• Mon, 09 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک ہزار سے زائد دودھ سینٹروں کوہٹانے کے حکم سے ملازمین اور مالکان میں بے چینی

Updated: February 09, 2026, 3:58 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

دودھ ڈسٹری بیوٹر اسوسی ایشن کی بی ایم سی کے متعلقہ محکمہ کے افسر سے ملاقات ، نظرثانی کا مطالبہ۔اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر سے مداخلت کرنے کی اپیل ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

شہر اور مضافات میں بعض اسٹیشنوں کے اطراف اور خصوصی طور پر چھتر پتی شیواجی ٹرمنس و چرچ گیٹ اسٹیشنوں پر کئی دودھ کے اسٹال موجود ہیں جس میں دودھ اور اس سے بننے والی اشیاء کے علاوہ بھجیا ، وڑا پاؤاور دیگر کھانے پینے کی چیزیں فروخت کی جاتی ہیں۔ ان اسٹالوں پر چند سال قبل تک دودھ اور اس سے بننے والے اشیاء کو فروخت کرنے پر پابندی لگائی گئی تھی اور اب تقریباً۲۵؍ سال سے موجود اسٹالوں کو جو لائسنس ہولڈر ہیں ، کو ہٹانے اور ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امتحانی مرکز دور دینے سے طلبہ کو پریشانی کا اندیشہ

شہری انتظامیہ کے ذریعہ مذکورہ اسٹالوں کو ختم کرنے اور عنقریب ہونے والی کارروائی کی اطلاع پر ہزاروں ملازمین و مالکان میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے ’دودھ ڈسٹربیوٹرس یونین‘ اور’ دودھ وترک سینا ‘نے شہری انتظامیہ کے متعلقہ افسر سے ملاقات کرکے اپنا فیصلہ پر از سر نو غور کرنے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ اس مسئلہ کے حل کیلئے اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر سے مداخلت کرنے اور ہزاروں ملازمین کو بے روز گار ہونے سے بچانے کی اپیل کی گئی ہے۔واضح رہے کہ بی ایم سی نے اسٹیشنوں کے اطراف ۲۰۰۵ء میں دودھ سینٹروں کے قیام کی اسکیم متعارف کرائی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: جی ایم مومن ویمنس کالج میں ’شخصیت سازی اور کردار سازی‘ کے عنوان پراجلاس

گزشتہ ۲۵؍ برسوں سے چھتر پتی شیواجی ٹرمنس اور چرچ گیٹ کے اطراف ایک دو نہیں بلکہ ایک ہزار ۸۱۱؍ اسٹال دو دھ ، اس سے بننے والی دیگر مصنوعات کے علاوہ کھانے پینے کی دیگر چیزیں فروخت کرکے اسٹال مالکان اور ملازمین اپنی اور اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتے ہیں۔ دودھ وترک سینا کے صدر رام کدم اور خزانچی ولاس بھجبل نے شہری انتظامیہ کے ذریعہ ان اسٹالوں کو ختم کرنے کے منصوبہ اور عنقریب انہیں ختم کرنے کی کارروائی کی اطلاع پر برہن ممبئی دودھ یوجنا کے جنرل منیجر اور ورلی ڈیری انچارج کے منیجر سے ملاقات کی اور اپنے فیصلہ پر دوبارہ غور کرنے اورضمن میں کی جانے والی کارروائی کے فیصلہ کو رد کرنےکی اپیل کی۔

انہوںنے بتایا کہ ۲۰۰۵ء سے ۲۰۱۵ء تک بی ایم سی نے آرے دودھ اسٹال اسکیم کے تحت نہ صرف چرچ گیٹ اور چھترپتی شیواجی ٹرمنس بلکہ دیگر اسٹیشنوں کے اطراف بھی اسٹال لگانے کی اجازت ہی نہیں دی تھی بلکہ باقاعدہ لائسنس جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: نوجوانو!اپنی زندگی بدلیں اور نشے سے دور رہیں۔ ممبرا سنی اجتماع میں علماء کا خطاب

انہوں نے بتایا کہ ۲۰۰۵ء تا ۲۰۱۵ء کے درمیان تک بی ایم سی نےان اسٹالوں پر دودھ اور دودھ سے بننے والے اشیاء فروخت کرنے کی اجازت دی تھی اور بعد میں اسے بند کرنے کے علاوہ دیگر کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب اچانک ان اسٹالوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا جس سے ہزاروںافراد کا روزگار جڑا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK