اعلامیے میں خطے کی سلامتی، غزہ، ایران، لبنان، آبنائے ہرمز اور کئی اہم معاملات پر مشترکہ مؤقف اختیار کیا گیا۔
EPAPER
Updated: June 27, 2026, 2:23 PM IST | Manama
اعلامیے میں خطے کی سلامتی، غزہ، ایران، لبنان، آبنائے ہرمز اور کئی اہم معاملات پر مشترکہ مؤقف اختیار کیا گیا۔
منامہ( ایجنسی):بحرین میں ہونے والے امریکہ اور خلیجی تعاون کونسل کے مشترکہ وزارتی اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں خطے کی سلامتی، غزہ، ایران، لبنان اور آبنائے ہرمز سمیت کئی اہم معاملات پر مشترکہ مؤقف اختیار کیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیے کے مطابق شرکاء نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیا گیا اور اس میں پاکستان اور قطر کی سفارتی ثالثی کی تعریف کی گئی۔اعلامیہ میں غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فلسطینی کو زبردستی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا جبکہ عارضی طور پر جانے والوں کو واپسی کا حق حاصل ہوگا اور انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی اور شہریوں کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
مشترکہ اعلامیہ میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں جاری مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ بات چیت دیگر علاقائی تنازعات کے باوجود جاری رہنی چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ کے دور اقتدار میں آئی سی ای کی حراست میں اموات میں ۱۴۰؍فیصد اضافہ
اعلامیہ میں کہا گیا کہ لبنان کی مکمل خودمختاری کے لئیے تمام غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور طاقت کے استعمال کا اختیار صرف لبنانی ریاست کے پاس ہونے پر زور دیا گیا جبکہ لبنانی مسلح افواج کی حمایت جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا۔خلیج تعاون کونسل کے اعلامیہ میں ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اعلامیہ میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون صلاحیت اور خطے میں اس کے اتحادی مسلح گروہوں سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان تمام معاملات کو بھی سفارتی مذاکرات کا حصہ بنایا جانا چاہئے۔
اجلاس کے شرکاء نے آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی حمایت کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس، فیس یا آبی گزرگاہ پر کنٹرول قائم کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا۔مشترکہ اعلامیہ میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، بین الاقوامی قوانین کے احترام، سفارتی حل اور علاقائی استحکام کے لئے مشترکہ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اسی دوران ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کے ذمے دار امریکہ، اسرائیل اور ایران پر حملوں میں شریک ممالک ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار سلامتی غیر ملکی مداخلت کے بغیر علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے، آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کا انتظام اسلام آباد میمورنڈم کے آرٹیکل۵؍ کے مطابق کیا جائے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین مستقبل میں ایران کیخلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ اور جی سی سی کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان کو مداخلت پسند، غیر ذمے دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی پالیسیاں خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دیتی ہیں۔