Updated: February 05, 2026, 9:04 PM IST
| Tokyo
ہیروشیما اور ناگاساکی کے ایٹمی حملوں کے متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم کے شریک چیئرمین تیرومی تناکا نے کہا کہ ”موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے، مجھے احساس ہو رہا ہے کہ مستقبل قریب میں، ہم واقعی ایٹمی جنگ کا سامنا کریں گے اور تباہی کی طرف بڑھیں گے۔“
تیرومی تناکا۔ تصویر: ایکس
جاپان کے ایٹمی بم دھماکوں میں بچ جانے والے متاثرین نے جمعرات کے روز خبردار کیا کہ امریکہ اور روس کے درمیان اسلحہ کنٹرول کا آخری معاہدہ باضابطہ طور پر ختم ہوگیا ہے جس کے باعث دنیا خطرناک حد تک ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلی بار دنیا کے دو سب سے بڑے ایٹمی اسلحہ خانوں پر عائد ہر قسم کی پابندی کی حد ختم ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے جنگی اسلحہ معاہدے کی حد میں ایک سال کی توسیع کی تجویز قبول کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ’نیو اسٹارٹ‘ (New START) معاہدہ ۵ فروری کی نصف شب کو ختم ہوگیا۔ اس معاہدے کے خاتمے نے تارکِ اسلحہ کی مہم چلانے والوں اور ۱۹۴۵ء کے بم دھماکوں کے بچ جانے والے متاثرین کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
ہیروشیما اور ناگاساکی کے ایٹمی حملوں کے متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم ’نیہون ہیڈانکیو‘ جسے ۲۰۲۴ء میں امن کے نوبیل انعام سے سرفراز کیا گیا تھا، کے ۹۳ سالہ شریک چیئرمین، تیرومی تناکا نے ٹوکیو میں دیگر کارکنوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سخت وارننگ جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اس لمحے کی سنگینی کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی: ٹرمپ کا دعویٰ
تناکا نے مزید کہا کہ ”موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے، مجھے احساس ہو رہا ہے کہ مستقبل قریب میں، ہم واقعی ایٹمی جنگ کا سامنا کریں گے اور تباہی کی طرف بڑھیں گے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک میں عوامی بے نیازی انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ”وہ شاید اسے اس بات کا ثبوت سمجھتے ہیں کہ وہ ایک عظیم طاقت ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔“
تناکا اگست ۱۹۴۵ میں ناگاساکی پر ہونے والے امریکی ایٹمی حملے میں بچ گئے تھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں ہیروشیما میں تقریباً ۱۴۰،۰۰۰ اور ناگاساکی میں تقریباً ۷۴،۰۰۰ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہزاروں متاثرین تابکاری سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے لقمہ اجل بنے۔ یہ جنگی تاریخ میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی واحد مثال ہے۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ معاہدے کا خاتمہ عالمی سطح پر اسلحے کی نئی دوڑ شروع کرنے کا خطرہ پیدا کرتا ہے اور چین کو اپنا ایٹمی ذخیرہ بڑھانے پر اکسا سکتا ہے۔ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ مستقبل کا کوئی بھی معاہدہ بیجنگ کو شامل کرے گا، یہ ایک ایسا موقف ہے جس نے پیش رفت کو روک دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یوکرین جنگ: ٹرمپ کے امن اشارے کے بعد روس کا یوکرین پر بڑا میزائل حملہ
جاپانی کارکنوں نے ٹوکیو پر الزام لگایا کہ وہ علاقائی اسلحہ کنٹرول کو فروغ دینے کے لیے ناکافی اقدامات کر رہا ہے۔ ’جاپان کیمپین ٹو ایبولیڈ نیوکلیئر ویپنز‘ کے ایڈیو آسانو نے الزام لگایا کہ ”چین کے ساتھ بات چیت کو حقیقت بنانے کی قطعاً کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔“
جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ قریبی ہم آہنگی جاری رکھے گی۔ ڈپٹی چیف کیبنٹ سیکریٹری کئی ساتو نے کہا کہ جاپان امریکہ، روس اور چین پر مشتمل کثیر جہتی تخفیفِ اسلحہ کی کوششوں کے لیے پرعزم ہے، چاہے عالمی ایٹمی ڈھانچہ کمزور ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔