راشٹریہ علماء کونسل کےنائب صدر کی شکایت اور جدوجہد کےسبب بی ایم سی کی جانب سے اقدام ۔شمشان بھومی سے متصل یہ پلاٹ ۲۰۱۳ء میں قبرستان کیلئے ریزرو کیا گیا تھا اور اسے ڈی پی میں بھی نشان زد کیا گیاتھا۔
جوگیشوری : قبرستان کیلئے مختص پلاٹ پرتعمیرات کیخلاف انہدامی کارروائی - تصویر:آئی این این
یہاںقبرستان کیلئے مختص پلاٹ پر تعمیرات کے خلاف برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی جانب سے انہدامی کارروائی کی گئی۔شمشان بھومی سے متصل یہ پلاٹ ۲۰۱۳ء میں قبرستان کیلئے ریزرو کیا گیا تھا اور اسے ڈیولپمنٹ پلان (ڈی پی )میں بھی ریزرویشن کے طور پر دکھاتے ہوئے نشان زد کیا گیا تھا۔ اس پلاٹ پر قبضے کی وضاحت آرٹی آئی کے ذریعے حاصل کردہ معلومات سے ہوئی تھی ۔ یہ قطعہ اراضی جوگیشوری ہائی وے پر بالاصاحب ٹھاکرے اسپتال کے سامنے سروس روڈ پر واقع شمشان بھومی سے متصل ہے۔ اس پلاٹ کا سی ٹی ایس نمبر ۲۲۷؍مجاس ولیج ہے۔ راشٹریہ علماء کونسل مہاراشٹر کے نائب صدر اور کوآرڈینیٹر شان الحسن سیدکی شکایت اور مسلسل جدوجہد کےسبب بی ایم سی کی جانب سے گزشتہ ہفتے یہ کارروائی کی گئی۔
۲۰۱۳ءسے اب تک کی گئی کوشش اوربی ایم سی کی کارروائی
راشٹریہ علماء کونسل کے نائب صدر شان الحسن سید نے نمائندۂ انقلاب کو دیگر تفصیلات سے آگاہ کراتے ہوئے بتایاکہ ’’۲۰۱۳ءمیں یہ زمین قبرستان کیلئے ریزروکی گئی تھی۔۲۰۱۷ء میں مقامی سیاستدانوں اور زمین مافیا کے ذریعے اس پر قبضہ کیا گیا پھرماروتی کا شوروم بنایا گیا۔اس کے خلاف ۲۰۱۹ء میں شکایت کی گئی جس پر بی ایم سی نے نوٹس لیتے ہوئے جزوی طور پرانہدامی کارروائی کی۔ اس کے بعد ۲۰۱۹ء میںیہاں ایم جی موٹرس کا شوروم بنایا گیا۔اس پلاٹ پرقبضے کے خلاف ۲۰۲۴ء پھر شکایت کی گئی ا ور میونسپل کمشنر بھوشن گگرانی سے قبرستان تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ۶؍مارچ ۲۰۲۵ء کو وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس، نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار ، وزیر مملکت برائے شہری ترقیات مادھوری مسال، ایڈیشنل چیف سیکریٹری برائے شہری ترقیات اور دیگر شعبوں میں تحریری شکایت کی گئی اور اسمبلی میں توجہ طلب نوٹس کے ذریعے بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا۔اس کےبعد امسال بی ایم سی کمشنر بھوشن گگرانی (۳۱؍مارچ ۲۰۲۶ء کوسبکدوش ہوئے) سے دوبارہ ملاقات کی گئی اورکارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔بالآخر گزشتہ ہفتے جمعرات کو انہدامی کارروائی کرتے ہوئے قبرستان کے لئےمختص کئے گئے اس پلاٹ کو دینے کا وعدہ کیاگیا۔
اس مسئلے کا کیسے علم ہوا ؟
راشٹریہ علماء کونسل کے نائب صدر سے یہ پوچھنے پر کہ آپ کو اس مسئلے کا کیسے علم ہوااورآپ نے اس پلاٹ سے قبضہ ہٹوانے کےلئے کس مقصد کےتحت کوشش کی تو شان الحسن سید نے بتایا کہ ’’میرے ایک دوست عمران بھائی نے بتایا تھا اور کاغذات بھی دیئے تھے اورانہوں نے آر ٹی آئی سے تفصیل منگوائی تھی تو اس کی وضاحت ہوئی ۔جہاں تک مقصد کی بات ہے تو آبادی میں اضافے کے تحت قبرستان کی ضرورت ہے اور اسی سبب شمشان بھومی بھی بنا ہے ۔بی ایم سی کے ضابطے کے تحت جہاں بھی شمشان بھومی کیلئے جگہ الاٹ کی جاتی ہے، وہاں مسلمانوں اورعیسائیوں کیلئے بھی قبرستان کی جگہ مختص کی جاتی ہے ۔ اسی لئے یہ کوشش کی کہ اس جگہ پر قبرستان تعمیر کیا جائے تاکہ تدفین میں آسانی ہو۔‘‘
شوروم میں کام کرنے والوں کا اعتراف
بی ایم سی کی جانب سے کی گئی انہدامی کارروائی کے تعلق سے انقلاب نے جب رابطہ قائم کیا تو سپریا نام کی خاتون نے فون اٹھایا اور کہاکہ ابھی وہ شوروم بند کردیا گیا ہے، وہاں مرمت کام کام چل رہا ہے، آپ ہمارے سینئر دپیش سرسے بات کیجئے مگرابھی وہ مصروف ہیں،آپ سےوہ خود بات کریں گے۔ دپیش نےفون کرکے بتایا کہ بی ایم سی کی جانب سے کارروائی کی گئی ہے، ابھی وہ شورم بند کردیا گیا ہے اور سب کو ملاڈ کے شوروم میں منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوںنے مزید بتایاکہ وہ سیلز ڈپارٹمنٹ میںکام کرتے ہیں، مزید وضاحت لینڈ لارڈ کی جانب سے کی جاسکتی ہے۔خبر لکھے جانے تک اس نمائندے نے دیکھا کہ انہدامی کارروائی کے بعد اب وہاں بینر پر لکھا گیاہے کہ اس ایریا پر تعمیرجاری ہے، وقتی طورپر تمام سروسیز ملاڈ منتقل کردی گئی ہیں۔ اس سے یہ سوال قائم ہوتاہےکہ کیا قبرستان کیلئے مختص اس پلاٹ پر بآسانی قبرستان کی تعمیر ممکن ہے۔