• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصنوعی ذہانت اگلے۲۰؍ برسوں میں معاشی و سماجی اتھل پتھل پیدا کر سکتی ہے: بل گیٹس

Updated: October 24, 2026, 6:32 PM IST | Washington

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی جہاں انسانی زندگی میں آسانیاں اور خوش حالی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہیں روزگار اور سماجی ڈھانچے کیلئے بڑے چیلنجز بھی پیدا کر سکتی ہے۔ مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے باعث دنیا کو اگلی دو دہائیوں تک معاشی اور سماجی اتھل پتھل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Bill Gates. Photo: INN
بل گیٹس۔ تصویر: آئی این این

مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اگلی دو دہائیوں کے دوران معاشی اور سماجی سطح پر بڑے پیمانے پر افراتفری پیدا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق، اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو کامیابی کے ساتھ قابو میں رکھا جائے، تب بھی یہ روزگار اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کرے گی۔ جمعرات کو شائع ہونے والے ’ڈی کوڈر‘ پوڈکاسٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ۷۰؍ سالہ بل گیٹس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی معیشت کی جانب منتقلی کے نتیجے میں کچھ افراد اور طبقات کو فائدہ ہوگا، جب کہ دیگر کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس تبدیلی سے روزگار کے مواقع کی نوعیت بدل سکتی ہے اور معاشرے میں انسان کے کردار سے متعلق نئے سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی چھاپے کے دوران ۱۰؍ فلسطینی فنکاروں نے تحفظ دیا: یہودی امریکی اداکار

گیٹس نے کہا، ’’میری سب سے بڑی تشویش منتقلی کا یہ۲۰؍ سالہ دور ہے، جس میں کچھ لوگ فائدہ اٹھائیں گے اور کچھ نقصان اٹھائیں گے، جبکہ بڑے پیمانے پر تبدیلیاں اور خلل پیدا ہوگا۔ ‘‘ ان کے مطابق، معاشرے کو اس ہنگامہ خیز دور سے گزرنا ہوگا، جس کے بعد ممکنہ طور پر ایسی دنیا وجود میں آ سکتی ہے جہاں اشیا اور سہولتوں کی فراوانی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ۲۰؍ سال کا یہ عرصہ محض ایک اندازہ ہے، کوئی حتمی پیش گوئی نہیں۔ ان کے بقول، ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور اس کی ترقی کی رفتار کو محدود کرنے سے متعلق فیصلوں کے مطابق یہ مدت کم یا زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ بل گیٹس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور انسان نما روبوٹس میں ہونے والی پیش رفت مستقبل میں مشینوں کو انسانوں کے بہت سے جسمانی کام انجام دینے کے قابل بنا سکتی ہے۔ ان کاموں میں مکانات کی تعمیر، خوراک کی پیداوار اور حتیٰ کہ سرجری کرنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ٹیکنالوجیز کی بدولت اشیا اور خدمات کی قلت کم ہو سکتی ہے، تاہم معاشرے بعض سرگرمیاں جان بوجھ کر انسانوں ہی کیلئے مخصوص رکھ سکتے ہیں۔ ان میں بچوں کی دیکھ بھال، کھانا تیار کرنا، فنونِ لطیفہ اور کھیل جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: فرانس: احتجاج کے پیش نظر دکانداروں نے مدافعتی ہتھیاروں کا ذخیرہ کیا: رپورٹ

بل گیٹس نے صحت عامہ اور زراعت کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ فوائد کو بھی اجاگر کیا، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ حکومتیں اور معاشرہ اس ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی سے نمٹنے کیلئےپوری طرح تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت پر حکومتی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے اور سائبر حملوں اور حیاتیاتی خطرات سے تحفظ کیلئے تکنیکی اقدامات مضبوط کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے وابستہ خطرات سے نمٹنے کی پوری ذمہ داری صرف اس ٹیکنالوجی کو تیار کرنے والی کمپنیوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ بل گیٹس نے یہ بھی خبردار کیا کہ انتہائی سازگار حالات میں بھی مصنوعی ذہانت کی ترقی انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ ہنگامہ خیز ادوار میں سے ایک کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے اس معاملے پر تشویش ناک خبر دینے والا بننا پسند نہیں، لیکن لوگوں کو اس بارے میں نہ بتانا اس سے بھی زیادہ برا ہوگا کہ کیا ہونے والا ہے۔ بحیثیت انسان ہمارے پاس یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو کس طرح تشکیل دیتے ہیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK