• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جاپان: نوجوانوں کا بزرگوں کے ساتھ بچپن کا کھیل، دو نسلوں کو قریب لانے کی کوشش

Updated: October 26, 2026, 12:06 PM IST | Akashi

جاپان کے شہر اکاشی میں ہائی اسکول کے طلبہ نے بزرگ شہریوں کے ساتھ روایتی کھیل کھیل کر نسلوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش کی۔ اکاشی کمرشیل ہائی اسکول کے شعبۂ فلاح و بہبود کے طلبہ نے مقامی فلاحی ادارے کے تعاون سے ’’فوریائے ماتسوری‘‘ یعنی میل جول کا میلہ منعقد کیا، جہاں بچپن کے روایتی کھیلوں نے نوجوانوں اور بزرگوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع دیا۔ اس سرگرمی کا مقصد محض تفریح نہیں، بلکہ بزرگ شہریوں کے ساتھ رابطہ بڑھانا اور طلبہ کو عملی طور پر فلاحی خدمت کا تجربہ فراہم کرنا بھی تھا۔

Symbolic image: INN
علامتی تصویر۔ تصویر: ایکس

جاپانی اخبار کوبے شمبن نیکسٹ کے مطابق، اکاشی کمرشیل ہائی اسکول کے شعبۂ فلاح و بہبود کے طلبہ شہر میں بزرگوں کے لیے ڈے سروس مراکز چلانے والے ادارے سانکو فُکوشی کائی کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ منصوبے پر کام کررہے ہیں۔ اسی منصوبے کے تحت ۱۷؍ اکتوبر کو تیسری جماعت کے طلبہ نے ’’فوریائے ماتسوری‘‘ یعنی میل جول کا میلہ منعقد کیا، جس میں بزرگ شہریوں کے ساتھ پرانے زمانے کے کھیل کھیلے گئے۔ اس سرگرمی کا بنیادی خیال سادہ تھا: نوجوانوں اور بزرگوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے اور ساتھ وقت گزارنے کا ایسا موقع دیا جائے جس میں رسمی گفتگو کے بجائے مشترکہ سرگرمی انہیں قریب لائے۔ روایتی کھیل اس مقصد کے لیے موزوں ذریعہ بنے، کیونکہ ان سے بزرگ اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرسکتے ہیں اور نوجوان جاپان کی پرانی تفریحی روایات سے واقف ہوسکتے ہیں۔ اس طرح کھیل محض وقت گزاری نہیں رہتے بلکہ دو مختلف نسلوں کے درمیان گفتگو شروع کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہند نژاد۱۱؍ سالہ بودھنا سیوانندن نے شطرنج میں جوڈٹ پولگر کا ۳۸؍ سالہ ریکارڈ توڑا

اس منصوبے میں طلبہ کا کردار صرف شرکا بننے تک محدود نہیں تھا۔ میلے کی منصوبہ بندی تیسری جماعت کے طلبہ نے کی، جس سے انہیں بزرگ شہریوں کے ساتھ سرگرمی ترتیب دینے، ان کی ضروریات کو سمجھنے اور فلاحی کام کے عملی پہلوؤں کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملا۔ فلاح و بہبود کی تعلیم میں ایسے تجربات اہم ہوسکتے ہیں، کیونکہ کتابی معلومات کے ساتھ حقیقی زندگی میں لوگوں سے رابطہ طلبہ کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ بزرگوں کی دیکھ بھال میں توجہ، احترام اور باہمی تعلقات کی کیا اہمیت ہے۔ جاپان سمیت کئی معاشروں میں عمر رسیدہ آبادی اور نسلوں کے درمیان رابطے کا سوال بڑھتی ہوئی توجہ حاصل کررہا ہے۔ ایسے میں اسکولوں اور فلاحی اداروں کے اشتراک سے ہونے والی سرگرمیاں نوجوانوں کو بزرگوں کی زندگیوں، تجربات اور ضروریات سے روشناس کرانے کا ایک راستہ فراہم کرتی ہیں۔ البتہ، اکاشی کے اس میلے کے طویل مدتی اثرات یا اس میں شریک بزرگوں کی تعداد سے متعلق تفصیلات دستیاب خبر میں درج نہیں ہیں؛ اس لیے اس ایک تقریب کو کسی وسیع سماجی تبدیلی کا ثبوت قرار دینے کے بجائے اسے مقامی سطح پر نسلوں کے درمیان رابطہ بڑھانے کی ایک عملی کوشش کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت اگلے۲۰؍ برسوں میں معاشی و سماجی اتھل پتھل پیدا کر سکتی ہے: بل گیٹس

اس میلے کی اہمیت اسی بات میں ہے کہ اس نے دو نسلوں کو ایک ہی جگہ اکٹھا ہونے، کھیلنے اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دیا۔ نوجوانوں کے لیے یہ بزرگوں سے براہِ راست سیکھنے کا تجربہ تھا، جبکہ بزرگوں کے لیے نوجوانوں کے ساتھ میل جول کا موقع۔ اکاشی کمرشیل ہائی اسکول اور سانکو فُکوشی کائی کا یہ اشتراک ظاہر کرتا ہے کہ معاشرتی تعلقات مضبوط کرنے کے لیے کبھی کبھی کسی بڑی مہم کے بجائے بچپن کے سادہ کھیل بھی ایک مؤثر نقطۂ آغاز بن سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK