نتین یاہو کی کابینہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت رد کرنے پر امریکی نائب صدرجے ڈی وینس نےاسرائیل کو آئینہ دکھایا۔
EPAPER
Updated: June 20, 2026, 9:54 AM IST | Washington
نتین یاہو کی کابینہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت رد کرنے پر امریکی نائب صدرجے ڈی وینس نےاسرائیل کو آئینہ دکھایا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کی کابینہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت رد کرنے پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
امریکی نائب صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی کابینہ کے کچھ لوگ معاہدے اور کچھ لوگ صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر تنقید کر رہے ہیں، ان کو تنقید سے پہلے حقائق دیکھنے چاہئیں۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیلی کابینہ کو پیغام ہے کہ تمہارے گھروں کی حفاظت امریکی ہتھیاروں سے ہوتی ہے، اسرائیل کی حفاظت امریکی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ہوتی ہے، اسرائیل جن ہتھیاروں سے حفاظت کرتا ہے وہ امریکہ کے بنے ہوئے ہیں۔ اپنے بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے دو دنوں سے آبنائے ہرمز میں کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا، وہ معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے، اس کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت ختم کر دی گئی ہے۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ کچھ میڈیا کی جانب سے معاہدے کے شقوں کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، معاشی ریلیف کا انحصار ایران کے اپنے رویے پر ہے، ایران کے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی دیکھا جائے گا، اس کی کارکردگی دیکھتے ہوئے پابندیوں میں نرمی ہوتی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل اور حزب اللہ جمعہ سے جنگ بندی پرمتفق: امریکی عہدیدار
ان کےمطابق ڈونالڈ ٹرمپ نے تہران کو کمزور کر کے ان کا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ معاہدے کے مطابق ۶۰؍ دنوں کا دورانیہ آج سے شروع ہوا ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کا بڑا ذخیرہ جنگ کے دوران تباہ کیا جا چکا ہے۔ ایران ایسے ہتھیار یا میزائل نہیں بنائے گا جس سے دنیا کو خطرہ ہو۔ ایران کے پاس اب ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی دوبارہ کوشش نہ کرے۔ یہ بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ ایران خطے میں کالعدم تنظیموں کی مدد نہیں کرے گا۔ ایران کی معیشت بہت نیچے چلی گئی ہے، ان کو پیسوں کی ضرورت ہے، اس کے رویے کو دیکھتے ہوئے ان کو ریلیف فراہم کی جائے گی۔ جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ ایران، عمان اور دیگر ممالک آبنائے ہرمز سے متعلق میکنزم بنائیں گے، آبی گزرگاہ کے ٹول اور دیگر معاملات فائنل ڈیل میں طے ہوں گے۔