Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کے ذریعے پرل ہاربر کا حوالہ دینے پر جاپان میں بے چینی

Updated: March 22, 2026, 7:02 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعے پرل ہاربر کا حوالہ دینے پر جاپان میں شدید عوامی بے چینی پائی جارہی ہے، جبکہ دوران گفتگو وزیراعظم تاکائیچی کی خاموشی پر مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے۔

President Donald Trump speaks during a meeting with Japan`s Prime Minister Sanae Takaichi . Photo: PTI
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جاپان کی وزیر اعظم سانائی تاکائچی کے ساتھ۔ تصویر: پی ٹی آئی

امریکی صدر کا۱۹۴۱ء میں ہوائی میں بحری اڈے پر جاپان کے حملے کا حوالہ دینے سے جاپانی عوام میں بے چینی پھیل گئی ہے، جبکہ وزیراعظم تاکائیچی کی خاموشی پر مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے۔جاپان میں شرمندگی، الجھن اور بے چینی پائی جاتی ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے پہلے اپنی رازداری کا جواز پیش کرنے کے لیے دوسری جنگ عظیم کے دوران پرل ہاربر حملے کا حوالہ دیا۔دراصل وہائٹ ہاؤس میں جمعہ کو جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے ساتھ نیوز کانفرنس کے دوران ٹرمپ سے ایک صحافی نے پوچھا کہ انہوں نے ایران پر امریکہ - اسرائیل حملے کے بارے میں یورپ اور ایشیا میں اتحادیوں کو پہلے سے کیوں نہیں بتایا۔جواب میں ٹرمپ نے اپنے فیصلے کے دفاع میں پرل ہاربر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’حیرت کے بارے میں جاپان سے بہتر کون جانتا ہے؟ آپ نے مجھے پرل ہاربر کے بارے میں کیوں نہیں بتایا، ٹھیک ہے؟

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر بجلی گھروں پر حملے کی دھمکی

اس کے بعد، سوشل میڈیا پر ردعمل میں امریکی صدر کی جانب سے جہالت اور بدتمیزی کے الزامات سے لے کر یہ دعوے شامل تھے کہ وہ جاپان کو ایک برابر کا پارٹنر نہیں سمجھتے۔بعد ازاں ٹرمپ کے تبصروں پر جاپان کی طرف سے احتجاج کرنے کے مطالبات بھی سامنے آئے۔ساساکوا پیس فاؤنڈیشن کے سینئر فیلو سونیو واتانابے نے سنیچر کو اخبار نکئی میں ایک تحریر میں کہا کہ یہ ریمارکس اشارہ دیتے ہیں کہ ٹرمپ ’’موجودہ امریکی عام فہم کے پابند نہیں ہیں۔‘‘ اس کے علاوہ واتانابے نے لکھا، ’’مجھے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ تبصرہ سوال پوچھنے والےجاپانی صحافی یا وزیر اعظم تاکائیچی کو شریک جرم بنانے کے لیے کیا گیا تھا تاکہ سفارتی مذاکرات کے دوران اور اتحادی ممالک کو بتائے بغیر ایران پر ان کے چھپے حملے کا جواز پیش کیا جا سکے۔‘‘
واضح ر ہے کہ امریکہ اور جاپانی لیڈر اس موضوع پر احتیاط سے چلنا چاہتے ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے محتاج ہیں، واشنگٹن ۵۰؍ ہزار فوجیوں اور طاقتورجدید ہتھیاروں کی میزبانی کے لیے جاپان پر انحصار کرتا ہے، اور جاپان ،جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کو روکنے کے لیے امریکی جوہری پناہ پر انحصار کرتا ہے۔یاد رہے کہ جاپان کا دوسری جنگ عظیم کے بعد کا آئین اپنے دفاع کے علاوہ طاقت کے استعمال پر پابندی لگاتا ہے، لیکن تاکائیچی اور دیگر عہدیدار اب فوج کے کردار کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاکائیچی، جو ایک سخت گیر قدامت پسند ہیں، کو کچھ لوگوں نے اس لیے سراہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے تبصروں پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، اور انہیں آنکھیں گھما کر اور قریب بیٹھے اپنے وزرا کی طرف دیکھ کر نظر انداز کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اختلافات کا فائدہ صرف اسرائیل اٹھا رہا ہے، ایران کے پڑوسیوں سے کوئی تنازع نہیں‘‘

تاکائچی کے اجلاس کا مقصد اپنے اہم ترین اتحادی کے ساتھ تعلقات کو گہرا کرنا تھا، اور وہ ٹرمپ کے یہ کہنے کے فوراً بعد پہنچیں کہ جاپان ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے آبنائے ہرمز کے تحفظ میں مدد کے لیے ان کی کال کو فوری طور پر قبول نہیں کیا۔تاہم، کچھ لوگوں نے تاکائیچی پر تنقید کی کہ انہوں نے کچھ نہیں کہا۔سابق سفارت کار اور جاپان ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے خصوصی مشیر ہیتوشی تاناکا نے ایکس پر لکھا کہ وہ تاکائیچی کو ٹرمپ کی خوشامد کرتے دیکھ کر شرمندہ ہوئے۔انہوں نے کہا، ’’قومی لیڈرکے طور پر، وہ برابر ہیں، مساوی تعلق بنانے کا مطلب خوشامد کرنا نہیں ہے۔ صرف وہی کرنا جو ٹرمپ کو خوش کرے اور اسے کامیابی قرار دینا ،اگر آپ کو نقصان نہ پہنچے تو یہ بہت افسوس ناک ہے۔‘‘
تاہم ابتدائی طور پر، سوشل میڈیا پر کچھ الزام اس جاپانی رپورٹر پر لگایا گیا جس نے سوال پوچھا تھا جس نے ٹرمپ کا پرل ہاربر والا تبصرہ اکسایا۔ٹی وی اساہی کے رپورٹر موریو چیجیوا نے بعد میں ایک ٹاک شو میں کہا کہ انہوں نے یہ سوال ان جاپانیوں کے جذبات کی نمائندگی کے لیے پوچھا جو ایران پر ٹرمپ کے یکطرفہ حملے سے خوش نہیں ہیں، اور اس لیے بھی کہ امریکہ اور اسرائیل کے جنگ شروع کرنے کے بعد اب دوسرے ممالک سمیت جاپان سے بھی مدد کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ساتھ ہی سوال پوچھنے والے صحافی نے بھی ٹرمپ کے موضوع سے ہٹ کر تبصرے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK