پارلیمنٹ۔ تصویر: ایکس
جاپان کی پارلیمنٹ، جسے ڈائیٹ (Diet) کہا جاتا ہے، نے جمعہ کو شاہی خاندان سے متعلق امپیریل ہاؤس قانون میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی، جن کا مقصد شاہی خاندان کے مسلسل سکڑتے ہوئے حجم کا مسئلہ حل کرنا ہے، تاہم قانون میں مردوں تک محدود شاہی جانشینی کا اصول برقرار رکھا گیا ہے۔ جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو نیوز کے مطابق، یہ ۱۹۴۷ء میں نافذ ہونے والے امپیریل ہاؤس قانون میں پہلی بڑی ترمیم ہے۔ ترمیم کے تحت اب ان سابق شاہی شاخوں سے تعلق رکھنے والے ۱۵؍ سال یا اس سے زیادہ عمر کے مرد افراد کو، جو تاریخی طور پر شاہی خاندان سے وابستہ تھے، مخصوص قانونی طریقۂ کار کے ذریعے شاہی خاندان میں شامل کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: شیخ حسینہ و خاندان سے وابستہ تقریباً ۶؍ ہزارکروڑ روپئے کے اثاثے منجمد
اس کے علاوہ، شاہی خاندان کی خاتون ارکان، جو عام شہریوں سے شادی کریں گی، اب اپنی شاہی حیثیت برقرار رکھ سکیں گی۔ اس سے قبل قانون کے تحت ایسی خواتین کو شادی کے بعد شاہی خاندان چھوڑنا پڑتا تھا۔ تاہم نئے قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایسی شہزادیوں کے شوہر اور ان کی اولاد شاہی خاندان کا حصہ نہیں بنیں گے اور ان کی حیثیت عام شہریوں کی ہی رہے گی۔ قانون میں یہ بھی برقرار رکھا گیا ہے کہ تختِ شاہی پر صرف وہی مرد بیٹھ سکتا ہے جو پدرانہ (مردانہ) شاہی نسب سے تعلق رکھتا ہو۔ اس طرح خواتین یا مادری نسب سے تعلق رکھنے والے افراد کو جانشینی کا حق نہیں دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، دوسری جنگ عظیم کے بعد ۱۹۴۷ء میں امریکی قبضے کے دوران نافذ کیے گئے امپیریل ہاؤس قانون کے تحت ۱۱؍ سابق شاہی شاخوں کے ۵۱؍ افراد کو شاہی خاندان سے خارج کر دیا گیا تھا۔ نئی ترمیم کے بعد انہی سابق شاہی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے مرد افراد کو دوبارہ شاہی خاندان میں شامل کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے، جس سے مستقبل میں مرد وارثوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس قانون کی منظوری کے دوران حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق، جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کی قیادت میں قائم قدامت پسند حکمران اتحاد پر الزام لگایا گیا کہ اس نے پارلیمان میں مناسب بحث کے بغیر قانون منظور کرایا اور ہر صورت مردانہ جانشینی کی روایت برقرار رکھنے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش کی رباب فاطمہ کو افغانستان کیلئے خصوصی نمائندہ مقرر کیا
جاپان کی شاہی سلطنت کو دنیا کی قدیم ترین مسلسل موروثی بادشاہت سمجھا جاتا ہے، جس کی تاریخ تقریباً ۲۶۰۰؍ برس پر محیط ہے۔ تاہم سخت جانشینی قوانین، کم شرح پیدائش اور آبادیاتی تبدیلیوں کے باعث شاہی خاندان کے ارکان کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت جاپان کے شاہی خاندان میں ۲۰؍ سے بھی کم افراد شامل ہیں اور تخت کے صرف چند ہی مرد وارث موجود ہیں۔ موجودہ جانشینی کی ترتیب کے مطابق ولی عہد شہزادہ اکیشینو ، جو شہنشاہ ناروہیتو کے چھوٹے بھائی ہیں، پہلے نمبر پر ہیں۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے شہزادہ ہِساہیتو دوسرے نمبر پر ہیں، جبکہ شہنشاہ کے بزرگ چچا شہزادہ ہٹاچی بھی جانشینی کی فہرست میں شامل ہیں۔ شہزادہ ہِساہیتو ، جو ۲۰۰۶ء میں پیدا ہوئے تھے، موجودہ شاہی نسل کے واحد نوجوان مرد وارث ہیں اور انہیں جاپان کی مستقبل کی شاہی جانشینی میں انتہائی اہم شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔ نظرثانی شدہ قانون کے مطابق، ضرورت پڑنے پر اس قانون اور اس کے نفاذ کا ہر ۳۰؍ سال بعد جائزہ لیا جائے گا تاکہ بدلتے حالات کے مطابق مزید اصلاحات پر غور کیا جا سکے۔