Inquilab Logo Happiest Places to Work

رائے گڑھ: اسکولی طالبات کی خستہ حال سڑک کی رپورٹنگ کا ویڈیو وائرل

Updated: August 10, 2026, 10:43 AM IST | Raigad

کونڈی وڑے گاؤں کی طالبات نے کہا ’’سمجھ میں نہیں آتا سڑک پر گڑھے ہیں یاگڑھے میں سڑک ہے؟‘‘

Reporter Student and her colleague can be seen on the road in Kondewadi village. Photo: INN
رپورٹر طالبہ اور اس کی ساتھی کونڈے وڑی گاؤں کی سڑک پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

کرجت تعلقہ کے کونڈی وڈے گاؤں کی سڑک کی خستہ حالی اب اسکولی طالبات کی گراؤنڈ رپورٹنگ کے ذریعے براہِ راست سامنے آئی ہے۔ اسکول یونیفارم میں ہاتھ میں چھتری کو مائیک بنا کر ان طالبات نے گڑھوں سے بھری سڑک پر کھڑے ہوکر براہِ راست رپورٹنگ کی اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال قائم کرتے ہوئے مبینہ بدعنوانی پر  طنزکیا۔ طالبہ کہتی ہے کہ ’’سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ سڑک پر گڑھے ہیں یا گڑھے میں سڑک ہے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’خواتین ریزرویشن۲۰۲۹ء سےنافذ ہوسکتا ہے، اسےحدبندی، مردم شماری سے جوڑنا غلط ہے‘‘

اس ویڈیو میںسڑک کی بدحالی کو بیان کرنے کے بعد آخر میں ’رپورٹر‘ طالبہ خود کا نام نیہا  اور اپنی ساتھی کا نام مانسی بتاتی ہے۔  اس ویڈیو کو دیگر دیگر طالبہ نے اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کیا ہے اور پھر سوشل میڈیا پر شیئر کیا جوتیزی سے وائرل ہوگیا ہے۔اسے عام صارفین کے ساتھ ساتھ سیاسی لیڈران نے بھی شیئر کیا ہے۔ این سی پی شرد پوار کی خواتین ونگ کی ریاستی صدر روہنی ایکناتھ کھڑسے نے ایکس پر لکھا کہ ’’جین زی نے حکومت کو ناکوں چنے چبوا دئیے ہیں۔ حکومت کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جنریشن الفااس سے بھی ایک قدم آگے ہے۔جہاں جین زی نے حکومت کے ہوش اڑا دیے ہیں، وہیں جنریشن الفا حکومت کو ایسا پریشان کرے گی کہ اسے سنبھلنا مشکل ہو جائے گا۔آنے والی نسل کی سب سے بڑی خوبی ان کا ’’نڈر‘‘ہونا ہے۔ کونڈی وڑے گاؤں کی اسکولی طالبات کی یہ ویڈیو اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔شاباش بیٹیوں! جو کام بڑے صحافی نہیں کر سکے، وہ تم نے کرکے دکھا دیا۔ جب بھی رائے گڑھ آؤں گی، آپ سے ضرور ملاقات کروں گی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK